بی جے پی ’’ بیٹی بچاؤ ‘‘ سے بیٹا بچاؤ پر اتر آئی ہے : راہل گاندھی 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th October 2017, 12:08 AM | ملکی خبریں |

ودودڑ:10؍اکتوبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )بی جے پی صدر امت شاہ کے بیٹے کی کمپنی کے کاروبار میں بھاری ٹرن اوور سے متعلق ’’ دی وائر ‘‘ کے مبینہ انکشاف کے بعد کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ حکومت’بیٹی بچاؤ‘ سے آگے بڑھتے ہوئے ’بیٹا بچاؤ‘ میں مصروف ہے ۔ کانگریس کے نائب صدر کا بیان ا س وقت آیا جب بی جے پی صدر کے بیٹے جے شاہ کی حمایت میں بی جے پی اور بر سر اقتدار طبقہ کے کئے لیڈران حمایت اور بچاؤ میں آ کھڑے ہوئے ہیں ۔ راج ناتھ سنگھ اور پیوش گوئل سمیت کئی لیڈران ’’ دی وائر‘‘ کے انکشاف کو بے بنیاد قرار دیا تھا ۔ راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر کہا: بیٹی بچاؤ سے بیٹا بچاؤ کے طور پر عظیم تبدیلی ۔ انہوں نے شاہ کے بیٹے کو تنقید کرتے ہوئے ’’ شاہ زادہ ‘‘ کے طور پر خطاب کیا تھا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیوش گوئل نے جے شاہ کے کاروباری معاملات کا دفاع کیا ہے ۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے کل وزیراعظم نریندر مودی کو اس موضوع پر پر اسرار خاموشی توڑنے کے لئے زور دیا تھا۔راہل گاندھی نے کہا تھا: مودی جی !کیا آپ خاموش تماشائی یا ایک پارٹنر ہیں؟ براہ کرم کچھ بولیں ۔ کانگریس نے اس معاملے میں بی جے پی کو جم کر تنقید کا نشانہ بنایا جس کا مقصد یہ تھا کہ اس معاملے کو سپریم کورٹ کے جج کمیٹی سے انکوائری کا حکم دیا جائے ۔جے پور میں کانگریس کے ترجمان پر دیپ سرجیوال نے کہا تھا کہ پی ایم مودی پرلازم ہے کہ امت شاہ کو پارٹی صدر کے عہدے سے فارغ کر دینا چاہئے اور سپریم کورٹ کے دو ججوں کے کمیشن سے تحقیقات کرانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا وزیر اعظم کے لئے مشکل ہو گا۔ ملک ان کی طرف دیکھ رہا ہے کہ وہ دوستی نبھاتے ہیں یا جماعتی سیاست کرتے ہیں یا پھر سچ اور انصاف کی پیروی کر تے ہیں ۔ سریج والا نے کہا کہ اس میں شفافیت کا نفاذ اور احتساب لازمی ہے ۔ اگر آپ نے کوئی غلط کام نہیں کیا تو تحقیقات سے خوف کیوں کھاتے ہیں ۔ واضح ہوکہ ’’ دی وائر ‘‘ کو100کروڑ کا ہتک عزت کا نوٹس امیت شاہ کے لڑکے جے شاہ کی طرف سے بھیج دیا گیا ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

سنیمامیں لوگ تفریح کے لیے جاتے ہیں،قومی گیت کولازمی نہیں کیاجاسکتا؛قومی ترانہ پرسپریم کورٹ نے کہا، ہمیں اپنے ہاتھوں میں حب الوطنی نہیں رکھنی چاہیے

سنیماگھروں میں قومی گیت لازمی بنانے کے فیصلہ کے ایک سال بعد ایک موڑ آیاہے۔اب سپریم کورٹ نے سینٹرکوبتایاہے کہ وہ اس معاملے میں خودفیصلہ کرتے ہیں، ہر کام کو عدالت میں داخل نہیں کیاجاسکتاہے۔