کارتی کی سماعت سے دہلی ہائی کورٹ کے جج نے خود الگ کیا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th March 2018, 11:08 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی ،13؍ مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس اندرمیت کور نے آئی این ایکس میڈیا کرپشن کیس میں سی بی آئی کی طرف سے گرفتار کارتی چدمبرم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت سے خود کو الگ کر لیا۔کیس سے الگ ہونے کے بارے میں جسٹس کور نے کوئی وجہ نہیں بتائی۔انہوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ اس معاملے کو چیف جسٹس کے پاس بھیجیں گے تاکہ وہ ضمانت کی درخواست کو آج ہی کسی دوسرے بنچ کو سونپ دیں۔یہ ضمانت کی درخواست کل چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس سی ہری شنکر کی بنچ کے سامنے لائی گئی تھی اور آج سماعت کے لئے درج کی گئی تھی۔کارتی کے والدین پی چدمبرم اور نلنی چدمبرم دونوں ہی سینئر وکیل ہیں۔وہ عدالت کے کمرے میں موجود تھے۔سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم کے بیٹے کارتی نے ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔اس کے کچھ گھنٹے پہلے ایک عدالت نے انہیں 24 مارچ تک عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ایک خصوصی عدالت نے آئی این ایکس میڈیا بدعنوانی معاملے میں کارتی کو عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔عدالت نے ان کی وہ درخواست بھی مسترد کر دی تھی جس میں کارتی نے خطرے کے پیش نظر تہاڑ جیل میں الگ کمرے میں رکھے جانے کی مانگ کی تھی۔عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست پر فوری سماعت کی اپیل اور جیل میں خطرے کی بات بھی مسترد کر دی۔کارتی کا کہنا تھا کہ چونکہ پچھلی یو پی اے حکومت میں بطور مرکزی وزیر ان کے والد پی چدمبرم بہت حساس مسائل سے نپٹے ہیں، اس لیے انہیں خطرہ ہے۔چنئی میں 28 فروری کو گرفتاری کے بعد سے کارتی 12 دن سے سی بی آئی کی حراست میں تھے، ایجنسی ان سے پوچھ گچھ کر رہی تھی۔سی بی آئی نے عدالت سے کہا کہ کارتی کو حراست میں رکھ کر پوچھ گچھ کرنے کی اب ضرورت نہیں ہے۔اس کے بعد عدالت نے انہیں تہاڑ جیل بھیج دیا تھا۔عدالت نے کہا کہ ان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت مقرر تاریخ 15 مارچ کو ہی ہو گی۔

ایک نظر اس پر بھی

کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا نریندر مودی کا وعدہ بھی جملہ: کانگریس

وزیر اعظم نریندر مودی نے 'مودی ایپ' کے ذریعہ آج ملک بھر کے کسانوں کو خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے اپنی حکومت کو کسانوں کا ہمدرد بتایا۔ ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے 2022 تک ملک کے کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے سمیت کئی بڑے وعدے کیے۔