مسلمانوں کی خوشنودی ،ہندومخالف سیاست کی طرف لوٹ رہی ہے کانگریس:بی جےپی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th July 2018, 1:18 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،12جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جےپی )نے کانگریس رکن پارلیمان اور سابق مرکزی وزیرششی تھرور کے ملک کے ’ہندوپاکستان ‘بننے سے متعلق بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس ہندستان اور اسکی جمہوریت کو بدنام کرنے اور ہندؤوں کو دہشت گردی سے جوڑکر خوشنودی حاصل کرنے کی سیاست کی طرف لوٹ رہی ہے ۔

بی جے پی کے ترجمان ڈاکٹر سمبت پاترانے یہاں صحافیوں سے کہاکہ کانگریس صدر راہل گاندھی کی کل مسلم دانشوروں سے ملاقات کے تھوڑی دیر بعد مسٹر تھرورکے اس بیان سے ثابت ہوگیاہے کہ کانگریس صدر راہل گاندھی مندر وں کے درشن اور جنیوپہننے کی فینسی ڈریس مقابلے سے باہر آگئے ہیں اور کانگریس خوشنودی حاصل کرنے کی سیاست کے بغیر اسی طرح سے نہیں رہ سکتی جیسے پانی کے بغیر مچھلی ۔

انھوں نے میڈیا رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ان رپورٹوں میں ذرائع کے حوالہ سے کہاگیاہے کہ مسٹر گاندھی نے مسلم دانشوروں سے مندر کے درشن کی سیاست پر معافی مانگی ہے اور خوشنودی حاصل کرنے کی سیاست کی طرف لوٹنے کا وعدہ کیاہے ۔انھوں نے کہاکہ وہ میڈیاکی رپورٹوں کو سچ مانتے ہیں۔

مسٹر سمبت پاترانے کہاکہ آج کی سب سے اہم خبر یہ آئی ہے کہ ہندستان کی معیشت فرانس کو پیچھے چھوڑ کر دنیاکی چھٹی سب سے بڑی معیشت بن گئی ہے ۔لیکن وزیراعظم نریندرمودی اور بی جے پی سے نفرت کی وجہ سے کانگریس باربار ہندستان اور جمہوریت پر حملہ کرنے سے باز نہیں آرہی ہے ۔

انھوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی نے ہندودہشت گردی کا لفظ استعمال کیاتھا اور آج ’ہندوپاکستان ‘کا نیالفظ وضع کیاہے ۔انھوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی باربار ہندوؤں پر حملہ کررہی ہے ۔پاکستان دہشت گردی کی حمایت کرنے والا ملک ہے اور ’ہندوپاکستان ‘کہہ کر ہندوؤں پر براہ راست پھر سے دہشت ہونے کا الزام لگایاہے ۔

انھوں نے کہاکہ کانگریس کے لیڈر ہندستان کے آئین کو توڑے جانے کا اندیشہ ظاہر کررہے ہیں لیکن خود کی تاریخ دیکھیں جس میں ایمرجنسی کے سیاہ داغ ہیں جس میں کانگریس نے دوسال تک آئین کو معطل کرکے رکھاتھا۔کانگریس کی حکومت میں ہی ریاستوں کی 88منتخب حکومتوں کو گرایاگیا۔

بی جے پی ترجمان نے کانگریس کو متنبہ کیاکہ وہ ملک میں خوف پیداکرنے کی سیاست نہ کرے ۔

ایک نظر اس پر بھی

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھیم آرمی کے سربراہ کی مولانا ارشد مدنی سے خصوصی ملاقات؛ ریاستی سیاست میں ہلچل

جیل سے رہائی کے بعد بھیم آرمی سربراہ چندر شیکھر آزاد نے دیوبند پہنچ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ۔اس ملاقات کے بعد میڈیا سے صرف یہ کہا کہ دبے کچلے طبقات کو ایک ساتھ لانا اور انہیں متحد کرنا ان کا مقصد ہے اور اسی کے تحت وہ یہاں آئے ...