کٹھوعہ۔ اناؤ ریپ معاملہ:خواتین پر تشدد کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی سول سوسائٹی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th April 2018, 12:34 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،16؍اپریل ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) طلبہ و طالبات، وکلاء نیز غیر سرکاری تنظیموں سمیت سول سوسائٹی کے لوگوں نے کٹھوعہ اور اناؤ میں کمسن بچیوں کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے قصورواروں کو سزا دینے کا مطالبہ کرنے اور نفرت کی سیاست کے خلاف کل یہاں زبردست مظاہرہ کرکے اترپردیش کی یوگی حکومت اور کٹھوعہ میں عصمت دری کے ملزمان کے دفاع میں منعقدہ ریلی میں شامل ہونے والے بی جے پی کے دو نوں وزراء کو فوری برخاست کرنے کے ساتھ ساتھ مہلوکین کے اہل خانہ کو تحفظ دینے کی اپیل کی۔ 'ناٹ ان مائی نیم 'کے بینر تلے بڑی تعداد میں سول سوسائٹی کے لوگوں نے یہاں پارلیمنٹ اسٹریٹ پر مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر ایک اجتماع منعقد کیا گیا جسے مختلف مقررین نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ آبروریزی کے ملزمان کو بچانے اور اناؤ میں آبروریزی کی شکار متاثرہ کے والد کی پولس حراست میں موت میں یوگی حکومت کے ملوث ہونے کو دیکھتے ہوئے اسے فوری برخاست کیا جانا چاہئے۔ کٹھوعہ میں بکروال کمیونٹی کی آٹھ سالہ بچی کی آبروریزی اور قتل کے ملزمان کو بچانے کے لئے ہندو ایکتا منچ کی ریلی میں شامل ہونے والے بی جے پی کے دو وزیروں کو بھی فوری طور پر برطرف کرنے کا مطالبہ کیا جانا چاہئے۔ ہندو ایکتا منچ کے تمام عہدیداروں اور کارکنوں کو فوری گرفتار کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔کٹھوعہ اور اناؤ کے متاثرین کے اہل خانہ کو فوری طور پر تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کیس کی پیروی کے لئے سب سے زیادہ صلاحیت یافتہ استغاثہ ٹیم کی خدمت مہیا کرانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
 

ایک نظر اس پر بھی

اے ایم یوریزرویشن: مولانا ولی رحمانی نے پیش کیا 50-50 کا فارمولہ، اولڈ بوائزنے ٹھکرائی تجویز

مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے متعلق  بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اے ایم یوکو لے کرپولرائزیشن کی سیاست کی جارہی ہے۔ اس پرپرسنل لا بورڈ نے 50 فیصد مسلم اور 50 فیصد دلت ریزرویشن  کی تجویز پیش کردی۔

چنئی میں 12سالہ بچی کی 7 مہینوں تک عصمت دری ؛ 17 گرفتار؛ عدالت میں وکیلوں نے کیا ملزموں پر حملہ؛ کوئی نہیں لڑے گا کیس

چنئی میں 11سال کی بچی کی مبینہ طور سے عصمت دری کرنے کے الزام میں پولیس نے18  لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان لوگوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک اپارٹمنٹ میں سات مہینوں تک بچی کا جنسی استحصال کیا۔ گرفتار ملزموں کو منگل کو کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں مشتعل ہجوم نے ملزموں کی پٹائی کردی۔