بھٹکل تعلقہ اسپتال میں ڈاکٹر کے خلاف عوام برہم - ڈی ایچ او سے کیا معطلی اور تبادلے کا مطالبہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 4th December 2023, 2:12 AM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 3 / دسمبر (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ سرکاری اسپتال میں ہڈیوں کے علاج کے ماہر ڈاکٹرجناردھن موگیرکی طرف سے مریضوں کے علاج میں غفلت اور اپنے فرائض انجام دینے میں ہونے والی کوتاہیوں کے پس منظر میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر(ڈی ایچ او) کی موجودگی میں میٹنگ منعقد ہوئی جس میں عوام کی طرف سے ڈاکٹر کے خلاف بے شمار شکایتیں سامنے آئیں۔ برہم عوام نے ڈی ایچ او سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ڈاکٹر جناردھن موگیر کومعطل کیا جائے اوران کا تبادلہ کسی دوسرے مقام پر کیا جائے۔

دو دن قبل حادثے کا شکار مریض اسپتال پہنچنے کے کئی گھنٹے تک ڈاکٹرجناردھن موگیر اس کا علاج کرنے کے لئے اسپتال نہ آنے اور مریض کو درد اور تکلیف میں چھوڑنے پر عوام کی بھیڑ جمع ہوئی تھی اور مشتعل عوام نے وارننگ دی تھی کہ اگر کاروار سے بھٹکل آکر ڈی ایچ او کی طرف سے اس معاملے کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی تو عوامی احتجاجی مظاہرا کیا جائے گا۔

اس پس منظرمیں بھٹکل پہنچے ڈی ایچ او ڈاکٹر نیرج نے تعلقہ اسپتال کا دورہ کیا اوریہاں عوام کی زبانی ڈاکٹر جناردھن موگیر کی طرف سے مریضوں کے علاج و معالجہ میں غفلت اور کوتاہیوں کی تفصیلات سنیں۔ اس موقع پر سماجی خدمت گارارشاد صدیقہ نے ڈی ایچ او کے روبرو اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر جناردھن موگیرمریض کو چھو کربھی نہیں دیکھتے اور بہت ہی لا پروائی سے مریضوں کے ساتھ برتاو کرتے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر جناردھن پرکئی الزامات لگائے اور انہیں فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔

حادثے میں زخمی ہوئی خاتون کی بیٹی روہینی نے وقت پر ڈاکٹر نہ آنے کی وجہ سے اس کی ماں کو ہوئی تکلیف کا احوال ڈی ایچ او کے سامنے رکھا اور بتایا کہ ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے علاج کے لئے کنداپور لے جا کر ہزاروں روپے خرچ کرنے پڑے۔ حادثے میں زخمی ہوئے ایک اور خاتون کے لڑکے نوشاد نے اپنا احوال سناتے ہوئے سوال کیا کہ کیا ہمیں اپنے فرائض کی ادائیگی میں اس طرح کوتاہی کرنے والے ڈاکٹر کی ضرورت ہے ؟ 

میٹنگ میں ڈاکٹر جناردھن موگیرکواپنی بات رکھنے کا موقع دینے کی بات آئی تو وہاں پر موجود عوام نے ان کی بات سننے سے انکار کیا جس کے ساتھ ہی تھوڑی دیر کے لئے گرما گرم بحث چھڑ گئی۔ اس موقع پر عوام نے ڈی ایچ او ڈاکٹر نیرج سے مطالبہ کیا کہ بھٹکل کے سرکاری اسپتال میں ایم آر آئی کی سہولت فراہم کی جائے، اس اسپتال کو ترقی دے کر 250 بستروں کے اسپتال میں تبدیل کرتے ہوئے بہترین خدمات فراہم کی جائیں۔

 ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نیرج نے بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی طرف سے شکایتیں سننے کے بعد بہت ساری باتیں میرے علم میں آئی ہیں ۔ اتنے دنوں تک یہاں ہوئے مریضوں کے علاج، آپریشن اور علاج کی سرگرمیوں بارے میں ہم نے سی سی ٹی وی فوٹیج سے تفصیلات حاصل کی ہیں ۔ تعلقہ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سویتا کامت سے بھی ڈاکٹر جناردھن موگیر کے  کام اور ان کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلات حاصل کی گئی ہیں۔ ہم یہ ساری معلومات ریاستی ہیلتھ کمشنر اور ریاستی وزیر صحت کو بھیجیں گے ۔ فی الحال ڈاکٹر جناردھن موگیر کو پندرہ کی دن رخصت پر بھیج دیا گیا ہے ۔ سرکاری طور پر اس معاملے میں ضروری کارروائی کی جائے گی ۔ 

ایک ٹیلی فون کال سے ڈی ایچ او کا پارہ کیوں اتر گیا ؟ :  میٹنگ کے آغاز میں ڈی ایچ او ڈاکٹر نیرج نے ڈاکٹر جناردھن موگیر کو آڑے ہاتھوں لیا، مگر میٹنگ کے دوران ڈی ایچ او کو ایک ٹیلی فون کال آیا۔ ڈی ایچ او نے میٹنگ سے باہر جا کر کال ریسیو کیا۔ پھر جب وہ واپس آئے تو لوگوں نے محسوس کیا کہ ڈی ایچ او کا پارہ اترگیا ہے۔ ان کا لہجہ بھی نرم ہوگیا ہے ۔ پھر ڈاکٹر نیرج نے وہاں پر موجود لوگوں سے درخواست کی کہ ڈاکٹر جناردھن کی غلطیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک آخری موقع دیا جائے۔ اس پر عوام کا پارہ چڑھ گیا اور انہوں نے کسی صورت بھی ڈی ایچ او کی درخواست ماننے سے انکار کیا اور ڈاکٹر جناردھن کی معطلی اورتبادلے کا مطالبہ کرتے ہوئے میمورنڈم پیش کیا ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

کاروار کے سمندر میں لگا ہوا 'رڈار' بھی چوروں کے ہاتھ سے بچ نہ سکا !

زمین پر سے قیمتی مشینیں چرانے والوں نے اب سمندر میں اپنے ہاتھ کی صفائی دکھانا شروع کیا ہے جس کی تازہ ترین مثال ماحولیاتی تبدیلیوں کے سگنل فراہم کرنے کے لئے کاروار کے علاقے میں بحیرہ عرب میں لگائے گئے 'رڈار' کی چوری ہے ۔

کمٹہ کے سمندر میں چینی جہاز کا معاملہ - کوسٹ گارڈ نے کہا : ہندوستانی حدود کی خلاف ورزی نہیں ہوئی

دو دن قبل کمٹہ کے قریب ہندوستانی سمندری سرحد میں چینی جہاز کی موجودگی اور اس سے ساحلی سیکیوریٹی کو درپیش خطرے کے تعلق سے جو خبریں عام ہوئی تھیں اس پر کوسٹ گارڈ نے بتایا ہے کہ یہ ایک جھوٹی خبر تھی اور چینی جہاز ہندوستانی سرحد میں داخل نہیں ہوا تھا ۔

ہوناور کاسرکوڈ میں ماہی گیروں پر زیادتیوں کے خلاف حقوق انسانی کمیشن سے کی گئی شکایت

ہوناور کے کاسرکوڈ ٹونکا میں مجوزہ تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف احتجاج کرنے والے مقامی ماہی گیروں  پر پولیس کی طرف سے لاٹھی، خواتین سمیت کئی لوگوں کی گرفتاریاں ، جھوٹے مقدمات کی شکل میں جو زیادتیاں ہوئی تھیں، اس کے تعلق سے حقوق انسانی کمیشن سے شکایت کی گئی ہے ۔

بھٹکل میں 'ریت مافیا' کا دربار - تعلقہ انتظامیہ خاموش - عوام بے بس اور لاچار

بھٹکل میں تعلقہ انتظامیہ کی خاموشی کی وجہ سے تعلقہ کے گورٹے، بیلکے، جالی، مُنڈلی نستار، بئیلور جیسے علاقوں میں ساحل سے ریت جیسی سمندری دولت لوٹنے کا کام 'ریت مافیا' کی طرف سے بلا روک ٹوک جاری ہے اور مقامی عوام پریشانی اور بے بسی و لاچاری سے یہ سب دیکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔