الیکشن میں طاقت اوردولت کااستعمال باعث تشویش:پرنب مکھرجی

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 6th February 2019, 2:46 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی:5 /فروری (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)ملک میں 17 ویں لوک سبھا کے انتخابات کی تیاریوں کے درمیان سابق صدر پرنب مکھرجی نے انتخابات میں ووٹروں کومتاثرکرنے کے لیے دھن دولت اور طاقت استعمال کرنے کے رجحان کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔لوک سبھا انتخابات سے ٹھیک پہلے شائع کتاب ۔ گریٹ مارچ آف ڈیموکریسی، سیون ڈکیڈ آف انڈیااز الیکشن‘ کے دیباچے میں مسٹر مکھرجی نے کہا کہ ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے بہت سے اقدام کئے گئے ہیں لیکن رائے دہندگان کو متاثر کرنے کے لیے دھن دولت اور طاقت کا بیجا استعمال اب بھی تشویش کا موضوع ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس منفی رجحان پر روک نہیں لگا ئی گئی تو جمہوریت کی روح پر ایک گہرا دھچکا ہوگا۔ اس کتاب کی ادارت سابق چیف الیکشن کمشنر شہاب الدین یعقوب قریشی نے کیا ہے۔انتخابی سسٹم میں لوگوں کی شراکت بڑھانے کے لئے الیکشن کمیشن کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے مسٹر مکھرجی نے کہا کہ کمیشن اور اس کے حکام نے ملک میں کامیابی انتخابات کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔کمیشن نے ووٹروں کی تعداد بڑھانے، ان کو تعلیم یافتہ بناکراور حوصلہ افزائی کر کیانتخابی نظام میں ان کی شراکت بڑھانے، انتخابات میں بلیک منی، دھن دولت اور پیڈ نیوز روکنے اور لوگوں کے لئے بغیر خوف کے ووٹ ڈالنے کا ماحول تیار کرنے جیسے قابل ستائش کام کئے ہیں۔
 

ایک نظر اس پر بھی

مودی پھر جیتے تو ملک میں شاید انتخابات نہ ہوں: اشوک گہلوت

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے منگل کو نریندر مودی حکومت کے دور میں ’جمہوریت اور آئین‘ کو خطرہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر عوام نے مودی کو پھر سے اقتدار سونپا، تو ہو سکتا ہے