میری سیاست کارنگ بھگوانہیں ہے:کمل ہاسن

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th February 2018, 12:12 PM | ملکی خبریں |

نیویارک،11فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)اداکار سے سیاست داں بنے کمل ہاسن نے اتوار کو امریکہ کے ہارورڈ یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کیا۔ یہاں انہوں نے تمل ناڈو کی سیاست پر اپنی پوزیشن کو صاف کیا۔ اس کے ساتھ ہی رجنی کانت کے ساتھ اتحاد کے سوال پر کمل ہاسن نے کہا کہ میں رجنی کانت کا دوست ہوں، ہمارے ارادے شاید ایک جیسے ہوں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ہم دونوں ایک ساتھ مل کر کام کرسکیں گے۔ بتادیں کہ کچھ دنوں سے دونوں کے ممکنہ اتحاد پربحث زورں پرتھی۔ رجنی کانت کے ساتھ اتحاد کے سوال پر کمل ہاسن نے کہا کہ میں رجنی کانت کا دوست ہوں، ہمارے ارادے شاید ایک جیسے ہوں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ہم دونوں ایک ساتھ مل کر کام کرسکیں گے، مجھے امید ہے کہ اس کی سیاست کا رنگ بھگوا نہیں ہوگا، میری سیاست کا رنگ بھگوا نہیں ہے، مذہب پر ہمارے خیالات مختلف ہیں۔ کمل ہاسن نے مزید کہا کہ میری سیاست کا رنگ کالا ہے، میں ہر رنگ کو جمع کرنا چاہتا ہوں۔بیف پر کمل ہاسن نے کہا کہ حکومت شہریوں کو مناسب خوراک فراہم نہیں کر پارہی ہے اور وہ ہمیں بتانا چاہتی ہے کہ ہمیں کیا کھانا چاہئے اور کیا نہیں کھاناچاہئے۔لوجہادکے معاملے پرہاسن نے کہاکہ دنیا بھر میں محبت ہی کی کامیابی ہو گی۔کمل ہاسن نے کہا کہ میں تمل ناڈو کے ہر ضلع سے ایک گاؤں کو اپنانے والا ہوں، میں ان گاؤں کو تعمیری مرکز کے اتھارٹی کے طور پر بنانا چاہتا ہوں۔ کمل ہاسن نے مزید کہاکہ جب ووٹر ووٹ ڈالنے کے لئے پیسے لیتا ہے، اسی وقت وہ رہنماؤں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ جیتنے کے بعد پیسہ کمائیں۔اس سے پہلے اتحاد کے سوال پر رجنی کانت نے کہا تھاکہ اس سوال کا جواب صرف وقت ہی دے گا۔ دراصل رجنی کانت نے پہلے ہی اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی تمل ناڈو اسمبلی میں 234 نشستوں پر مقابلہ کرے گی۔وہیں ہاسن نے اپنی سیاسی جماعت بھی بنانے کے بارے میں بات کی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

لندن میں سنگاپور کے پاسپورٹ پر رہ رہا نیرو مودی: ای ڈی ذرائع 

ڈائمنڈ کاروباری نیرو مودی اور ان کے خاندان کو کروڑوں روپے کے پنجاب نیشنل بینک فراڈ کیس کی تحقیقات میں شامل ہونے کے لئے نافذ کرنے والے ای ڈی کی طرف سے سمن جاری کئے جانے کے با وجود مافیا مودی نے ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے بیرون ملک رہنا تو دور وہ تفتیش کاروں کی پہنچ سے بھی دور ...

کرناٹک میں فتح کے بعد راہل کا مودی کو پیغام ، وزیراعظم ملک اور سپریم کورٹ سے بڑا نہیں:راہل گاندھی 

کرناٹک میں یدی یورپا کے وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دینے اور حکومت گرنے کے بعد راہل گاندھی نے بی جے پی اور پی ایم مودی پر جم کر حملہ کیا۔ ساتھ ہی کرناٹک میں بی جے پی کی شکست کو جمہوریت کی جیت بتایا۔

ہمیں اپنی چھٹیوں سے لطف اندوزہونے دیجئے : جسٹس سیکری

کرناٹک میں اقتدار کو لے کر تنازعہ پر سماعت مکمل کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج کہا کہ اب ہمیں اپنی چھٹیوں سے لطف اندوز ہونے دیجئے۔ عدالت عظمیٰ میں تین ججوں کے ایک بنچ کی صدارت کر رہے جسٹس اے کے سیکری نے جب عجیب انداز میں یہ تبصرہ کیا اس وقت عدالتی کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔