ملک کو مودی جی نہیں، ملک کے نوجوان، کسان، خواتین اور مزدور چلاتے ہیں:راہل گاندھی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th October 2018, 10:55 AM | ملکی خبریں |

جے پور،11؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)  کانگریس صدر راہل گاندھی بدھ کو راجستھان کے بیکانیر پہنچے۔ وہاں منعقد ’سنکلپ ریلی‘ کو خطاب کرتے ہوئے انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ریاست کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے پر خوب حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ پی ایم مودی نے جی ایس ٹی یعنی گبر سنگھ ٹیکس لگایا ہے وہ لوگوں کو ڈراتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر آپ غریب ہیں تو مودی حکومت اور وسندھرا حکومت آپ کے لیے کچھ نہیں کرے گی۔ پورا بیکانیر ایک آواز میں کہے گا کہ نوٹ بندی، گبر سنگھ ٹیکس نے ہمیں برباد کر دیا، ہمارا نقصان ہوا۔‘‘ انھوں نے پی ایم مودی کا نام لیتے ہوئے سیدھے طور پر کہا کہ ’’مودی جی آپ اس ملک کو نہیں چلاتے ہیں۔ آپ کو غلط فہمی ہے اور آپ میں گھمنڈ آ گیا ہے۔ اس ملک کو نوجوان، کسان، خواتین، مزدور، چھوٹے دکاندار چلاتے ہیں۔‘‘

روزگار سے متعلق کانگریس صدر نے کہا کہ ’’وزیر اعظم کا کام آپ کی آواز سننے کا ہوتا ہے۔ کسانوں، نوجوانوں کے دل کے درد کو سمجھنے اور سننے کا ہوتا ہے۔ نوجوان کوئی مفت تحفہ نہیں مانگ رہے ہیں۔ نوجوان کام کرنا چاہتے ہیں۔ نوجوان صرف چین سے مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ نوجوان چاہتا ہے ملک میں فیکٹری بنے اور اسی فیکٹری میں ملک کے لیے کام کرنے کو ملے۔‘‘

تشہیر پر اندھا دھند خرچ کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ راجستھان میں وسندھرا حکومت ’گورو یاترا‘ نکال رہی تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اس یاترا کو روکنا ہوگا کیونکہ یہ عوام کا پیسہ ہے۔ انھوں نے کہا ’’مودی حکومت کی مارکیٹنگ چلتی ہے عوام کے پیسے سے، عوام کے پیسوں سے ان کی یاترائیں ہوتی ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے بیکانیر کے اسٹیج سے رافیل معاہدہ پر بھی آواز بلند کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’مودی جی نے کہا تھا کہ چوکیدار بناؤ، وزیر اعظم مت بناؤ۔ چوکیدار نے عوام کے 30 ہزار کروڑ روپے چھین کر امبانی کی جیب میں ڈال دیا۔ مودی جی فرانس جاتے ہیں اور ان کے نمائندہ وفد میں انل امبانی بھی جاتے ہیں۔ انل امبانی نے زندگی میں کبھی ہوائی جہاز نہیں بنایا۔ ان کے اوپر 45 ہزار کروڑ روپے کا قرض ہے، جو وہ بینکوں کو واپس نہیں دے رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ رافیل معاہدہ میں یو پی اے حکومت نے سرکاری کمپنی ایچ اے ایل کو جو ٹھیکہ دیا تھا، اسے انل امبانی کی کمپنی کو دے دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ سرکاری کمپنی کو ٹھیکہ ملنے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار ملتا۔

کانگریس صدر نے اسٹیج سے کسانوں کا ایشو بھی اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ راجستھان کے کسانوں کو ان کا حق نہیں مل رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’سی ایم وسندھرا کے راج میں کسانوں کو ان کی فصلوں کی صحیح قیمت نہیں ملتی۔ زراعت کا پانی نہیں ملتا، ایم ایس پی نہیں ملتا، اولا گرتا ہے تو معاوضہ نہیں دیا جاتا، بونس چھین لیا جاتا ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ جب کانگریس کی حکومت تھی تب کنال کے کام کے لیے 900 کروڑ روپے بھیجا گیا تھا، لیکن وہ پیسہ چھین لیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’کانگریس کی یو پی اے حکومت میں ہم نے منریگا، کھانے کا حق، راجستھان میں مفت دوائی اور کسانوں کا 70 ہزار کروڑ روپے کا قرض معاف کیا۔ آج آپ بیمہ کا پیسہ دیتے ہیں اور نقصان ہونے پر کہا جاتا ہے کہ آپ کا ہی پیسہ آپ کو واپس نہیں دیا جائے گا۔‘‘

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ہندوستان میں جیسے ہی کانگریس پارٹی کی حکومت آئے گی، تو جس طرح 70 ہزار کروڑ کا قرض معاف کیا تھا، اسی طرح کسانوں کا قرض معاف کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کا ہر نوجوان جانتا ہے کہ نریندر مودی جی نے ان سے روزگار چھینا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مالیگاؤں ۲۰۰۸ ء بم دھماکہ معاملہ،زخمیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی گواہی کا سلسلہ جاری، ڈاکٹر سعید فیضی نے گواہی بھتہ پبلک ویلفئر فنڈ میں عطیہ کردیا

مالیگاؤں ۲۰۰۸ ء بم دھماکہ معاملے میں خصوصی این آئی اے عدالت میں بم دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی گواہی بددستور جاری ہے جس کے دوران آج مالیگاؤں کے مشہور و سینئر ڈاکٹر سعید فیضی کی گواہی عمل میں آئی

دواؤں کا معیار اور نوجوانوں کو روزگار انتہائی اہم مسئلہ: پروفیسر عبداللطیف، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس (اسٹوڈنٹس وِنگ) کی تشکیل

آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی ایک میٹنگ آج ابن سینا اکیڈمی، دودھ پور، علی گڑھ میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت پروفیسر عبداللطیف (قومی نائب صدر، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس، اکیڈمک وِنگ) نے کی۔ جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر سنبل رحمن (قومی صدر، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس، خواتین ...

سکھ فسادات: میرے خلاف نہ کوئی ایف آئی آر اور نہ ہی چارج شیٹ، کمل ناتھ نے کہا،بی جے پی جھوٹ پھیلارہی ہے

مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے 1984 کے سکھ فسادات پر اٹھ رہے سوالوں پر جواب دیاہے۔کمل ناتھ نے کہاہے کہ 1984 کے سکھ فسادات میں ان کے خلاف کوئی بھی ایف آئی آر یا چارج شیٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اب اس مسئلے کواٹھانے کے پیچھے صرف سیاست ہے۔انہوں نے کہاکہ جس وقت میں کانگریس کا جنرل ...

بریلی: ایک ساتھ 58 ہندو، مسلم اور سکھ لڑکیوں کی شادی

اجتماعی شادیوں کے بارے میں تو آپ بہت سن لیں گے لیکن یوپی کے بریلی میں ایک منفرد شادی دیکھنے کوملی ہے۔بریلی میں منعقد ایک پروگرام میں ایک ساتھ ہندو، مسلم اور سکھ کمیونٹی کی غریب لڑکیوں کی شادی کرائی گئی۔ایک ساتھ جب گھوڑی پر بیٹھ کر 58 دولہا نکلے تو ہر کوئی اس منفرد بارات کو ...

1984-1993-2002فسادات: اقلیتوں کو نشانہ بنانے میں سیاسی رہنماؤں اور پولیس کی ملی بھگت تھی : ہائی کورٹ

دہلی ہائی کورٹ نے 1984سکھ مخالف فسادات معاملے کے فیصلے میں دوسرے فسادات کولے کر بھی بے حد سخت تبصرہ کیاہے ۔ جسٹس ایس مرلی دھر اور جسٹس ونود کوئل کی بنچ نے پیر کو سجن کمار کو فسادات پھیلانے اور سازش رچنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ۔ کورٹ نے کہا کہ سال 1984 میں نومبر کے ...