میڈیا سیاسی امتیازات سے بالا تر ہوکر کام کرے، سوشیل میڈیا پر گہری نظر رکھنے الیکشن کمیشن کا فیصلہ : سنجیو کمار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th April 2018, 11:44 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،13؍اپریل(ایس او نیوز) الیکشن کمیشن نے ذرائع ابلاغ سے گذارش کی ہے کہ آنے والے انتخابات کے مرحلے میں انتخابی حالات سے جڑی خبروں کو بغیر کسی سیاسی امتیاز کے عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔ آج کمیشن کی طرف سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے لئے منعقدہ کارگاہ سے مخاطب ہوکر ریاست کے چیف الیکٹورل افسر سنجیو کمار نے کہاکہ جمہوری نظام کا چوتھا ستون کہلانے والے میڈیا کو ان انتخابات میں اپنی ذمہ داری پوری دیانتداری کے ساتھ نبھانی ہوگی، کیونکہ اس پر جمہوریت کے تحفظ کے لئے کام کرنے کا بیڑہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ جانبدار ی کے بغیر اگر ذرائع ابلاغ نے کام کیا تو انتخابات کو شفاف بنانے میں کافی مدد ملے گی۔ اس موقعے پر اڈیشنل چیف الیکٹورل افسر جگدیش نے مخاطب ہوکر کہاکہ سوشیل میڈیا پر الیکشن کمیشن نے کافی گہری نظر رکھی ہے۔ انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے سیاسی اشہارات کا بھی جائزہ لیا جارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی امیدوار کی تشہیر کرتے ہوئے انٹرنیٹ پر جو اشتہار آئے گا اس کاخرچ امیدوار کے کھاتے میں جمع ہوگا۔ سوشیل میڈیا کے ذریعے انتخابی مہم چلانے کے سلسلے میں 17 اپریل کو ایک میٹنگ طلب کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ مقامی سطح پر کام کرنے والے کیبل آپریٹروں کی سرگرمیوں پر بھی الیکشن کمیشن نے نظر رکھی ہے، ساتھ ہی نجی کال سنٹر چلانے والوں کی طرف سے امیدواروں کی تشہیر کا سلسلہ چلایا گیا تو اس کا خرچ بھی امیدواروں کے حصے میں شامل کیا جائے گا۔ واٹ اپ فیس بک ، ٹیوٹر جیسے کسی بھی سوشیل میڈیا پر اشتہاری مواد شائع کرنے سے قبل امیدواروں کو الیکشن کمیشن سے اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ امیدواروں کی طرف سے محض اپنی تشہیر اور اپنے لئے ووٹ مانگنے کے لئے ان ذرائع ابلاغ سے اگر مہم چلائی جائے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں البتہ کسی کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اخبار میں پیڈ نیوز کی نشاندہی کے 48گھنٹوں کے اندر امیدوار کو نوٹس جاری کی جائے گی، اگر امیدوار نے اس کا جواب نہ دیا تو اس پر آنے والا خرچ امیدوار کے کھاتے میں جمع کرلیا جائے گا۔ اس موقع پر محکمۂ اطلاعات کے کمشنر ہرشا نے کہاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو انتخابات کے دوران بگاڑنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور الیکٹرانک یا پرنٹ ذرائع ابلاغ میں اگر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والی خبریں شائع کی گئیں تو تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت فوجداری مقدمہ درج کیا جائے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

کیا میسورو میں سدارامیا کے خلاف جنتا دل (ایس )نے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے ؟

ایسا لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتا دل(ایس)نے میسورو میں صرف چامنڈیشوری سیٹ کے تعلق سے ہی نہیں بلکہ میسورو ضلع کی تمام اسمبلیوں سیٹوں پر وزیراعلیٰ سدارامیا کے خلاف آپس میں گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔

کرناٹک انتخابات:بی جے پی نے سات امیدواروں کی چوتھی فہرست جاری کی

کرناٹک انتخابات کے سلسلہ میں بی جے پی کی سنٹرل کمیٹی نے سات امیدواروں کی چوتھی فہرست جاری کی ہے ۔جی آر پراوین پاٹل کو بھدراوتی حلقہ،جگدیش کو یشونت پورحلقہ،للیش ریڈی کو بی ٹی ایم لے آوٹ حلقہ،شریمتی ایچ لیلاوتی کو رامانگرم حلقہ،شریمتی نندنی گوڑا کو کنکاپور حلقہ،ایچ کے سریش کو ...

مواخذہ مسئلہ: کانگریس کو دستورپر سوال اٹھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں :اننت کمار

پارلیمانی امور کے وزیرو بی جے پی کے سینئر لیڈر اننت کمار نے آج کہا ہے کہ کانگریس جس نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی،کو ملک کی دستوری اتھارٹی اورجمہوریت پر سوال اٹھانے کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں ہے ۔

کرناٹک میں بی جے پی کا الیکشن کمیشن پرجانبداری برتنے کا الزام 

بی جے پی نے انگور کھٹے کی مانند اب یہ الزام لگارہی ہے کہ الیکشن کمیشن ریاست میں کانگریس کی جیت کے لئے کام کررہا ہے۔ کرناٹک میں بی جے پی امور کے انچارج مرلی دھر راؤ نے آج ایک اخباری کانفرنس میں الزام لگایا کہ ریاستی الیکشن کمیشن کانگریس کی ایماء پر متحرک ہے،

امبریش کے معاملے پر تبصرے سے سدرامیا کا انکار

منڈیا اسمبلی حلقے سے کانگریس امیدوار کے طور پر میدان میں اترنے میں سابق وزیر اور اس حلقے کے موجودہ رکن اسمبلی امبریش کے تذبذب پر تبصرہ کرنے سے وزیراعلیٰ سدرامیا نے انکار کردیا ہے۔

کرناٹک لوک آیوکتہ وشواناتھ شٹی خدمات سے رجوع

کرناٹک لوک آیوکتہ وشواناتھ شٹی جن پر 7؍مارچ کو ان کے چیمبر میں حملہ آور کی جانب سے چاقو سے حملہ کرتے ہوئے زخمی کردیا گیا تھا، اسپتال میں علاج کے بعد آج خدمات سے رجوع ہوگئے ۔جستس شٹی کے سینہ ، ہاتھ اور گردن پر چاقو سے حملہ کیا گیا تھا ۔