بلدی اداروں کے انتخابات میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کا شاندار مظاہرہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 3rd September 2018, 9:55 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو3؍ستمبر(ایس او نیوز) ریاست کے بلدی اداروں کے انتخابات میں کانگریس نے جہاں اپنی بالا دستی قائم کی ہے وہیں ریاستی عوام کی طرف سے کانگریس اور جے ڈی ایس کے اتحاد کی حمایت میں واضح فرمان صادر ہوا ہے۔

بیشتر بلدی اداروں میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد بی جے پی کو اقتدار سے محروم کررہا ہے۔ 2632 بلدی وارڈوں کے لئے ہوئے انتخابات میں شاندار کامیابی درج کرتے ہوئے کانگریس نے 982 بلدی وارڈوں پر کامیابی کا پرچم لہرایا ، جبکہ بی جے پی کو 929 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔

ریاست کے حکمران اتحاد میں شامل جے ڈی ایس نے 375 سیٹیں جیتی ہیں۔ 329 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور دیگر پارٹیوں سے34 امیدواروں کو کامیابی ملی ہے۔ بلدی اداروں کے انتخابات میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کو جو زبردست کامیابی ملی ہے اس سے دونوں پارٹیوں کے لیڈروں میں اس بات پر کم و بیش اتحاد ہوگیا ہے کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات میں اگر دونوں سیاسی جماعتیں متحد رہتی ہیں تو ریاست میں بی جے پی کے کامیابی کے امیدوں پر پانی پھیرا جاسکتا ہے۔

بلدی اداروں کے لئے انتخابات 31اگست کو کروائے گئے تھے، آج صبح ضلع اور تعلقہ مراکز میں ان بلدی اداروں کے ووٹوں کی گنتی ہوئی، تین سٹی کارپوریشنوں سمیت 105بلدی اداروں جن میں سٹی میونسپل کونسل ، ٹاؤن میونسپل کونسل اور ٹاؤن پنچایت شامل تھے۔ ان انتخابات میں جملہ 9121 امیدواروں نے اپنے قسمت آزمائی تھی، ان میں سے 30پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہوگئے تھے، باقی 2632 وارڈوں کے لئے نمائندوں کا انتخاب آج عمل میں آیا۔

سٹی کارپوریشنوں کی بات کی جائے تو شہری علاقوں میں بی جے پی کاغلبہ زیادہ رہا۔ 135 کارپوریشن سیٹوں میں سے بی جے پی نے 54 سیٹوں پر کا میابی حاصل کی ، کانگریس کو 36 سیٹوں پر جیت ملی، جے ڈی ایس نے 30سیٹیں حاصل کیں جبکہ 14؍ آزاد امیدوار منتخب ہوئے۔ سٹی میونسپالٹیوں کی 926 سیٹوں میں سے بی جے پی کو 370 ، کانگریس کو 294 ، اور جنتادل (ایس) کو106 سیٹوں پر کامیابی ملی۔ بی ایس پی کے دس اور 123آزاد نمائندوں کے ساتھ 23 دیگر پارٹیوں سے کامیاب ہوئے۔ ٹاؤن میونسپالٹی کی 1246 سیٹوں پر ہوئے انتخاب میں کانگریس نے 514 سیٹوں پر کامیابی درج کی۔ بی جے پی 375 ، جنتادل (ایس) 210بی ایس پی دو اور آزاد135 سیٹوں پر کامیاب ہوئے، جبکہ دیگر پارٹیوں سے دس نمائندے منتخب ہوئے۔

ٹاؤن پنچایتوں کے لئے ہوئے 355 سیٹوں کے نتائج میں کانگریس کو 130 بی جے پی کو138 اور جنتادل(ایس) کو29 پر کامیابی ملی۔ آزاد امیدوار 57 سیٹیں اور دیگر ایک سیٹ پر کامیاب رہے۔ضلعی سطح پر اگر نتائج کا جائزہ لیا جائے تو پہلی بار بلگاوی ضلع سے 144 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ ضلع کی جملہ 343 وارڈوں میں کانگریس نے 85 اور بی جے پی نے104 سیٹیں حاصل کی ہیں۔

جبکہ جنتادل (ایس) کودس سیٹیں ملی ہیں۔ باگلکوٹ میں بی جے پی کو161 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی ہے اور کانگریس 122 پر محدود رہی۔چامراج نگر میں بی جے پی کو 21 کانگریس کو 19اور جے ڈی ایس کو دس سیٹیں ملی ہیں۔ بیدر میں کانگریس کو 14 ، بی جے پی کو پانچ اور جے ڈی ایس کو تین سیٹیں ملی ہیں، چترادرگہ کی 89سیٹوں میں سے بی جے پی کو35 ، کانگریس کو 25 ، جے ڈی ایس کو 16 اور 13آزاد امیدواروں کو ملی ہیں۔

دکشن کنڑا ضلع میں بی جے پی42 ، کانگریس 30 ، جنتادل (ایس) چار ،آزاد دو اور دیگر گیارہ وارڈوں میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ریاست کے جن اضلاع میں کانگریس اور جے ڈی ایس اتحاد کو اکثریت ملنے کی امید ہے ان میں میسور ،ٹمکور، ہاسن، ہاویری ، منڈیا، وغیرہ شامل ہیں۔ سٹی میونسپالٹی کی سطح پر نتائج دیکھے جائیں تو باگلکوٹ ، الکل، مدھول، بن ہٹی ، نپانی ، چامراج نگر، چترادرگہ، پتور، رانی بنور، اڈپی، سرسی، یادگیر، شورا پور، وغیرہ سی ایم سی میں بی جے پی کو اکثریت ملی ہے، جبکہ جمکھنڈی، شاہ آباد، کوپل، گنگاوتی، سندھنور، ڈانڈیلی وغیرہ میں کانگریس نے واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

کیا جنگلاتی زمین کے حقوق سے متعلقہ مسائل حل کرنے میں دیش پانڈے ہورہے ہیں ناکام ؟ کاروار میٹنگ میں کئی اہم آفسران کی غیر حاضری پر دیش پانڈے گرم

کیا جنگلاتی زمین کے حقوق سے متعلقہ مسائل حل کرنے میں ضلع اُترکنڑا کے انچارج وزیر آر وی  دیش پانڈے ہورہے ہیں ناکام ثابت ہورہے ہیں ؟ یہ سوال اس لئے پیدا ہورہا ہے کہ پیر کو کاروار کے  ضلع پنچایت میٹنگ ہال میں منعقدہ کرناٹکا ڈیولپمنٹ پروگرام (کے ڈی پی) کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے ...

بنگلورو میں گڈھوں کو بند کرنے میں بی بی ایم پی کی سست روی پر ہائی کورٹ برہم

شہر میں مسلسل بارش کی وجہ سے سڑکوں پر گڈھوں کی تعداد میں دن بدن اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ نے بی بی ایم پی کی طرف سے گڈھوں کو بند کرنے میں اپنائی جارہی سست روی پر برہمی کا اظہار کیا ہے