کالجوں میں این ایس ایس کو لازمی بنانے پر غورکیا جائے گا :پرمیشور

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 26th August 2018, 1:06 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو ،26؍اگست (ایس او نیوز) پی یو سی ، ڈگری اور پوسٹ گریجویٹ کالجوں کے تمام طلباء کیلئے این ایس ایس کو لازمی بنانے پر غور کیا جائے گا ۔ اس سلسلہ میں عنقریب محکمہ تعلیمات کے ساتھ تبادلہ خیال ہوگا ۔ نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے یہ بات بتائی ۔

وکاس سودھا میں منعقدہ این ایس ایس ریاستی سطح کی مشاورتی کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل این سی سی کو لازمی بناکر این ایس ایس کو خواہش کے مطابق بنایا گیا تھا ۔ آج بھی چند یونیورسٹیاں این ایس ایس کو لازمی بنائے ہیں ۔ اس لئے تمام کالجوں کو این ایس ایس کو لازمی بنانے کے متعلق مناسب فیصلہ لیا جائے گا ۔

انہوں نے بتایا کہ صرف غریب اور درمیانی طبقہ کے طلباء این ایس ایس میں شامل ہوتے ہیں جبکہ دیگر طلباء اس سے دوری اختیار کرلیتے ہیں اس لئے آئندہ سے تمام طلباء کیلئے این ایس ایس کو لازمی بنانے پر غور کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ این ایس ایس کا قیام عمل میں آکر50 سال کا عرصہ گزر گیا ہے ۔ نوجوانوں کے مستقبل کو سدھارنے کیلئے ان میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ طلباء میں ثقافت ، قوانین، ہنرمندی اور روزگار کے متعلق بھی بیداری لانی ہوگی ۔ انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ این ایس ایس کی سرگرمیوں کو مزیدمضبوط بنانا ہوگا۔ اس موقع پر محکمہ اسپورٹس کی اڈیشنل چیف سکریٹری رجنیش گوئل، ریاستی این ایس ایس افسر ڈاکٹر گناناتھ شٹی و دیگر موجود تھے ۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس تشہیری کمیٹی کے نئے صدر ایچ کے پاٹل نے عہدہ کا جائزہ لے لیا ملک کواچھے دن کا وعدہ کرکے اقتدار پرآئی بی جے پی کے لیڈروں نے ملک کوبے روزگاروں کا مرکز بنا دیاہے:وینو گوپال

سابق ریاستی وزیر ایچ کے پاٹل نے آج کرناٹک پردیش کانگریس تشہیری کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے عہدہ کاجائزہ لے لیا ۔

بی جے پی کوابھیشک منوسنگھوی نے کہا ، کرناٹک میں کھلواڑہوتاتوقانونی منصوبہ تیارتھا

کرناٹک کے تازہ سیاسی واقعات کے پس منظر میں کانگریس کے سینئر لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے جمعرات کو کہا کہ اگر بی جے پی ریاست کی مخلوط حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اپنے ’آپریشن لوٹس‘پر آگے بڑھتی تو اس کومنہ توڑجواب دینے کے لیے کانگریس نے منصوبہ تیار کر رکھا تھا۔