کرناٹک کے سرکاری اسکولوں میں بیومیٹرک نظام کا نفاذ عنقریب

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th June 2018, 11:20 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو14؍ جون (ایس او   نیوز)کرناٹک کی پرائمری اور ہائی اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لئے محکمۂ تعلیمات نے بیومیٹرک آلہ نصب کرنے کے کام میں تیزی لانا شروع کردیا ہے ۔ محکمہ کو شکایات موصول ہورہی ہیں کہ اساتذہ بچوں کو پڑھانا چھوڑ کر سیاست کی سرگرمیوں میں مصروف ہورہے ہیں ۔ ان کی شکایات کو غور سے سننے کے بعد محکمہ تعلیمات نے تمام اسکولوں میں بیومیٹرک نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی تنصیب کا کام بھی زوروں پر چل رہا ہے ۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر شالنی رجنیش نے یہ بات بتائی ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بیو میٹرک نظام نافذ ہونے کے بعد مقامی اور ریاستی سطح کے افسروں کو اساتذہ کی حاضری کے متعلق تفصیلات فراہم ہوں گی ۔ اس آلہ کی تنصیب سے تعلیمی معیار بھی بڑھے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ بیو میٹرک نظام کی تجویز نئی نہیں ہے لیکن اس نظام کو ابھی تک مکمل نہیں کیا ہے ۔ مقامی وسائل کے استعمال سے اس نظام کو نافذ کرنے کے متعلق اس سے قبل بھی محکمہ تعلیمات نے سرکیولر جاری کیا تھا لیکن اس کیلئے دوگنی رقم خرچ ہونے کا اندازہ لگایا گیا جس کے نتیجہ میں اس نظام کو جاری رکھنا ممکن نہیں ہوسکا ۔ انہوں نے بتایا کہ محکمۂ تعلیمات کی طرف سے مقرر کردہ فیس سے زیادہ ڈونیشن حاصل کرنے والی نجی اسکولوں کے افسروں سے ملاقات کرکے اسکولوں کی جانچ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ والدین سے ڈونیشن کے نام پر افزود رقم وصو ل کئے جانے کے متعلق محکمہ کو کئی شکایات موصول ہوئی ہیں ۔ اس لئے افسروں کو چاہئے کہ وہ متعلقہ اسکولوں کا دورہ کرکے حکومت کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے ایسے اسکولوں کے خلاف کارروائی کرے ۔ اس سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر کے ماتحت رہنے والے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کنٹرول اتھارٹی کو بھی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شالنی رجنیش نے بتایا کہ سرکاری اسکولوں سے ایک کلومیٹر کی حدود میں نجی اسکولوں کو منظوری نہ دینے کا قانون ہے اس کے باوجود قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی نجی اسکول قائم کئے گئے ہیں ۔ سرکاری اسکولوں میں بچوں کی کمی کی ایک وجہ نجی اسکول بھی ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی نجی اسکولوں کے متعلق افسران کو ایک مہینہ میں فہرست تیار کرکے ان کے خلاف کارروائی کرنے کی سخت ہدایت دی گئی ہے ۔ دریں اثناء پرائمری اور ہائی اسکولوں کے اساتذہ کیلئے بیومیٹرک نظام جاری کرنے کے محکمہ کے اس اقدام کا اساتذہ کی تنظیم نے استقبال کیا ہے ۔ تنظیم کے جنرل سکریٹری چندرشیکھر نُگلی کے مطابق بیو میٹرک نظام نافذ کرنے محکمہ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے اس کے لئے تنظیم کی طرف سے کسی بھی طرح کی رکاوٹ نہیں آئے گی ۔ لیکن اس کو نافذ کرنے سے قبل دیہاتوں میں واقع اسکولوں کو بجلی کی سہولت سمیت دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہوگا ۔ انہوں نے بتایاکہ اسکولوں میں بجلی اور سرور کا مسئلہ درپیش ہے ۔ ایسے میں بیومیٹرک نظام نافذ کئے جانے کے بعد اگر کوئی پریشانی لاحق ہونے کی صورت میں اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ انہوں نے بتایا کہ بیومیٹرک جیسے انتظامات کے ذریعہ اساتذہ پر دباؤ ڈالنے کے بجائے محکمہ میں واقع نقائص دور کرنے کیلئے اقدام کریں۔ ترقی اور تبادلہ سمیت مختلف موضوعات کی فائلیں ، لیٹر ہیڈکی نگرانی کا صحیح انتظام نہ ہونے کے سبب اساتذہ کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ سب سے پہلے اس کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کے سینئر لیڈر آر اشوک نے سدارامیا اور کمار سوامی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا

وکھے درخت کے پتوں کی مانند جھڑرہے کانگریس اراکین اسمبلی کی آنکھوں میں اندھیراچھا گیا ہے۔ انہیں آگے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔ ریاست کے عوام نے مخلوط حکومت کی چڈی پھاڑدی ہے۔ اس قسم کی طنزیہ باتیں بی جے پی کے سینئر قائدآر اشوک نے کہیں۔

کرناٹک پبلک اسکولوں میں سرکاری اسکولوں کو ضم نہیں کیا جائے گا

سرکاری اسکولوں کو ضم کئے بغیر ہی کرناٹک پبلک اسکول چلانے کی تجویز محکمہ تعلیمات کے زیر غور ہے ۔ سرکاری نظام کے تحت ایک ہی پلاٹ فارم پر پہلی سے بارھویں جماعت تک کی تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے کرناٹک پبلک اسکولوں کا انعقاد 2018-19 سے ہی شروع ہوگیا تھا ۔

کمارسوامی نے وزیراعلیٰ کا عہدہ دیش پانڈے کو سونپنے کی رکھی تھی شرط ، کانگریس لیڈران رہ گئے دنگ؛ کماراسوامی کی قیادت پر ہی ظاہر کیا گیا اعتماد

لوک سبھا انتخابات میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کی رسواکن شکست کے بعد کل وزیراعلیٰ کمار سوامی کی قیادت میں طلب کی گئی غیر رسمی کابینہ میٹنگ کے دوران وزیراعلیٰ کمار سوامی کی طرف سے استعفے کی پیش کش کے متعلق چند نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔