ریاست میں بی جے پی ممبر پارلیامنٹ کے ’خون خرابہ ‘ والے بیان پر کانگریس برہم ، کارروائی کا مطالبہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th February 2018, 3:38 PM | ریاستی خبریں |

بنگلور13 فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کرناٹک میں آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے کر بی جے پی اور کانگریس دونوں پارٹیاں ایک دوسرے پر حملہ آور ہیں۔ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے پر حملہ کرنے کا کوئی بھی موقع نہیں چھوڑ رہی ہیں۔ اس کی تازہ مثال شوبھا کرن لاجے کا وہ بیان ہے، جس میں انہوں نے کہاکہ اگر بہمنی سلطانوں کی جینتی منائی گئی تو ریاست بھر میں خون خرابہ ہو گا۔کرناٹک کے گلبرگہ سے کانگریس ممبر اسمبلی اور ریاست کے موجودہ طبی تعلیم کے وزیر ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل نے حال ہی میں کہا تھا کہ گلبرگہ میں ’’بہمنی جشن‘‘بھی منایا جائے گا۔ شوبھا کرن لاجے نے ا س بیان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خون خرابہ والی بات کہی ہے ۔مرتعش زدہ اس انتخابی ماحول میں جب کرناٹک کے وزیر توانائی ڈی شیو کمار کو خون خرابہ والی دھمکی کی خبر ملی تو انہوں نے کہا کہ شوبھا کرن لاجے پریشانی کھڑی کرنے والی عورت ہے، انہو ں نے اس کے علاوہ یہ کہا کہ میں بی جے پی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔ جب این ڈی ٹی وی نے ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل سے اس بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھاکہ گلبرگہ اور اس کے آس پاس کے علاقے میں راشٹر کوٹ اور بہمنی سلطنت کا اثرات اب بھی نظر آتے ہیں ؛ لہٰذاکنٹر زبان،شعبہ ثقافت راشٹرکوٹ اور بہمنی جشن 4 سے 6 مارچ کو منانے جا رہا ہے، جس میں فن و ثقافت کی جھانکی بھی پیش کی جائے گی ۔ راشٹرکوٹ اور بہمنی جشن 4 سے 6 مارچ کے درمیان گلبرگہ میں منایا جائے گا۔ ضلع انتظامیہ 4 اور 5 کو راشٹرکوٹ تہوار اور 6 تاریخ کو بہمنی جشن منانے کی تیاری کر رہی ہے ۔راشٹرکوٹ 6ویں سے 10 ویں صدی تک اور بہمنی سلطنت کی 15 ویں سے 17 ویں صدی میں ملک کے جنوب مغربی علاقے میں حکمرانی تھی۔ اس سے قبل پہلے یدی یورپا کے اس ٹویٹ کی وجہ سے دونوں پارٹیاں آپس میں بھڑ گئی، جس میں انہوں نے راہل گاندھی پر الزام لگایا کہ وہ چکن کھا کرکوپل کنک چلا نرسمہا سوامی مندر کے درشن کے لیے گئے تھے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

ہمیں اپنی چھٹیوں سے لطف اندوزہونے دیجئے : جسٹس سیکری

کرناٹک میں اقتدار کو لے کر تنازعہ پر سماعت مکمل کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج کہا کہ اب ہمیں اپنی چھٹیوں سے لطف اندوز ہونے دیجئے۔ عدالت عظمیٰ میں تین ججوں کے ایک بنچ کی صدارت کر رہے جسٹس اے کے سیکری نے جب عجیب انداز میں یہ تبصرہ کیا اس وقت عدالتی کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔

کرناٹک سیاسی بحران: یہ آئین اور دستور کی جیت ہے :ملی کونسل

کرناٹک میں جاری سیاسی ہنگامہ آرائی پر آج پہلی مرتبہ ملک کی معروف تنظیم آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے ردعمل کا اظہا رکرتے ہوئے کہاکہ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت نے وہاں دستور کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کی تھی

کرناٹک کے عوام نے تینوں پارٹیوں کو خوش کردیا

تمام ہنگامی حالات کا سامنا کرنے کے بعد کرناٹک کی سیاست ایک اطمینان بخش مرحلہ تک پہنچ گئی ہے ۔ ایڈی یورپا نے استعفیٰ دے دیا ، جے ڈی ایس اور کانگریس کی مخلوط حکومت کا بننا تقریباًطے ہے۔

بی جے پی کی حکومت گرنے کے بعد اب کمارا سوامی ہوں گے نئے وزیراعلیٰ، چہارشنبہ کو لیں گے حلف

بی جے پی رہنما بی ایس ایڈی یورپا کے استعفیٰ کے ساتھ ہی جے ڈی ایس کے ریاستی سربراہ ایچ ڈی کمارسوامی کی قیادت میں کرناٹک میں تین دن پرانی بی ایس ایڈی یورپا حکومت بلاخر آج ختم ہوگئی جب چیف منسٹر ایڈی یورپا نے اعلان کیا کہ وہ ایوان میں اکثریت کے امتحان میں سامنا نہیں کرگے بلکہ اس سے ...

ہندوستانی سیاست کے لئے تاریخی دن: سدارمیا، چندرابابو نائیڈو، ممتابنرجی اوردیگر لیڈروں نے جمہوریت کی جیت قرار دیا

کرناٹک اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے سے پہلے بی جے پی لیڈر یدی یورپا نے وزیراعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ یدی یورپا کے استعفیٰ پر تمام لیڈروں نے ردعمل ظاہر کیا۔