لنگایت طبقے کو الگ مذہب کا معاملہ ، کابینہ میں کوئی تکرار نہیں ہوئی: ایم بی پاٹل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th March 2018, 8:32 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،9؍مارچ(ایس او نیوز) ریاستی حکومت کی طرف سے لنگایت طبقے کو اقلیت کا درجہ دئے جانے کے معاملے پر ریاستی کابینہ میں کسی طرح کی تکرار نہیں ہوئی بلکہ انتہائی خوشگوار ماحول میں اس مسئلے پر بحث ضرور ہوئی، یہ بات آج وزیر برائے آبی وسائل ایم بی پاٹل نے کہی۔ انہوں نے کہاکہ بیشتر ٹی وی چینلوں اور اخبارات میں یہ غلط خبر شائع ہوئی ہے کہ لنگایت طبقے کو الگ مذہب کا درجہ دئے جانے پر کابینہ میں وزراء کے درمیان تکرار ہوئی، انہوں نے واضح کیا کہ کابینہ کے لنگایت وزراء شرن پرکاش پاٹل ، ایشور کھنڈرے ، ونئے کلکرنی، بسوراج رایا ریڈی ، ایس ایس ملیکارجن میں سے کسی نے بھی اس مسئلے پر استعفیٰ دینے یا ٹکراؤ کا رخ اپنانے کی بات بالکل نہیں کی۔انہوں نے کہاکہ اس مسئلے پر بحث کابینہ میں مکمل نہیں ہوپائی اسی لئے تفصیلی بحث کے مقصد سے ایک اور میٹنگ طلب کی گئی ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورومیٹرو برڈج میں خرابی کا نائب وزیراعلیٰ پرمیشور نے معائنہ کیا

شہر کے ایم جی روڈ پر ٹرینٹی سرکل کے قریب ایم جی روڈ بیپنا ہلی میٹرو روٹ کے پلر نمبر 155کے قریب ایک بیم میں دراڑ کا آج نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے معائنہ کیا اور کہاکہ اس سلسلے میں مرمت کا کام جاری ہے۔

زہریلے کھانے کا معاملہ، اعلیٰ سطحی جانچ کرانے سدارمیاکا مطالبہ

کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور مخلوط حکومت کے کورابطہ کمیٹی کے صدر سدارمیا نے سُلوادی گاؤں کے مرمَّا مندر میں زہریلا کھانہ کھانے سے 11 عقیدتمندوں کی موت اور 80 افراد کے بیمار ہونے کے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے ۔