آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ سے متعلق ساکشی مہاراج کابیان قابل مذمت:شمائل نبی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th February 2018, 8:42 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی14فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)آل انڈیا مسلم کانفرنس کے قومی صدر اور بہار کے سابق وزیر شمائل نبی اور کانفرنس کے قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر سید عبداللہ مدنی نے بی جے پی ایم پی ساکشی مہاراج کے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بارے میں دیئے گئے بیان کی سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا زہراگلنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ وہ اکثرو بیشتر مسلمانوں اوران کی تنظیموں کو غلط طریقہ سے پیش کرتے ہیں۔خیال رہے کہ ساکشی مہاراج نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو دہشت گرد تنظیم کہا ہے۔اورساکشی مہاراج کے ساتھ سبرامنیم سوامی نے بھی مولاناسلمان ندوی کادفاع کیاہے اوران کی شان میں خوب قصیدے پڑھے ہیں۔اس سے اندازہ ہوجاتاہے کہ خانہ خداکی جگہ بت خانہ بنانے کی کوششوں اورحالیہ سرگرمیوں کے پس پردہ کیاکھیل چل رہاہے ۔اس سے پہلے مولاناسلمان ندوی نے بھی مسلم پرسنل لاء بورڈپراپنی جھنجھلاہٹ ظاہرکرتے ہوئے انتہائی بھونڈے الزامات لگائے تھے۔اب ان کی ہم نوائی میں بی جے پی کے لوگ آرہے ہیں،قیاس آرائیوں کوتقویت ملنے لگی ہے ۔شمائل نبی نے کہاہے کہ مہاراج آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈکے بارے میں معلومات کے بغیر ایسا متنازع بیان دے رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

لندن میں سنگاپور کے پاسپورٹ پر رہ رہا نیرو مودی: ای ڈی ذرائع 

ڈائمنڈ کاروباری نیرو مودی اور ان کے خاندان کو کروڑوں روپے کے پنجاب نیشنل بینک فراڈ کیس کی تحقیقات میں شامل ہونے کے لئے نافذ کرنے والے ای ڈی کی طرف سے سمن جاری کئے جانے کے با وجود مافیا مودی نے ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے بیرون ملک رہنا تو دور وہ تفتیش کاروں کی پہنچ سے بھی دور ...

کرناٹک میں فتح کے بعد راہل کا مودی کو پیغام ، وزیراعظم ملک اور سپریم کورٹ سے بڑا نہیں:راہل گاندھی 

کرناٹک میں یدی یورپا کے وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دینے اور حکومت گرنے کے بعد راہل گاندھی نے بی جے پی اور پی ایم مودی پر جم کر حملہ کیا۔ ساتھ ہی کرناٹک میں بی جے پی کی شکست کو جمہوریت کی جیت بتایا۔

ہمیں اپنی چھٹیوں سے لطف اندوزہونے دیجئے : جسٹس سیکری

کرناٹک میں اقتدار کو لے کر تنازعہ پر سماعت مکمل کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج کہا کہ اب ہمیں اپنی چھٹیوں سے لطف اندوز ہونے دیجئے۔ عدالت عظمیٰ میں تین ججوں کے ایک بنچ کی صدارت کر رہے جسٹس اے کے سیکری نے جب عجیب انداز میں یہ تبصرہ کیا اس وقت عدالتی کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔