کونسل کیلئے سی ایم لنگپا کا نام دوبارہ پیش ہوگا

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 19th May 2017, 2:13 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو:18/مئی(ایس او نیوز) ریاستی لیجسلیٹیو کونسل کی رکنیت کیلئے رام نگرم کے سابق رکن اسمبلی سی ایم لنگپا کے نام کو منظوری دینے سے گورنر واجو بھائی والا کے انکار کے بعد ریاستی حکومت ایک بار پھر ان کے نام کی سفارش کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔کل گورنرنے ریاستی حکومت کی طرف سے تجویز کئے گئے دو ناموں کو منظور کرتے ہوئے سی ایم لنگپا کے نام کو تعلیمی زمرہ کیلئے ناقابل غور قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ گورنر کے اس فیصلے کے بعد آج ریاستی حکومت کی طرف سے ایک بار پھر یہ کوشش تیز ہوگئی کہ دوبارہ ایوان بالا کی رکنیت کیلئے سی ایم لنگپا کے نام کی سفارش کی جائے۔ یاد رہے کہ اس پہلے بی جے پی کے دور اقتدار میں اس وقت کے ایچ آر بھردواج نے کونسل کی رکنیت کیلئے تعلیمی زمرے سے وی سومنا کے نام کو مسترد کردیاتھا۔ اسی طریقہئ کار کو اپناتے ہوئے موجودہ گورنر نے رام نگرم کے سابق رکن اسمبلی سی ایم لنگپا کے نام کی سفارش کو ماننے سے انکار کیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اداکار پرکاش راج نے پی ایم مودی پر کسا طنز،56 انچ بھول جائیے، 55گھنٹے بھی نہیں سنبھالاجاسکا کرناٹک 

کرناٹک میں محض ڈھائی دن پرانی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کی حکومت ہفتہ (19 مئی)کی شام گر گئی۔وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا نے یقین نہ کا سامنا کئے بغیر ہی اسمبلی ٹیبل پر اپنے استعفی کا اعلان کر دیا۔

اناملائی دوبارہ چکمگلور کے ایس پی مقرر

بی ایس یڈی یورپا کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد رام نگرم ضلع کے ایس پی کی حیثیت سے تبادلہ کردئے گئے چکمگلور ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے اناملائی کو پھر سے چکمگلور کے ایس پی کے طور پرتبادلہ کیا گیاہے۔

لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی تمام 28 حلقوں میں کامیاب ہوگی 10 سال تک ریاست بھر کا دورہ کرکے پارٹی کو مضبوط بناؤں گا : یڈی یورپا

سابق وزیر اعلیٰ و بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس یڈی یورپا نے دعویٰ کیا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی تمام 28 حلقوں میں کامیابی حاصل کرکے وزیر اعظم نریندر مودی کو تحفہ کے طور پر دینے کیلئے وہ تیار ہیں ۔

کرناٹک اسمبلی انتخابات میں ’نوٹا‘ چوتھے مقام پر جنوبی بنگلورو میں 15,829 ووٹروں نے نوٹا کو ترجیح دی ہے

اسمبلی انتخابات میں پہلی مرتبہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں ’نوٹا‘ کو چوتھا مقام حاصل ہوا ہے ۔ جملہ 26 حلقوں میں سے 24 حلقوں میں نوٹا کو چوتھے مقام پر دیکھا گیا ہے ۔ کانگریس، بی جے پی اور جے ڈی ایس کے بعد ووٹروں نے ’نوٹا‘ کو اگلی ترجیح دی ہے ۔

کانگریس ۔جے ڈی ایس حکومت کب تک قائم رہ سکے گی؟

کرناٹک کے انتخابات میں سٹے بازوں نے جب ریاست میں مستحکم حکومت دینے کے لئے بی جے پی پر داؤ لگایا تھا تو انہیں نقصان ہوا لیکن اب یہی سٹے باز اس پر بات کررہے ہیں کہ کانگریس ۔جے ڈی ایس اتحاد کب تک چلے گا۔

کرناٹک میں پہلی بار مسلم نائب وزیراعلیٰ، آج کمار سوامی کی دہلی میں سونیا اور راہل سے ملاقات

کرناٹک کے وزیراعلیٰ کے طورپر حلف برداری سے قبل جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کمار سوامی پیر کے روز نئی دہلی میں کانگریس لیڈروں سونیاگاندھی اور راہل گاندھی سے ملاقات کریں گے اور حکومت کی تشکیل کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کریں گے۔ ریاست کے 25ویں وزیراعلیٰ کے طورپر حلف برداری کے لیے تیار ...