حکومت کو نشانہ بنانے اپوزیشن تیار، دفاع کے لئے حکومت بھی کمربستہ

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 7th December 2018, 3:10 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو۔6؍دسمبر(سیاست نیوز) ریاستی لیجسلیچر کا سرمائی اجلاس بلگاوی کے سورنا سودھا میں پیر سے شروع ہونے والا ہے۔ اجلاس میں حکمران اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان ریاست کے کئی سلگتے ہوئے مسائل پر مباحث اور ہنگامہ آرائی متوقع ہے۔ ریاست کے اہم مسائل کو اجاگر کرنے اور اس پر حکومت کو نشانہ بنانے کے لئے اپوزیشن نے حکمت عملی مرتب کی ہے تو دوسری طرف ریاستی عوام کی فلاح وبہبود کے لئے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات ، کسانوں کے قرضوں کی معافی اور دیگر کارروائیوں کی بنیاد پر حکومت نے اپنے دفاع کی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت قائم ہونے کے بعد بلگاوی میں یہ پہلا لیجسلیچر اجلاس ہوگا۔ اس میں خاص طور پر گنے کے کاشتکاروں کا مسئلہ شدت کے ساتھ اٹھایا جاسکتا ہے تو دوسری طرف شمالی کرناٹک کی ہمہ جہت ترقی کے موضوع پر ایوان میں بحث ہوسکتی ہے۔ بلگاوی لیجسلیچر اجلاس سے پہلے شکر کے کارخانوں سے کسانوں کو واجب الادا بقایا جات دلانے کے متعلق ریاستی حکومت کی یقین دہانی اور وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کی مصالحت کے بعد حکومت پر زور دیا جارہا ہے کہ فوری طور پر ان بقایا جات کی ادائیگی کے لئے ضروری قدم اٹھائے جائیں ۔ پچھلے دنوں بلگاوی میں سورنا سودھاکے روبرو احتجاج پر بیٹھے کسانوں کو وزیرآبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے منالیا تھا، اور ان کی یقین دہانی پر حکومت ان کے مسائل سلجھانے میں سنجیدہ ہے ، کسانوں نے اپنا احتجاج واپس لیاتھا۔ اس کے علاوہ ریاست کے 100 سے زائد تعلقہ جات میں خشک سالی کی سنگین صورتحال ایوان میں زیر بحث آئے گی۔ جہاں اپوزیشن پارٹیوں نے خشک سالی سے نپٹنے کے لئے حکومت کے اقدامات کو ناکافی قرار دیا ہے تو دوسری طرف ریاستی حکومت نے مرکز پر الزام لگایا ہے کہ خشک سالی سے نپٹنے کے لئے فنڈز کی فراہمی میں کرناٹک کے ساتھ اپنایا گیا سوتیلا سلوک امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ ریاستی حکومت کمزور کرنے کے لئے بی جے پی کی طرف سے بارہا کئے جارہے آپریشن کمل کا موضوع بھی ایوان میں اٹھایا جاسکتا ہے۔ دو دن قبل ہی مرکزی وزیر پرکاش جاؤڈیکر نے خود یہ کہہ کر بی جے پی کی طرف سے آپریشن کمل کی تصدیق کردی کہ دسمبر کے اختتام تک کرناٹک میں سیاسی انقلاب ضرور آئے گا، اس بات کو لے کر حکمران اور اپوزیشن دونوں میں الزام تراشیوں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ 
 

ایک نظر اس پر بھی

توہم پرستی کے مخالفین کومذہب دشمن قراردیاجارہاہے: ملیکارجن کھرگے

پارلیمان میں کانگریسی رہنما ملیکارجن کھرگے نے کہاکہ آج سماج میں توہم پرستی کی مخالفت کرنے والوں کومذہب کے دشمن کے طورپر پیش کیاجارہاہے ،یہاں کونڈجی بسپاہال میں اکھل بھارت شرن ساہتیہ پریشد اورماچی دیواسمیتی کی جانب سے اشوک دوملور کی تین مختلف زبانوں میں تحریرکردہ کتابوں ...

22دسمبر کو کابینہ میں ضرور توسیع ہوگی: دنیش گنڈو راؤ

پردیش کانگریس کمیٹی ( کے پی سی سی ) صدر دنیش گنڈو راؤ نے بتایا کہ 22دسمبر کوریاستی کابینہ میں توسیع ضرور ہوگی۔کے پی سی سی دفتر میں نامہ نگاروں سے انہوں نے کہا کہ کابینہ میں توسیع سے متعلق وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی ،نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور سمیت دونوں پارٹیوں کے لیڈروں ...

بی جے پی الزام عائد کرنے سے پہلے سی اے جی رپورٹ کاجائزہ لے: سدرشن

کے پی سی سی نائب صدر قانون سازکونسل کے سابق چیرمین وی آر سدرشن نے کہاکہ بی جے پی رہنما ؤں کو سابق وزیراعلیٰ سدارامیا کے دورمیں 35ہزار کروڑ روپئے کاگھپلہ ہونے کالزام لگانے سے پہلے سی اے جی رپورٹ کاجائزہ لینا چاہئے ۔

بلگام :پروفیسر خواجہ فرازؔبادامی کو  کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ سے فن عروض کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی سند تفویض  

گوکاک  جے ایس ایس ڈگری کالج کے شعبہ اردو کے صدر پروفیسر خواجہ بندہ نواز انڈیکر فرازؔبادامی کو کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ کی طرف سے  ’’اردو عروض اور ہندی پنگل کا تقابلی مطالعہ ‘‘کے موضوع پر ڈاکٹر آف فلاسفی (پی ایچ ڈی ) کی سند تفویض کی گئی ہے۔

بنگلور میں منعقدہ APCR کارگاہ میں دہشت گردی کے نام پر بے گناہوں کی گرفتاریوں پر سخت تشویش؛سابق چیف جسٹس اور معروف وُکلا نے کی، یو اے پی اے کی سخت مخالفت

اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس (اے پی سی آر) کرناٹک چاپٹر کے زیراہتمام ریاستی سطح کے ورکشاپ میں دہشت گردی کے نام پر بے گناہ مسلمانوں کی گرفتاریوں پر سخت تشویش کااظہار کیا گیا اور سابق چیف جسٹس آف انڈیا مسٹر وینکٹ چلیّا سمیت معروف وُکلاء نے یو اے پی اے اسپیشل قانون کی سخت ...