بس کرایوں میں اضافہ ناگزیر: وزیر ٹرانسپورٹ ڈی سی تمنا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th September 2018, 12:21 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،4؍ستمبر(ایس او نیوز) ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو دیکھتے ہوئے کے ایس آر ٹی سی ، بی ایم ٹی سی اور دیگر ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کی طرف سے بس کرایوں میں اضافے کو وزیر ٹرانسپورٹ ڈی سی تمنا نے ناگزیر قرار دیا۔

اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایک ہفتے کے اندر وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی سے بات چیت کرکے بس کرایوں سے متعلق تبادلۂ خیال کریں گے۔ اس کے بعد اضافے کے متعلق قطعی فیصلہ لیا جائے گا۔

اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کی طرف سے ریاستی حکومت کو یہ تجویز موصول ہوئی ہے کہ کم از کم 18 فیصد اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں نے بتایاہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے سبب 18 فیصد کرایہ بڑھانے کے بعد بھی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کا خسارہ برقرار رہے گا۔

وزیر موصوف نے کہاکہ ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر جو اضافہ ہورہاہے اس سے ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کے اخراجات میں ہونے والا اضافہ برداشت کی حد سے باہر ہے۔انہوں نے کہاکہ اس کے باوجود بھی ریاستی حکومت کی طرف سے اضافے کو اس حد تک ہی محدود رکھا جائے گا کہ وہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے تین ماہ کے دوران کے ایس آر ٹی سی، بی ایم ٹی سی ، شمال مشرقی اور شمال مغربی کے ایس آر ٹی سی ان تمام اداروں کو 186کروڑ روپیوں کا خسارہ اٹھانا پڑ ا ہے۔ اسکولوں اور کالجوں کے طلبا کو مفت بس پاسوں کی فراہمی کا تنازعہ جو مخلوط حکومت سے اب تک نہیں سلجھ پایا ہے اس سلسلے میں مسٹر تمنا نے کہاکہ ایک ہفتے کے اندر اسے سلجھالیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ کے ساتھ میٹنگ کے دوران یہ مسئلہ بھی زیر بحث لایا جائے گا۔

وزیر موصوف نے مفت بس پاس فراہم نہ کرنے کا واضح اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے غالباً بس پاس کی شرح مقرر کی جائے گی اور اس میں درج فہرست طبقوں سے وابستہ طلبا کو 50 فیصد رعایت دی جائے گی۔ اگر ان طلبا کو مفت بس پاس فراہم کرنا ہے تو محکمۂ ٹرانسپورٹ کو واجب الادا 50 فیصد رقم محکمۂ سماجی بہبود کو ادا کرنی پڑے گی۔ کے ایس آر ٹی سی کی طرف سے عنقریب سلیپر بس خدمات میں اضافے کااعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دور دراز مقامات کو جانے والوں کی سہولت کے لئے مانگ کی بنیاد پر40 نئی سلیپر بسیں خریدی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ نجی بسوں کی بھرمار کو مرحلہ وار روکنے کے لئے محکمۂ ٹرانسپورٹ اور کے ایس آر ٹی سی نے طے کیا ہے کہ پرائیویٹ ٹور آپریٹروں کے لئے چند روٹس مختص کردی جائیں ، ان روٹوں سے ہٹ کر انہیں کہیں بھی بسیں دوڑانے نہیں دیا جائے گا۔ ساتھ ہی پرائیویٹ ٹرانسپورٹروں کی طرف سے کرایے کی وصولی کے لئے ایک ضابطہ وضع کیا جائے گا، جس کے تحت ریاستی حکومت کی طرف سے طے شدہ شرحوں کی حدود میں ہی وہ کرایے کا تعین کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بنگلور میں پرائیویٹ ٹرانسپورٹروں کے لئے لازمی قرار دیا گیاہے کہ وہ اپنی بسیں کھڑی کرنے اور ان کی مرمت وغیرہ کی دیکھ بھال کے لئے اپناگیریج اور بس اسٹانڈ قائم کرلیں۔

ریاستی حکومت کی طرف سے پرائیویٹ بسوں کے لئے کوئی بس اسٹانڈ مہیا نہیں کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ فی الوقت بنگلور میں جو پرائیویٹ بس اسٹانڈ موجود ہے، اسے ٹمکور روڈ کے بسویشورا بس اسٹانڈ منتقل کیاجائے گا۔ شہر میں جابجا سڑکوں پر جو پرائیویٹ بسیں کھڑی کی جاتی ہیں آئندہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ٹرانسپورٹروں پر پابندی لگائی جائے گی کہ ان بسوں کی پارکنگ کا انتظام وہ بسویشورا بس اسٹانڈ میں ہی کریں۔

انہوں نے کہاکہ اس بس اسٹانڈ تک مسافروں کو پہنچنے میں آسانی کے لئے شہر سے بی ایم ٹی سی بسوں کا انتظام مختلف مقامات پر کیا جائے گا۔ محکمۂ ٹرانسپورٹ میں عملے کی کمی کے متعلق ایک سوال پر وزیر موصوف نے کہاکہ اسی وجہ سے پرائیویٹ بسوں اور دیگر ٹرانسپورٹ ذرائع پر روک لگانے میں دشواری پیش آرہی ہے۔اگر بی ایم ٹی سی اور کے ایس آر ٹی سی کے پاس جانچ کا مناسب عملہ دستیاب رہا تو پرائیویٹ بسوں پر آسانی نظر رکھی جاسکے گی۔ محکمے میں ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسرس(آر ٹی او) انسپکٹرس اور دیگر اسامیاں کافی عرصے سے خالی پڑی ہوئی ہیں۔ محکمہ اس بات کے لئے کوشاں ہے کہ جلد از جلد ان کو پر کیا جائے تاکہ بی ایم ٹی سی اور کے ایس آر ٹی سی کے جانچ نظام کو مستعد کیا جاسکے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

باغی اراکین اسمبلی ایوان کی کارروائی میں حاضر ہونے کے پابند نہیں:سپریم کورٹ عدالت کے فیصلہ سے مخلوط حکومت کو جھٹکا -کانگریس عدالت سے دوبارہ رجوع کرے گی

کرناٹک کے باغی اراکین اسمبلی کے استعفوں سے متعلق سپریم کورٹ نے آج جو فیصلہ سنایا ہے وہ ”آڑی دیوار پر چراغ رکھنے“ کے مصداق ہے- کیونکہ اس سے نہ کرناٹک کا سیاسی بحران ختم ہوگا اورنہ ہی مخلوط حکومت کو بچانے میں کچھ مدد ملے گی-