ہم جنس پرستی جرم کے دائرے میں نہیں، ہم جنس پرستی پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th September 2018, 1:03 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 6؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بینچ نے ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے باہر کر دیا ہے۔ سیکشن 377 پر فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ سماجی اخلاقیات کی آڑ میں دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ دو بالغ افراد کے درمیان باہمی رضامندی سے بنائے گئے تعلق کو جرم کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کی صدارت والی پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے کارکنوں سمیت مختلف فریقوں کو سننے کے بعد 17 جولائی کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

دفعہ  377 پر فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ " ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا چاہئے اور انسانیت دکھانی چاہئے اور یہ بھی کہا کہ پرانے خیال کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ سماج کی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے"۔

چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ ہم جنس پرستوں کو برابر کے حقوق ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنس پرستوں کو عزت کے ساتھ جینے کا حق ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پرانا حکم صحیح نہیں تھا۔  وقت کے ساتھ قانون کو بدلنا چاہئے۔

ایک نظر اس پر بھی

وزیراعظم مودی کا حملہ:4سال پہلے کسی نے سوچابھی نہیں تھا کہ سکھ فسادمعاملے میں کانگریس لیڈر کوسزا ملے گی

وزیر اعظم نریندر مودی نے 1984سکھ مخالف فسادات میں انصاف میں تاخیر کا خاکہ پیش کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ کانگریس لیڈر کو معاملے میں مجرم ٹھہرایا جائے گا۔

تین ریاستوں میں شکست کے بعداب بی جے پی صدر امت شاہ دہلی میں بوتھ انچارج کودیں گے ٹپس

بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کے صدر امت شاہ 2019کے لوک سبھا انتخابات کی تیاری کو لے کر دہلی کے اندرا گاندھی انڈور (آئی جی آئی)اسٹیڈیم میں پارٹی کی دہلی یونٹ کے قریب 12000بوتھ انچارج کو اتوار کو انتظام کی تجاویز دیں گے۔