گستاخی رسول معاملہ میں پولس کی زیادتی قصوروارکے بجائے مسلمانوں کی گرفتاری؛ جمعیۃ علماء کامٹی حلقہ ناگپور کا احتجاج 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th August 2017, 1:05 PM | ملکی خبریں |

ناگپور/مہاراشٹر12/ اگست (ایس او نیوز/ پریس ریلیز)ناگپور کے مضافات میں کامٹی کے علاقے میں نر کھیڑ نامی مقام پرپچھلے دنوں سوشل میڈیا پروندے ماترم نر کھیڑ نامی واٹس گروپ پر حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخانہ پوسٹ وائرل ہوتے ہی مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی ۔اور قریب تھا کہ فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑتا۔لیکن مسلم رہنماؤں بالخصوص جمعیۃعلماء کامٹی کے ذمہ داروں نے نوجوانوں کو قابو میں کیا اور اس طرح ایک بڑا فساد ہونے سے ٹل گیا۔اس کے بعد محکمہ پولس نے خاطیوں کے بجائے بے قصور مسلم نوجوانوں ہی کی گرفتاری شروع کردی ۔جبکہ خاطی شر پسند کھلے عام دندناتے ہوئے گھوم رہے ہیں ۔یہ اطلاع آج اخبارات کو حافظ مسعود احمد (نائب صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر )نے دی۔ 

حافظ مسعود احمدنے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد محکمہ پولس کو توچاہئے تھا کہ حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو گرفتار کر کے ان کو قرار واقعی سزا دیتے ،لیکن پولس محکمہ نے اپنی تعصب کی عینک کو لگا کر ان کو کھلی چھوٹ دے دی جس سے وہ آزاد گھوم رہے ہیں ، اور بے قصور مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر کے انہیں سلاخوں کے پیچھے ٹھونساجارہاہے ۔

موجودہ حالات کے پیش نظر جمعیۃ علماء ضلع ناگپور کا ایک وفد نے حافظ مسعود احمد کی قیادت میں بھرنے صاحب ڈی سی پی اسپیشل برانچ ناگپور سے ملاقات کرکے بے قصور مسلم نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ،ساتھ ہی خاطیوں کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا ۔

واضح رہے کہ نر کھیڑ نامی گاؤں میں گزشتہ دنوں ’’وندے ماترم نر کھیڑ‘‘نامی واٹس اپ گروپ پر +91-7042714029نمبر(شیندرے)نامی شخص نے ایک پوسٹ اپ لوڈ کیا تھا ،جس میں امام الرسل حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی تھی،اور اسلامی تعلیمات پر بھی چند بیہودہ ریمارک کئے گئے تھے۔اوراس سے پہلے ایک پمفلیٹ کے ذریعہ سے اسلامی تعلیمات کے متعلق مسلمانوں کو چیلنج کیا گیاتھا۔اور ان سے کسی بھی طرح کے کاروباری لین دین نہ کرنے اور مذہبی تیوہار پر بھی پابندی لگانے کی بات لکھی گئی تھی۔ 

گستاخی رسول ﷺ کے معاملہ کو اشتعال پیدا کرنے کی غرض سے وندے ماترم کو موضوع بنا دیا گیا ہے،جس کے تحت اب تک ۱۲249 مسلم نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں آچکی ہے اور ۵۰؍ کے قریب مسلمان نشانہ پر ہیں ،جمعیۃعلماء کے وفد ان بے قصور وں کی رہائی کی مانگ کی اور اصل موضوع گستاخی رسول کے مجرم کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ۔

اس وفد میں مولانا ممتاز قاسمی (صدر جمعیۃ علماء کامٹی)حافظ مہروز،مختار احمد (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء کامٹی)حفظ النصیر(خازن جمعیۃ علماء کامٹی)عابد تاجی،مظاہر انور،شمیم اختر،محسن خان وغیرہ شامل تھے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

جموں کشمیر میں بی جے پی۔پی ڈی پی سرکار گرگئی؛ محبوبہ مفتی نے سونپا گورنر کو اپنا استعفیٰ

جموں کشمیر میں بی جے پی نے محبوبہ مفتی سرکار سے اپنی حمایت واپس لے لی ہے جس کے ساتھ ہی ریاست میں تین سالوں سے چلی آرہی گٹھ بندھن سرکار ختم ہوگئی ہے۔ بی جے پی کے سرکار سے  الگ ہونے کی اطلاع کے فوری  فوری بعد محبوبہ نے گورنر این این بوہرا  کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔

ریاستی کانگریس لیڈروں کو نصیحت کرنے راہل گاندھی سے درخواست بہتر انتظامیہ کو یقینی بنانے دونوں پارٹیوں کے درمیان تال میل ضروری: ایچ ڈی کمار سوامی

ریاستی وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے آج دہلی میں کانگریس صدر راہل گاندھی سے ملاقات کر کے ریاست کی سیاسی صورتحال سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ ا س ملاقات کے دوران راہل گاندھی نے کمار سوامی کو مشورہ دیا کہ کرناٹک میں کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کا یہ ابتدائی دور ہے۔

کسانوں کا قرضہ معاف کرنے مرکزی حکومت سے تعاون کی اپیل 85لاکھ سے زائد کسان مشکلات کا شکار ہیں ، مصیبت کی گھڑی میں ہاتھ تھامنا مرکزی و ریاستی حکومت کاکام ہے: کمار سوامی

قرض کی دلدل میں پھنسے ہوئے کسانوں کو اوپر لانے کی خاطر کئے جارہے قرضہ معاف اسکیم کو مرکزی حکومت 50فی صد امداد فراہم کرے ، اس خیال کااظہار ریاستی وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے کیا۔

اتر پردیش میں گئو کشی کی افواہ پر مسلم نوجوان کا پیٹ پیٹ کر قتل

ملک میں گئو کشی روکنے کے نام پر غنڈہ گردی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ تازہ معاملہ اتر پردیش میں پلکھوا کے بچھیڑا خرد سے سامنے آیا ہے جہاں گوکشی کی افواہ پر کچھ شرپسندوں نے قاسم نامی نوجوان کو بری طرح مارا پیٹا اور قتل کر دیا۔

سکھ زائرین کی کار ٹرک سے جا ٹکرائی ایک بچہ، تین خواتین سمیت 7ہلاک 

پنجاب کے امرتسر کے پاس سموار اسپورٹس یوٹی لیٹی وہیکل کی ٹرک سے تصادم میں سات لوگ لقمہ اجل ہوگئے ۔واضح ہو کہ مہلوکین میں تین عورت سمیت ایک بچہ بھی ہے ۔ یہ تمام افرادامرتسر کے گولڈن ٹمپل کی زیارت اور پوجا ارچنا کرکے دہلی واپس آرہے تھے۔