لوک سبھا حلقوں کے ضمنی انتخاب زیادتی : ڈی کے شیوکمار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th October 2018, 12:30 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،9؍اکتوبر(ایس او نیوز) ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ومیڈیکل ایجوکیشن ڈی کے شیوکمار نے الیکشن کمیشن کی طرف سے ریاست کے تین لوک سبھا حلقوں کے لئے ضمنی انتخاب کرانے کے فیصلے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ان اراکین پارلیمان اسمبلی کے لئے منتخب ہونے کے بعد پارلیمان سے مستعفی ہوچکے ہیں۔ اسی طرح پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں بھی اراکین پارلیمان نے استعفیٰ دیا ہے، لیکن کرناٹک کے تین حلقوں کے لئے ضمنی انتخاب کا اعلان کردیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس طرح کے فیصلوں سے امتیازی سلوک کا ثبوت دے چکا ہے۔ الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ فوراً ان تین پارلیمانی حلقوں کے ضمنی انتخابات کو رد کرے اور تینوں حلقوں کے لئے انتخاب عام انتخابات کے ساتھ ہی کروائے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ایسا نہیں کہ کانگریس لوک سبھا انتخابات کا سامنا کرنے تیار نہیں ہے، الیکشن کمیشن اگر چاہے تو فوری طور پر لوک سبھا کے عام انتخابات کا اعلان کردے تاکہ فیصلہ ہوجائے کہ ملک کا اقتدار کس کے ہاتھوں میں جائے گا، ایسا کرنے کی بجائے ایسے مرحلے میں لوک سبھا حلقوں کاضمنی چناؤ کرانا جبکہ ایوان کی مدت صرف تین ماہ رہ گئی ہے زیادتی ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

کاروار: کائیگا پلانٹ توسیعی منصوبہ۔ عوامی احتجاج کے درمیان افسران نے منعقد کیا عوامی اجلاس

کائیگا جوہری توانائی اسٹیشن میں مزید دو یونٹس کا اضافہ کرنے کے منصوبے پر عوامی رائے جاننے کے لئے سرکاری افسران نے کائیگا ٹاؤن شپ میں اجلاس منعقد کیا جبکہ ٹاؤن شپ سے باہر موجودہ اور سابق اراکین اسمبلی کی قیادت میں سیکڑوں افراد نے توسیعی منصوبے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

بنگلورومیٹرو برڈج میں خرابی کا نائب وزیراعلیٰ پرمیشور نے معائنہ کیا

شہر کے ایم جی روڈ پر ٹرینٹی سرکل کے قریب ایم جی روڈ بیپنا ہلی میٹرو روٹ کے پلر نمبر 155کے قریب ایک بیم میں دراڑ کا آج نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے معائنہ کیا اور کہاکہ اس سلسلے میں مرمت کا کام جاری ہے۔

زہریلے کھانے کا معاملہ، اعلیٰ سطحی جانچ کرانے سدارمیاکا مطالبہ

کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور مخلوط حکومت کے کورابطہ کمیٹی کے صدر سدارمیا نے سُلوادی گاؤں کے مرمَّا مندر میں زہریلا کھانہ کھانے سے 11 عقیدتمندوں کی موت اور 80 افراد کے بیمار ہونے کے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے ۔