بی ایم ٹی سی بھی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی مار سے متاثر 9؍لاکھ کلومیٹر طے کی ہوئی800؍بسوں کا بطور گجری کوئی خریدار نہیں، بسوں میں سہولیات فراہم کرنے وزیر ٹرانسپورٹ کی یقین دہانی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th November 2017, 10:10 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،13/نومبر(ایس او نیوز) گوڈس اینڈ سرویس ٹیکس (جی ایس ٹی) کا اثر بنگلور میٹروپالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) پربھی پڑنے لگاہے۔ بی ایم ٹی سی کی 800خستہ حال بسوں کو گجری میں ڈالنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ لیکن اس کی خریدی کے لئے کوئی بھی خریدار آگے نہیں آرہاہے۔ کیوں کہ ان پر بھی 28؍فیصد جی ایس ٹی لگایا گیاہے۔ ریاستی وزیر برائے ٹرنسپورٹ ایچ ایم ریونا کے مطابق بی ایم ٹی سی میں 9؍لاکھ کلومیٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد جس میں 800؍بسیں شامل ہیں انہیں گجری میں ڈالنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جاری ہونے سے ان بسوں اور اس کے پرزوں کی خریدی کے لئے کوئی بھی آگے نہیں بڑھ رہاہے۔ جی ایس ٹی جاری ہونے سے قبل خستہ حال بسوں اور پرزوں پر صرف 5؍فیصد ٹیکس لگایا جارہاتھا۔ مذکورہ خستہ حال بسوں کی فروخت نہ ہونے پر انہیں تمام ڈپوؤں میں کھڑی کردی گئی ہیں جس سے فی الحال چل رہی بسوں کی مرمت کرنے میں میکانکس کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ اسی کے پیش نظر اب تمام ڈپوؤں سے 10تا 15؍بسوں کو باہر نکال کر شہر کی مضافات میں چکناگٹے میں واقع بی ایم ٹی سی ورکشاپ میں کھڑی کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ وہاں بی ایم ٹی سی کی ملکیت کی کئی ہزار ایکڑ زمین ہے۔ دومقامات پر ڈمپنگ یارڈ تعمیر کرکے بسوں کو کھڑا کیا جائے گا۔ وزیر موصوف کے مطابق شہر میں ٹریفک کے مسئلہ کو حل کرنے کے مقصد سے پینیا میں واقع بسویشورا بس اسٹینڈ میں کے ایس آرٹی سی اور بی ایم ٹی سی بسوں کی سرویس شروع کی جائے گی۔ اس بس اسٹینڈ سے میٹرو کے لئے فیڈر بسوں کی سہولت بھی شروع کی جائے گی۔ کولار، مالور، چنتامنی اور چینئی کی طرف جانے والی بسوں کو کے آرپورم سے روانہ کرنے کے لئے جگہ کی تلاش جاری ہے۔ وولوو بسوں میں 90؍فیصد بسیں خراب ہوکر کھڑی ہیں ان کی مرمت کے لئے وولوو کمپنی کے ماہرین کی خدمات طلب کی گئی ہیں۔ بہت جلد سوئزرلینڈ سے میکانیکوں کی ایک ٹیم شہر کے دورہ کرے گی اور ان خراب بسوں کی مرمت کرکے انہیں دوبارہ استعمال کے قابل بنائے گی۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے حال ہی میں بتایاتھاکہ بی ایم ٹی سی اگلے ماہ مزید 400؍نئی بسوں کو سڑکوں پر اتارے گا۔ الیکٹرانک بسوں کی خریدی کے لئے مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ وجہاز رانی نیتن گٹکری سے تبادلہ خیال کے لئے وہ بہت جلد نئی دہلی جانے والے ہیں۔ مرکزی وریاستی حکومت کے فنڈ سے ان بسوں کو خریدا جائے گا۔ وزیر موصوف کے مطابق فی الیکٹرانک بس کی قیمت دو سے 3؍کروڑ روپئے ہونے کا امکان ہے۔ لیکن انہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں انہیں واضح طورپر کوئی جانکاری نہیں ہے۔ مارکو پولو بسوں کی خریدی سے بی ایم ٹی سی کو کافی نقصان پہنچاہے۔ اس کی جانچ کروائی جارہی ہے۔ شہر میں دوبارہ ڈبل ڈیکر بسوں کا تعارف کروانے پر بھی وزیر ٹرانسپورٹ غورکررہے ہیں۔ بی ایم ٹی سی میں جملہ 6430؍بسیں ہیں۔ اگلے ماہ مزید 400؍بسیں گجری کے لئے تیار ہونے والی ہیں۔ اسی کو مد نظر رکھ کر بی ایم ٹی سی نے مزید ڈیڑھ ہزار بسیں خریدنے کا فیصلہ کیاہے۔ بی ایم ٹی سی کنڈکٹرس اور جانچ افسران کے درمیان ہونے والے جھگڑوں کی روک تھام کے لئے جانچ کے دوران خصوصی اسکواڈ افسرس، ویڈیو ریکارڈنگ کریں گے۔ بسوں میں مسافروں کے تحفظ کے لئے خفیہ کیمرے لگائے گئے ہیں اور مزید 1000؍بسوں میں لگائے جانے پر غور کیا جارہاہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ضمنی انتخابات کے لئے انتخابی مہم زوروں پر

پانچ حلقوں کے ضمنی انتخابات کے لئے انتخابی مہم دن بہ دن شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ شیموگہ منڈیا اور بلاری لوک سبھا حلقوں اور رام نگرم اور جمکھنڈی اسمبلی حلقوں کے لئے کانگریس جے ڈی ایس اور بی جے پی اپنے اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔

کوئلے کی فراہمی نہ ہونے کے سبب بیشتر پاور پلانٹوں میں کام بند، دیوالی تہوار سے ریاست میں لوڈ شیڈنگ کا امکان

روشنیوں کا تہوار کہلانے والے دیوالی کااہتمام کرناٹک میں اندھیروں کے ساتھ کرنے کے خدشات پیدا ہوچکے ہیں، کیونکہ ریاست میں بجلی کے ترسیل کے اہم ترین ذرائع سمجھے جانے والے تھرمل پاور پلانٹس میں بجلی کی پیداوار کے لئے درکار کوئلہ نہیں ہے۔

کابینہ میں ردوبدل کا موضوع پھر ابھرنے لگا، 6؍ نومبر کوراہل گاندھی کے ساتھ ریاستی قائدین کی میٹنگ

ضمنی انتخابات کے بعد ریاستی کابینہ میں ردوبدل اور سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کے لئے چیرمینوں کے تقرر کے واضح اشاروں کے درمیان کانگریس اعلیٰ کمان کی طرف سے ریاستی قائدین کو پولنگ کے فوراً بعد دہلی آنے کی ہدایت دی گئی ہے۔