میٹرو ملازمین سے احتجاج واپس لینے بی ایم آر سی ایل کی اپیل کالی پٹی باندھنے پر انتظامیہ کو اعتراض ، گھر واپس بھیجنے کا الزام

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th March 2018, 11:17 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 11؍مارچ (ایس او نیوز) بنگلورو میٹرو ریل کارپوریشن (بی ایم آر سی ایل نے اپنے تمام ملازمین کے نام مکتوب روانہ کیا ہے جس میں ان سے گزارش کی گئی ہے 22 مارچ 2018 کو مجوزہ ہڑتال نہ کریں ۔ ملازمین اگر احتجاج میں شرکت کرتے ہیں تو ایسما ایکٹ کے تحت کارروائی بھی ہوسکتی ہے ۔ بی ایم آر سی ایل نے اپنے ملازمین کو مکتوب کے ذریعہ بتایا ہے کہ ان کے تمام مسائل پر غور کیا جائے گا مگر انہوں نے جو احتجاج کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اس سے باز آجائیں ۔ واضح ہوکہ تنخواہ اور دیگر مسائل کو لے کر ملازمین یونین نے 22 مارچ سے احتجاج کرنے کا فیصلہ لیا ہے ۔ یونین کے نائب صدرنے اعلان کیا تھا کہ 21 مارچ تک وہ اور ان کے ساتھی سیاح پٹی باندھ کر علامتی احتجاج کریں گے جس پر جمعہ سے عمل آوری بھی ہوچکی ہے ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق بی ایم آر سی ایل کے اعلیٰ افسران میٹرو اسٹیشنوں میں پہنچ کر ان ملازمین کو سیاح پٹی نکالنے پر مجبور کررہے ہیں ۔ انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ کالی پٹی نکال کر پھینکو ورنہ رجسٹر میں ان کی غیرحاضری درج کی جائے گی ۔ ملازمین نے اس سلسلہ میں بتایا کہ بی ایم آر سی ایل انتظامیہ کی جانب سے ہدایات دی جارہی ہیں کہ علامتی احتجاج سے باز آجائیں۔ اپنے ہاتھوں پر بندھی سیاح پٹی کو اُتار کر ڈیوٹی کریں گے ورنہ انہیں واپس گھر بھیج دیا جائے گا۔ بی ایم آر سی ایل کے ایگزی کیٹیوں(آپریشن و مینجمنٹ) اے ایس شنکر نے اس طرح کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ افسران یا انتظامیہ کی جانب سے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ بی ایم آر سی ایل انتظامیہ نے ملازمین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں پرسیاح پٹی نہ باندھیں۔ مزید یہ کہ ملازمین اپنی ڈیوٹی کو بحسن خوبی انجام دیں۔ عنقریب ان تمام مسائل پر غور کیا جائے گا ۔ میٹرو ریلوے (او اینڈ ایم) ایکٹ 2002 اور میٹرو ریلوے ایمپلائز جنرل رولس 2013 پر غور کرنے کیلئے بی ایم آر سی ایل ہائی کورٹ میں جانے کی تیاری کررہی ہے تاکہ ایسما پر لگے اسٹے کو ختم کیا جائے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں سدرامیا پھر غالب، ہنگامہ خیزی کے اندیشوں کے برعکس میٹنگ میں کسی نے بھی زبان نہیں کھولی

حسب اعلان 22دسمبر کو ریاستی کابینہ میں توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے آج سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر سدرامیا نے تمام کانگریسی اراکین کو خاموش کردیا۔

مندروں کو دئے جانے والے فنڈز کو فرقہ وارنہ رنگ دینے بی جے پی کی مذموم کوشش، اسمبلی میں اسپیکر نے فرقہ پرست جماعت کی ایک نہ چلنے دی

وقفۂ سوالات میں بی جے پی رکن اسمبلی سی ٹی روی کی طرف سے سوالات تک خود کو محدود رکھنے کی بجائے ایک معاملے پر بحث شروع کرنے کی کوشش کو جب اسپیکر رمیش کمار نے روک دیا تو اس بات پر بی جے پی اراکین اور اسپیکر کے درمیان نوک جھونک شروع ہوگئی۔

ریاست کرناٹک میں 800 نئے سرویرس کا تقرر

وزیر مالگزاری آر وی دیش پانڈے نے آج ریاستی اسمبلی کو بتایاکہ ریاست بھر میں اراضی سروے کی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے محکمے کی طرف سے 800نئے سرویرس کا تقرر کیا گیا ہے۔

پسماندہ طبقات کے سروے کی رپورٹ تیاری کے مراحل میں: پٹ رنگا شٹی

ریاستی وزیر برائے پسماندہ طبقات پٹ رنگا شٹی نے کہا ہے کہ سابقہ سدرامیا حکومت کی طرف سے درج فہرست طبقات کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے مقصد سے جو سماجی ومعاشی سروے کروایا گیا تھا اس کے اعداد وشمار کو کمپیوٹرائز کرنے کا عمل جاری ہے۔