بھٹکل میں نیشنل ہائی وے کا نامکمل کام - ہوراٹا سمیتی نے کیا عوامی جدوجہد اور قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 10th February 2024, 2:30 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 10 / فروری (ایس او نیوز)گزشتہ12 سال قبل شروع کیا گیا نیشنل ہائی وے 66 کا تعمیری کام اب تک مکمل نہیں ہوسکا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے عوام کی زندگی عذاب بن کر رہ گئی ہے ۔ اس ضمن میں ہائی وے ڈیولپمنٹ اتھاریٹی، ضلع انتظامیہ اورمنتخب عوامی نمائندوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ 

ایسے میں ہوراٹا سمیتی نے اب احتجاج اور قانونی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مسئلے کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی کے نمائندوں نے شہر کے ٹورسٹ بنگلو میں ایک میٹنگ منعقد کی اورنیشنل ہائی وے توسیعی کام میں ہو رہی ہے تاخیر اور اس سے درپیش مسائل حل کرنے کے لئے آئندہ جدوجہد کا لائحہ عمل مرتب کیا۔

 میٹنگ میں یہ بات زیر بحث آئی کہ پچھلے کئی سالوں سے ٹھیکیدار آئی آر بی کمپنی ہائی وے کی توسیع کے معاملے میں درپیش مسائل پر توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ بھٹکل میں ہائی وے توسیعی کام کے افتتاح کو 2 سال گزرجانے کے باوجود کام مکمل نہیں ہوا ، لیکن آئی آر بی کمپنی کا ٹول وصولی کا کام بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے ۔ اتنی ساری پریشانیوں کے باوجود ضلع  انتظامیہ ٹھیکیدار کمپںی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ رکن پارلیمان تو اس بارے میں کوئی بات ہی نہیں کر رہے ہیں۔  ضلع انچارج وزیر کبھی کبھار آئی آر بی کے خلاف بیان بازی کرکے خاموش ہو جاتے ہیں۔

ان حالات کے پس منظر میں کمیٹی نے محسوس کیا کہ اب احتجاج اور قانونی کارروائی ہی آخری راستہ ہے۔ طے کیا گیا کہ اگلے ایک ہفتے میں نیشنل ہائی وے کا توسیعی کام رکنے کے تعلق سے تمام معلومات اکٹھا کرنے کے ساتھ  قانونی ماہرین سے بات چیت کی جائے گی اور پھر اس کے بعد آئی آر بی کے ٹول گیٹ کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرا کیا جائے گا۔

میٹنگ میں عنایت اللہ شابندری، ستیش کمار نائک ، راجیش نائک، ایڈوکیٹ وکٹر گومس، محی الدین رکن الدین، ایڈوکیٹ عمران لنکا، جیلانی شاہ بندری، کرشنا نائیک، وینکٹیش نائک، توفیق بیری، اشفاق کے ایم، ایس ایم ۔ سید پرویز اور دیگرذمہ داران موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار کے سمندر میں لگا ہوا 'رڈار' بھی چوروں کے ہاتھ سے بچ نہ سکا !

زمین پر سے قیمتی مشینیں چرانے والوں نے اب سمندر میں اپنے ہاتھ کی صفائی دکھانا شروع کیا ہے جس کی تازہ ترین مثال ماحولیاتی تبدیلیوں کے سگنل فراہم کرنے کے لئے کاروار کے علاقے میں بحیرہ عرب میں لگائے گئے 'رڈار' کی چوری ہے ۔

کمٹہ کے سمندر میں چینی جہاز کا معاملہ - کوسٹ گارڈ نے کہا : ہندوستانی حدود کی خلاف ورزی نہیں ہوئی

دو دن قبل کمٹہ کے قریب ہندوستانی سمندری سرحد میں چینی جہاز کی موجودگی اور اس سے ساحلی سیکیوریٹی کو درپیش خطرے کے تعلق سے جو خبریں عام ہوئی تھیں اس پر کوسٹ گارڈ نے بتایا ہے کہ یہ ایک جھوٹی خبر تھی اور چینی جہاز ہندوستانی سرحد میں داخل نہیں ہوا تھا ۔

ہوناور کاسرکوڈ میں ماہی گیروں پر زیادتیوں کے خلاف حقوق انسانی کمیشن سے کی گئی شکایت

ہوناور کے کاسرکوڈ ٹونکا میں مجوزہ تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف احتجاج کرنے والے مقامی ماہی گیروں  پر پولیس کی طرف سے لاٹھی، خواتین سمیت کئی لوگوں کی گرفتاریاں ، جھوٹے مقدمات کی شکل میں جو زیادتیاں ہوئی تھیں، اس کے تعلق سے حقوق انسانی کمیشن سے شکایت کی گئی ہے ۔

بھٹکل میں 'ریت مافیا' کا دربار - تعلقہ انتظامیہ خاموش - عوام بے بس اور لاچار

بھٹکل میں تعلقہ انتظامیہ کی خاموشی کی وجہ سے تعلقہ کے گورٹے، بیلکے، جالی، مُنڈلی نستار، بئیلور جیسے علاقوں میں ساحل سے ریت جیسی سمندری دولت لوٹنے کا کام 'ریت مافیا' کی طرف سے بلا روک ٹوک جاری ہے اور مقامی عوام پریشانی اور بے بسی و لاچاری سے یہ سب دیکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔