کرناٹک میں کانگریس کیلئے 20اور جے ڈی ایس کیلئے 8سیٹوں کو قطعیت ، اتر کنڑا سے جے ڈی ایس امیدوار لڑیں گے الیکشن

Source: S.O. News Service | Published on 14th March 2019, 4:26 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،14؍ مارچ (ایس او نیوز) کانگریس 20اور جے ڈی ایس 8سیٹوں پر انتخابات لڑیں گی۔ کیرلا کے کوچین میں اے آئی سی سی صدر راہول گاندھی سے ملاقات کے بعد جے ڈی ایس کے قومی جنرل سکریٹری دانش علی نے یہ بات بتائی۔ جے ڈی ایس کو دئے گئے آٹھ حلقوں میں ضلع اُترکنڑا بھی شامل ہے، جہاں بی جے پی کے   آننت کمار ہیگڈے مسلسل جیت درج کرتے آرہے ہیں۔

اسی  طرح ٹمکور سیٹ بھی جے ڈی ایس کو دے دی گئی ہے حالانہ اس سے قبل کہا گیا تھا کہ ٹمکور سمیت تما م موجودہ کانگریس نمائندگی والی سیٹیں جے ڈی ایس کو نہیں دی جائیں گی ۔

خیال رہے کہ ضلع اُترکنڑا  ہمیشہ کانگریس کا گڑھ رہا ہے، مگر 1996 میں یہاں پہلی بار بی جے پی سے آننت کمار ہیگڈے نے جیت درج کی تھی، تب سے لے کر اب تک ہیگڈے پانچ مرتبہ اس سیٹ پر جیت درج کرنے میں کامیاب رہے ہیں، درمیان میں ایک مرتبہ کانگریس کی مارگریٹ آلوا بھی اس سیٹ پر  جیت درج کرچکی ہے۔اس باربی جے پی  کو شکست دینے  کانگریس نے جے ڈی ایس کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے۔

اس سے قبل کرناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) صدر دنیش گنڈوراؤ نے میسور ۔کورگ سیٹ کو سدارامیا کی طرف سے وقار کامسئلہ بنائے جانے کے بارے میں پوچھے جانے پرکہا تھا کہ کوئی بھی سیٹ کسی کے وقار کا مسئلہ نہیں ہے۔ منڈیا میں جے ڈی ایس کا قبضہ ہے، اس لیے یہ سیٹ جے ڈی ایس کو  دی گئی ہے۔ تاہم مقامی لیڈروں میں کچھ اختلافات ہیں جن کو دور کرنا ضروری ہے۔ امبریش کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ امبریش کی شخصیت قابل احترام ہے۔ امیدواروں کی فہرست دہلی میں اسکریننگ کمیٹی کے سامنے ہے۔ 16؍ مارچ کو قطعیت دی جائے گی۔ جن حلقوں میں سیاسی اشتراک کیا جارہا ہے، وہاں کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ جے ڈی ایس کو قطعی طور پر کتنی سیٹیں دی جائیں گی، اس کا اعلان ابھی سے نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آخری لمحات میں چھوٹی موٹی تبدیلی ممکن ہے۔

دنیش گنڈورائو کے مطابق 18؍ مارچ کو راہول گاندھی کلبرگی آرہے ہیں اور وہاں پریورتن ریلی سے خطاب کریں گے۔ بنگلورو میں بھی پروگرام منعقد کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ سیٹوں کی تقسیم میں کوئی ذاتی وقار کا معاملہ نہیں ہے۔ 16؍ مارچ کو تقریباً تمام حلقوں کی فہرست کو قطعیت دے دی جائے گی۔ جمعرات کو بیلگاوی لیڈروں کی میٹنگ ہے جس کی صدارت سدارامیا کریں گے اور لیڈروں کی رائے لے کر امیدوار کے ناموں کا  تعین ہوگا۔ منڈیا میں سمالتا امبریش کے الیکشن لڑنے کے بارے میں پوچھے جانے پرر گنڈو راؤ نے کہا تھا کہ سمالتا اور ان کے فرزند ابھیشک سیاسی طور پر ترقی کرنا چاہیں تو کانگریس میں ان کو ضرور موقع دیا جائے گا۔ لیکن اس بار منڈیا میں سیٹ دینے کا کوئی امکان نہیں  ہے، ایسے میں  جے   ڈی ایس کے قومی جنرل سکریٹری دانش علی نے واضح کیا ہے کہ  راہول گاندھی کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں  آٹھ حلقوں پر جے ڈی ایس کے اُمیدواروں کا انتخاب لڑنا  طئے ہوچکا ہے جس میں  منڈیا کی سیٹ بھی شامل ہے۔

جن آٹھ حلقوں میں اب جے ڈی ایس انتخاب لڑے گی، اُن حلقوں  کے نام اس طرح ہیں:    ہاسن ، منڈیا  ، شیموگہ ،  اُڈپی /چکمگلور  ،بنگلور نارتھ  ، اتر کنڑا ،   بیجاپور  اور  ٹمکور 

کانگریس جن دیگر بیس حلقوں میں انتخاب لڑے گی، وہ اس طرح ہیں:   ڈھارواڑ ، داونگیرے ،  دکشن کنڑا  ،  چتر درگا ، میسور،  چامراج نگر،   بنگلور مضافات،    بنگلور سنٹر،   بنگلور ساوتھ،  چک  بلاپور،  کولار ،  چکوڑی، بیلگام، باگلکوٹ ،  کلبرگی، رائچور،  بیدر، کوپّل، بلاری اور  ہاویری

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کے سینئر لیڈر آر اشوک نے سدارامیا اور کمار سوامی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا

وکھے درخت کے پتوں کی مانند جھڑرہے کانگریس اراکین اسمبلی کی آنکھوں میں اندھیراچھا گیا ہے۔ انہیں آگے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔ ریاست کے عوام نے مخلوط حکومت کی چڈی پھاڑدی ہے۔ اس قسم کی طنزیہ باتیں بی جے پی کے سینئر قائدآر اشوک نے کہیں۔

کرناٹک پبلک اسکولوں میں سرکاری اسکولوں کو ضم نہیں کیا جائے گا

سرکاری اسکولوں کو ضم کئے بغیر ہی کرناٹک پبلک اسکول چلانے کی تجویز محکمہ تعلیمات کے زیر غور ہے ۔ سرکاری نظام کے تحت ایک ہی پلاٹ فارم پر پہلی سے بارھویں جماعت تک کی تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے کرناٹک پبلک اسکولوں کا انعقاد 2018-19 سے ہی شروع ہوگیا تھا ۔

کمارسوامی نے وزیراعلیٰ کا عہدہ دیش پانڈے کو سونپنے کی رکھی تھی شرط ، کانگریس لیڈران رہ گئے دنگ؛ کماراسوامی کی قیادت پر ہی ظاہر کیا گیا اعتماد

لوک سبھا انتخابات میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کی رسواکن شکست کے بعد کل وزیراعلیٰ کمار سوامی کی قیادت میں طلب کی گئی غیر رسمی کابینہ میٹنگ کے دوران وزیراعلیٰ کمار سوامی کی طرف سے استعفے کی پیش کش کے متعلق چند نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔