بوڈو تنظیموں کا بی جے پی کو انتباہ ، بوڈولینڈبنائیں، ورنہ 2019 میں بوڈو کمیونٹی کی حمایت نہیں 

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 3rd December 2018, 2:26 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی: 2/دسمبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)قیام امن کے عمل میں شامل ہوئے ایک بوڈوطلباء تنظیم اورایک باغی گروپ نے ایک طرح سے بی جے پی کو خبردار کیا ہے کہ اگر مرکزی اور ریاست کی بی جے پی حکومتیں2019 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل بوڈو لینڈ بنانے کی سمت میں ٹھوس قدم نہیں اٹھاتا ہے تو اسے بوڈو کمیونٹی کی حمایت گنواناپڑے گی ۔ اگرچہ آسام میں بی جے پی زیر قیادت حکومت کے اتحادی بوڈو لینڈ پیپلز فرنٹ اور ریاستی حکومت نے اس انتباہ کوزیادہ اہمیت نہیں دی ہے ۔ آسام میں 126 اراکین والے اسمبلی میں 60 اراکین بی جے پی کے ہیں۔ بی جے پی یہاں آسام گن پریشد کے 14 ارکان اور بی پی ایف کے 12 ارکان کے ساتھ مل کر حکومت میں ہے۔ بی پی ایف واحدبوڈو سیاسی پارٹی ہے۔ بی پی ایف نے کہا کہ وہ بی جے پی کو حمایت دینا برقرار رکھے گی اور ایک الگ بوڈو لینڈ کا مطالبہ ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم آل بوڈو اسٹوڈنٹس یونین اور اسلحہ چھوڑ کر امن عمل میں شامل ہونے والے پہلی عسکریت پسند تنظیم ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ (پروگریسو) نے عزم کیا ہے کہ اگر بی جے پی 2019 کے انتخابات سے پہلے علیحدہ ریاست بنانے کے لئے مضبوط قدم نہیں اٹھاتا ہے تو وہ اس پارٹی کو اگلے لوک سبھا انتخابات میں ہرائے گی ۔ اے بی ایس یو اور این ڈی ایف بی (پی) نے بی جے پی پر ’جھوٹی یقین دہانی‘ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہاں تک کہ اب یہ پارٹی بوڈولینڈ کے بارے میں بات کرنے کو بھی تیارنہیں ہے۔اے بی ایس یو کے صدر پرمود بوڈو نے کہا کہ اگر بی جے پی بوڈو کمیونٹی کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کے پاس بوڈو لینڈ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اپریل 2019 تک کا وقت ہے۔ الگ بوڈو لینڈ بنانے کی مانگ 967سے شروع ہوئی تھی۔ 1980 کے آخری دہائی میں بوڈو سیکورٹی فورس کے قیام کے بعد یہ مطالبہ مسلح تصادم میں بدل گیا ۔ یہ ایک انتہاپسند گروپ تھا جو اب این ڈی ایف بی میں بدل گیا ۔آسام کے وزیر خزانہ اور بی جے پی کے سینئر لیڈرنے کہا کہ اے بی ایس یوصرف ایک طالب علم تنظیم ہے اور الگ بوڈو لینڈ پر کوئی بھی بحث صرف بی پی ایف کے ساتھ ہو گی۔ 

ایک نظر اس پر بھی

آندھرا پردیش اسمبلی انتخا بات میں تیلگو دیشم پارٹی کو بھاری شکست کےآثار؛ جگن موہن ریڈی کی وائی ایس آر کانگریس کو مل رہی ہے شاندار کامیابی

آندھرا پردیش میں اسمبلی انتخابات  کے ووٹوں کی گنتی جاری ہے، مگر دوپہر تک ملی اطلاع کے مطابق  یہاں وائی ایس آر کانگریس کے جگن موہن ریڈی بھاری جیت درج کرتے نظر آرہے ہیں اور برسراقتدار پارٹی تیلگودیشم صرف 29 سیٹوں پر سمیٹتی نظر آرہی ہے۔یہاں صرف ان ہی دو پارٹیوں کے درمیان راست ...

انتخابات کے دوران تشدد معاملہ:سپریم کورٹ نے بی جے پی امیدوار ارجن سنگھ کو دی راحت، 28 مئی تک گرفتاری پر لگائی روک

مغربی بنگال کے بیرکپور سے بی جے پی امیدوار ارجن سنگھ کو سپریم کورٹ سے راحت مل گئی ہے۔سپریم کورٹ نے 28 مئی تک ان کی گرفتاری پر روک لگا دی ہے۔غور طلب ہے کہ ارجن سنگھ نے کہا تھاکہ مجھ پر ریاستی حکومت نے 21 کیس درج کئے ہیں۔

رافیل معاملہ: سپریم کورٹ سے اپیل،بند لفافے میں غلط معلومات دینے والے افسران کے خلاف کارروا ئی ہونی چاہیے 

رافیل معاملے پر تنازعہ ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔اس معاملے میں درخواست گزار یشونت سنہا، ارون شوری اور پرشانت بھوشن نے نظر ثانی کی درخواست پر تحریری دلیلیں سپریم کورٹ میں داخل کی ہیں۔

جبل پورسیمی مقدمہ،دہشت گردی کے الزام سے نچلی عدالت سے بری ملزمین کے خلاف داخل حکومت کی اپیل خارج،جمعیۃ علماء کی کوششوں سے ملزمین کو راحت ملی: گلزار اعظمی

ممنوعہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار5/ مسلم نوجوانوں کی نچلی عدالت سے باعزت رہائی کے خلاف حکومت کی جانب سے داخل اپیل کو گذشتہ ہفتہ جبل پور کی سیشن عدالت نے یہ کہتے ہوئے خارج کردیا

سیٹلائٹ ری سیٹ -2بی کا کامیاب تجربہ

ہندوستانی خلائی ریسرچ تنظیم (اسرو) نے چہارشنبہ کو لانچ وہیکل پی ایس ایل وی-سی46 سے زمین کی نگرانی کرنے والے رڈار امیجنگ سیٹلائٹ آر آئی ایس ٹی۔ 2 بی کا کامیاب تجربہ کرکے ایک بار پھر بڑی کامیابی حاصل کی۔

لوک سبھا انتخابات کے نتائج؛ ملک میں پھر ایک بار مودی سرکار؛ کانگریس اور اسکی حلیف جماعتوں کو شرمناک شکست کا سامنا

لوک سبھا انتخابات کی 542 سیٹوں کے لئے  ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور اب تک سامنےآئے رجحانات میں بی جے پی اور اس کی حلیف این  ڈی اے  کو زبردست جیت حاصل ہورہی ہے اس کے ساتھ ہی  پھر ایک بار مودی سرکار کا  اقتدار میں آنا طئے ہے۔ کانگریس اور اس کی حلیف جماعتیں اس قدر پیچھے نظر آرہی  ہیں ...