ملک کو زعفرانی رنگ دینے بی جے پی کا خواب پورا ہونے نہیں دیں گے،زعفر انی جماعت پر تکثیری معاشرہ ،ہم آہنگی کو نقصان پہونچانے اور فرقہ پرستی پھیلانے ڈی ایم کے کا الزام

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 9th September 2018, 12:09 PM | ملکی خبریں |

چینائی،9ستمبر (ایس او نیوز)  ڈی ایم کے نے بی جے پی کے زیرقیادت مرکزی حکومت کو آج سخت ترین تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر انتخابی ڈکٹیٹر شپ چلانے کا الزام عائد کیا اور ملک کے نظام کو زعفر انی رنگ دینے اس قومی جماعت کے خوابوں کو شکست دینے کا عہد کیا ۔

ڈی ایم کے کے ڈسٹرکٹ سکریٹریز ، ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کا ایک اجلاس اس پارٹی کے صدر ایم کے اسٹالن کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ جس میں نوٹ بندی ، رافیل معاملت ، نیٹ جیسے اہم مسائل اور ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کیلئے مرکز پر غلط فیصلوں کا نتیجہ قرار دیا ۔ اس اجلاس میں منظورہ ایک قرارداد میں کہا گیا کہ ’’بی جے پی حکومت ٹاملناڈو کے مفادات نظرانداز کررہی ہے ۔ تکثیر و تنوع کو متاثر کرتے ہوئے فرقہ پرستی کو فروغ دے رہی ہے ۔ بی جے پی کی مخالفت کرنے والے سماجی کارکنوں اور تمام دوسروں کو ملک دشمن قرار دیا جارہا ہے ‘‘۔ بی جے پی کے زعفر انی خوابوں کو مستر د کریں گے ‘‘ کے زیرعنوان قرارداد میں الزام عائد کیا گیا کہ بی جے پی کی مذمت کرنے والے میڈیا کو ڈرایا یا دھمکایا جارہا ہے ۔ اقلیتوں او ر دلتوں کو کئی مقامات پر نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ چنانچہ ایک غیر معلنہ ایمرجنسی نافذ ہے ‘‘ ۔ اس دراوڑی جماعت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ’ بی جے پی نے ایک انتخابی ڈکٹیٹر شپ مسلط کردی ہے جو پارلیمانی جمہوریت کو چیلنج کررہی ہے ۔

ڈی ایم کے نے یہ الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن ، محکمہ آئی ٹی اور سی بی آئی جیسے اداروں پر بھی بی جے پی اپنا کنٹرول قائم کرچکی ہے حتی کہ عدلیہ میں بھی بحران پیدا ہوا ہے ۔ اس ضمن میں ڈی ایم کے نے رواں سال کی ابتداء میںسپریم کور ٹ کے چار سینئر ججوں کی طرف سے ظاہر کردہ اعلانیہ برہمی کا حوالہ دیا ۔ قرارداد نے مزید کہا کہ ڈی ایم کے اپنی ریاست میں بی جے پی کے فرقہ پرستی پر مبنی عزائم و منصوبوں کو بروئے کار لانے کی کبھی بھی اجازت نہیں دے گی ۔ نیز دستور کے دیباچہ میں کئے گئے عہد کی پاسداری کے لئے ہر قیمت ادا کرے گی ۔ ڈی ایم کے نے اپنی کٹر حریف اناڈی ایم کے کی زیرقیادت ریاستی حکومت کی تنقیدوں کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مواخرالذکر ’رشوت کا محور و منبع بن گئی ہے اور اس کو بیدخل کرنے کے عہد بھی کیا ریاستی حکومت کے خلاف /18 ستمبر کو ریاست گیر احتجاج منظم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔

ایک نظر اس پر بھی

جھارکھنڈمیں پھرہجومی دہشت گردی 

وزیراعظم کہتے ہیں کہ ایک واقعے کے لیے ریاست کی تنقیدنہیں کی جاسکتی لیکن جھارکھنڈمیں متعددہجومی دہشت گردی ہوچکی ہے اوریہ سلسلہ جاری ہے۔