میری پسندیدہ جگہ دارجلنگ ..........آز: محمد فیضیاب احمد قاسمی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 19th June 2020, 5:42 PM | سیر و تفریح |

2016- 2017 میں دارالعلوم سے فراغت کے بعد احقر  اپنی دیرینہ خواہش (سیروسیاحت)  کی تکمیل کیلئے شہر در شہر کئی صوبوں کے اسفار کئے پانچ صوبوں کے اسفار کے بعد احساس ہوا کہ اب  practical life یعنی کسب معاش کی تلاش میں سرگرم ہونا چاہئے اسی سر گرمی میں زندگی کا اک قیمتی سال برباد ہوگیا چونکہ احقر ایسی جگہ کی جستجو میں تھا جو جغرافیائی اعتبار سے کافی خوبصورت ہو اور کسی کے انڈر کام کرنے کا جھمیلا نہ ہو نیز تنخواہ اچھی ہو بحمداللہ بیک وقت ان ساری خواہشوں کی تکمیل دارجلنگ نے پوری کردی اور میں اک بہی خواہ کے توسط سے 2 ڈسمبر  2018 کو بحیثیت مکتب دینیات کے ذمہ دار کے دارجلنگ آگیا بعد ازاں اللہ نے کئی راستے کھول دئیے (امامت مسئلہ مسائل بتانے کی ذمہ داری نیز شوشل ورکنگ) 

کچھ دارجلنگ کے بارے میں:
 دارجلنگ جسے اسکی خوبصورتی کی وجہ سے queen of hill یعنی پہاڑوں کی ملکہ کہا جاتا ہے یہا ں آسمان چھوتے پہاڑ ' سر سبز وشاداب وادیاں  بہتے آبشار ' اور وائلڈ لائف آپ کا دل موہ لیں گے  ہمالیہ سے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں پورے سال سردی رہتی ہے مزید سمندری سطح سے 8000 فٹ کی اونچائی کی وجہ سے بھی یہاں پورے سال گرم کپڑے پہنے پڑتے ہیں۔

یہ حسین وادیوں والی جگہ ویسٹ بنگال میں پڑتا ہے بنگال کے 23 ضلعوں میں سب سے خوبصورت ضلع ہے اور سب سے آوٹ ایریا میں واقع ہے جسکی کل آبادی 18 لاکھ ہے جس میں ہندو 74% مسلمان 6% بڈھشٹ 12% اور عیسائی 8% ہیں ؛

انیسویں صدی میں اسکی کھوج اینگلو نیپال جنگ کے دوران  انگریزوں نے کی اس وقت یہ سکم کا حصہ تھا اور سکم اک الگ ملک کی حیثیت رکھتا تھا 16مئی  1975 میں سکم کا الحاق ہندوستان میں ہوا۔

کئی ملکوں کی سرحدیں دارجلنگ سے لگی ہوئی ہیں (نیپال ' بھوٹان ' چائنہ  سکم کے توسط سے ) اسی وجہ سے یہ علاقہ ہندوستان کے سب سے حساس علاقوں میں سے ایک ہے دارجلنگ کے sensitive ہونے کی دوسری وجہ یہاں بسنے والی نیپالی قوم ہے جو یہاں کی آبادی کا 60% ہیں اک عرصہ سے یہ لوگ گورکھا لینڈ کی مانگ کر رہے ہیں اور مانگ نہ پوری ہونے پر آئے دن اسٹرائک کر دیتے ہیں جو اک چائلنج ہے جسے کنٹرول کرنے کیلئے آرمی  بلانی پڑتی ہے مگر بحمداللہ اک عرصہ سے یہ ناٹک بند ہے  (یعنی اس جگہ کو خاص کردیا جائے نیپالیوں کے لئے جن میں انکی ہی چلے جیسے سکھ لوگو ں مانگ خالصتان ہے اگر ایسا کوئی مسلم علاقہ کے لوگ کریں تو دہشت گرد قرار دیئے جائیں ) ۔

یہاں کے لوگوں کی روزی روٹی کا دارومدار چائے کی کھیتی ' ہوٹلز ' اور گرم کپڑوں کے بزنس پر ہے یہاں کے مقامی لوگ نیپالی قوم ہیں جن میں ہندو مسلم کرسچن اور بڈھشٹ سب ہیں باقی ہندو یا مسلم ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آکر بسے ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر اُترپردیش اور بہار کے ہیں ۔

دارجلنگ میں مسلمانوں کی پوزیشن 
یہاں مسلمانوں کی تعداد محض چھ فی صد ہے پھر بھی یہاں کے مسلمان مامون ومحفوظ اور کافی خوش حال ہیں یہاں دو طرح کے مسلم ہیں اک وہ جو یوپی یا بہار سے آکر بس گئے ہیں ان کا گزر بسر زیادہ تر بیکری 'ہوٹلز  اور سیاحوں کو اپنی گاڑیوں سے قابل دید مقامات کی سیر کروانے پرہوتا  ہے یعنی یہ ڈرائیور ہیں ۔

دوسرے تبت سے ہجرت کرکے آئے ہوئے مسلمان جو 1951 میں چائنہ کے حملوں سے بھاگ کر ہندوستاں میں پناہ گزیں ہوئے ان میں کچھ تو کشمیر میں بس گئے کچھ دارجلنگ میں اور کچھ ہماچل پردیش میں جواہر لال نہرو کی کرم فرمائی کی وجہ سے ان کے ٹیکس معاف ہیں اور سرکاری ملازمت میں انہیں ریزرویشن بھی ملا ہوا ہے اور بھی بہت ساری سویدھائیں ملی ہوئی ہیں جنکی وجہ سے یہ لوگ کافی خوشحال ہیں مگر بری خبر یہ ہیکہ یہاں bjp کے آجانے کی وجہ سے یہاں کے مسلم ذرا سکتے میں ہیں کیونکہ انہوں نے یہاں کے ہنود کا نظریہ بدل دیا ہے الھم احفظنا منہ

دارجلنگ کیوں مشہور ہے :

(1) دارجلنگ کے مشہور ہونے کی پہلی  وجہ یہاں کے خوبصورت پہاڑ ہیں ۔
(2) دوسری وجہ ہے یہاں کی ورلڈ فیمس چائے پتی ہے جو تقریبا  دو سو سالوں سے یہاں کی پیداوار ہیں 85 اقسام کی مختلف varieties یہاں پائی جاتی ہیں جن میں کچھ کی قیمت  اٹھارہ ہزار روپے کیلو ہے آسام میں بھی چائے کی پیداوار ہے مگر کوالٹی میں دارجلنگ کو سبقت حاصل ہے  اور tea garden  کی خوبصوتی مزید چار چاند لگا دیتی ہے ۔

(3) تیسری چیز جو دنیا میں کہیں اور نہیں ملے گی وہ ہے toy train جو 135 سال پرانا ہے جسے یونیسکو  نے world heritage site (یعنی عالمی وراثت ) قرار دے رکھا ہے جو سمندری سطح سے ساڑھے سات ہزار فٹ کی اونچائی پر چلتی ہے جس کا صرف آدھے گھنٹہ کا کرایہ 900 روپے ہیں ۔

(4) چوتھی چیز جو دارجلنگ کو اوروں سے جدا کرتی ہیں وہ ہے 8000 فٹ کی اونچائی پہ بنا ہوا zoo چڑیا گھر himalyan zoological park جو فیمس ہے اتنی اونچائی پر ہونے کے کارن ۔

(5) دارجلنگ کے مشہور ہونے کی پانچویں وجہ ہے TIGER HILL دس ہزار تین سو فٹ کی اونچائی والی جگہ جہاں سے سورج کی پہلی کرن کا دیدار اک عجیب سی کیفیت میں مبتلاء کر دیتا ہے جب سورج کی شعائیں ہمالیہ کی چوٹیوں پر پڑتی ہیں تو سارا پہاڑ سنہرا دکھنے لگتا ہے اسی مسحورکن نظاروں سے لطف اندوز ہونے کیلئے انٹر نیشنل ٹورسٹ دارجلنگ وزٹ کرتے ہیں ۔

(6) چھٹی مشہور چیز ہے cable car Ropeway ہندوستان میں کیبل کار کی بنیاد سب سے پہلے دارجلنگ میں 1968 پڑی اور کیبل کار تو کئی جگہ ہیں مگر اسکے مشہور ہونے کی وجہ ہے 8000 آٹھ ہزار فٹ کی اونچائی پر چلنا ہے جوکہ ایشیا ء میں سب سے اونچائی پر چلنے والی کیبل کاروں میں سے ایک  ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

مینگلور میں محتشم بلڈرس کی جدید سہولیات سے لیس شاندار اور سُپر لکثری کینوپی عمارت؛ فن تعمیرکاجدید شاہکار

مینگلور کو خوبصورت اور ترقی یافتہ شہر بنانے اور ایک سے بڑھ کر ایک شاندار عمارتیں فراہم کرنے والے محتشم بلڈرس کی جانب سے اب مزید ایک نئی عمارت اُروا اسٹور علاقہ میں تعمیر کی گئی   ہے جسے فن تعمیر کا جدید  شاہکار کہا جاسکتا ہے۔