سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی پے کمیشن رپورٹ کے بعد: وزیر اعلیٰ سدرامیا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th January 2018, 11:02 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،13؍ جنوری(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہاکہ چھٹویں پے کمیشن کی رپورٹ ملنے کے بعد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ آج ملولی میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سدرامیا نے کہاکہ وظیفہ یاب آئی اے ایس آفیسر سرینواس مورتی کی قیادت میں حکومت نے ایک کمیشن بٹھایا ہے جو تمام امور کا جائزہ لے رہا ہے۔ رواں ماہ کے اواخر تک اس کمیٹی کی رپورٹ ملنے کی توقع ہے۔ رپورٹ ملنے کے بعد اس پر مناسب کارروائی بلاتاخیر کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ رپورٹ ملنے کے بعد ریاست کے 5.45 لاکھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں جامع پیمانے پر نظر ثانی ممکن ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ڈی گروپ میں آنے والے معمولی سرکاری ملازمین کی کم از کم تنخواہ 16؍ ہزار روپے کی جائے گی اور سی گروپ میں آنے والے ملازمین کی تنخواہ کم ا ز کم 19 ہزار روپے رہے گی۔ بی گروپ کے ملازمین کو 39 ہزار روپے اور اے گروپ کے ملازمین کو 48 ہزار روپیوں کی تنخواہ دی جاسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی حکومت اس بات پر بھی غور کررہی ہے کہ سرکاری ملازمین کے ایام کار کے نظام کو بھی بد لاجائے اور ہفتہ میں صرف پانچ دن کام کرنے کا رواج قائم کرتے ہو ئے ہفتہ اور اتوار چھٹی کا دن قرار دیا جائے۔تاہم اس کمیٹی کی رپورٹ ملنے کے بعد حکومت کوئی فیصلہ کرے گی۔ دریائے مہادائی کے تنازعہ کو سلجھانے کے متعلق حکومت کے امیدافزا ہونے کا ادعا کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ مہادائی مسئلہ پر ٹریبونل میں سماعت چل رہی ہے۔ حکومت کرناٹک کو یہ توقع ہے کہ ٹریبونل کا فیصلہ کرنا ٹک کے حق میں ہوگا۔اسی لئے حکومت گوا ٹریبونل کے فیصلہ کو ماننے پرراضی نہیں ہے۔ ریاست بھر میں حکومت کی کاررکردگی اور نئے ترقیاتی منصوبوں کی شروعات پر ایک ماہ سے مختلف اضلاع میں منعقد ہورہے سادھانا سماویش کی کامیابی پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ انتخابات اب سرپر ہیں اس کیلئے تیاریاں بڑے پیمانے پر کی جارہی ہیں۔ کانگریس کارکن ہونے کے ناطے ہر ایک کو پارٹی کا ٹکٹ پوچھنے کا اختیار ہے، لیکن امیدوار کون ہوگا اس کیلئے پارٹی اعلیٰ کمان کی طرف سے ہی فیصلہ لیا جائے گا۔ 

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

گرفتاری کے خوف سے رکن اسمبلی جے این گنیش روپوش

بڈدی کے ایگل ٹن ریسارٹ میں ہوسپیٹ کے رکن اسمبلی آنند سنگھ پر حملہ کرنے والے رکن اسمبلی جے این ۔ گنیش کے خلاف بڑدی پولیس تھانہ میں ایف آئی آر داخل کرنے کی خبر کے بعد سے گنیش لاپتہ ہیں ۔

وسویشوریا یونیورسٹی رجسٹرار پر200کروڑ کے گھپلے کا الزام گورنر نے چھان بین کے لئے وظیفہ یاب جج کو مقرر کیا ۔ تعاون کرنے ملزم کو ہدایت

وسویشوریا ٹکنالوجیکل یونیورسٹی (وی ٹی یو) کے رجسٹرار اب مشکل میں پڑگئے ہیں۔ گورنر واجو بھائی روڈا بھائی والا نے جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں،200کروڑ روپئے تک کے گھوٹالے کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔

لنگایت طبقہ کے مذہبی رہنما شیوکمارسوامی کی آخری رسومات ادا، اسلامی تعلیمات اوراردو زبان سے بھی تھی واقفیت

یاست کرناٹک کی ایک عظیم شخصیت، لنگا یت طبقہ کے مذہبی رہنما، شیوکمارسوامی جی کی آج آخری رسومات انجام دی گئیں۔ بنگلورو کے قریب واقع ٹمکورشہرمیں شیوکمارسوامی جی کولنگایت رسومات کے مطابق دفنایا گیا۔ سدگنگا مٹھ میں آج اورکل لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے سوامی جی کا آخری ...

ملک کو ایک باضابطہ دانشمندانہ انتخابی نظام کی ضرورت ہے آئین جمہوریت کی حفاظتی حصار ہے۔ اقلیت واکثریت کے توازن کو برقرار رکھنے پر حامد انصاری کازور

سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامدانصاری نے کہا کہ ملک کو ایک باضابطہ سمجھدار انتخابی نظام کی ضرورت ہے ، شفاف انتخابی ماڈیول کو فروغ کی سمت بھی کوشش ہونی چاہئے ۔