بنگلورو میں موسلا دھار بارش؛ شہر کی بڑی عمارتیں بھی مکمل زیر آب، پینے کے پانی کی سپلائی 2 دن تک بند

Source: S.O. News Service | Published on 6th September 2022, 1:12 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،6؍ ستمبر (ایس او نیوز)اتوار رات کو ہوئی موسلادھار بارش نے پیر کے روز ہندوستان کے IT دارالحکومت کو ندی اور تالاب میں تبدیل کردیا، پانی کے جماؤ نے عام زندگی کو درہم برہم کر دیا، اور روڈ پر دوڑنے والی گاڑیاں پانی میں تیرتی نظر آئیں۔ عوام اس کے لئے غلط حکمرانی کو ذمہ دار ٹہرا رہے ہیں اور پانی میں ڈوبے شہر کے عوام میں غصے کی لہر دیکھی جارہی ہے۔ بارش میں پھنسے عوام کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے بعض حصوں میں کشتیوں کو اور بعض جگہوں پر ٹریکٹروں کو کام پر لگا دیا گیا۔ اب چونکہ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، غیر محفوظ علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ 

مسلسل بارش کے بعد سڑکوں اور رہائشی سوسائٹیوں کے تہہ خانوں میں بھی پانی بھر گیا۔ اس کے علاوہ کئی درخت جڑ سے اکھٹر گئے ، جس سے  معمولات زندگی درہم برہم ہو گئی ۔ بہت سے لوگوں نے اس سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں ، جس سے صورتحال کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ محکمہ موسمیات نے ریاست بھر میں اگلے چار دنوں  یعنی  9 ستمبر تک موسلا دھار بارش کی وارننگ جاری کرتے ہوئے کرناٹک کے ساحلی علاقے میں رہنے والے لوگوں سے بھی کہا ہے کہ وہ مسلسل بارش کے دوران سمندر میں نہ جائیں۔

محکمہ موسمیات نے کوڈاگو، شیموگہ، شمالی کنڑا، جنوبی کنڑا، اڈپی اور چکمگلور اضلاع میں رہنے والے لوگوں کے لیے یلوالرٹ جاری کیا ہے ۔ کرناٹک کے شمالی اضلاع بیدر، کلبرگی ، وجئے پورہ، گدگ، دھارواڑ ، ہاویری اور داونگیرے میں موسلا دھار بارش کا امکان ہے ۔ بنگلورو کے آئی ٹی ہب کو جوڑنے والی مار تھہلی - سلک بورڈ جنکشن روڈ پر بھاری ٹریفک جام دیکھنے میں آیا۔ اس کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوۓ آئی ٹی کمپنیاں ریاستی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہیں ۔ان کی شکایت ہے کہ سڑک جام اور بارش کی وجہ سے ان کے ملازمین پانچ سے سات گھنٹے تاخیر سے دفتر پہنچ رہے ہیں جس کی وجہ سے انہیں دوسو کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ ریاست کے وزیر اعلی بسواراج بومائی نے ان کی شکایت کا نوٹس لیا ہے اور ان کے ساتھ بات چیت کرنے اور ان کے غصے کو دور کر نے کی کوشش میں انہیں معاوضے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ایکو اسپیس، بیلند ور کے آر مارکیٹ اور ملحقہ علاقوں کے قریب آؤٹر رنگ روڈ پر بھی ٹرا فک میں خلل پڑا۔ بارش اور پانی بھر جانے کی وجہ سے سڑک پر پھنسے ایک شخص کو مقامی سکیورٹی گارڈز نے بچالیا۔ در تور جیسے کچھ علاقوں میں پھنسے ہوۓ لوگوں کو بچانے کے لیے رافٹس اور کشتیوں کو تعینات کیا گیا ہے ۔ فائر ڈپارٹمنٹ اور دیگر سرکاری محکمے امدادی کام کر رہے ہیں اور ٹریفک بحال کرنے کے لیے پانی بھری سڑکوں کو صاف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کو غیر ضروری طور پر گھر سے باہر جانے اور بچوں کو اسکول بھیجنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ پیر کی رات بھی موسلا دھار بارش کی اطلاعات ہیں اور بعض جگہوں پر بارش رک رک کر ہورہی ہے ۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسلا دھار بارش کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو شہر بنگلور بری طرح سیلاب کی زد میں آ سکتا ہے۔

ٹریفک پولیس کی ایڈوائزری:  بنگلوروٹریفک پولیس نے پیر کو ایک اڈوائزری جاری کرتے ہوئے عوام سے کہا ہے کہ وہ آؤٹر رنگ روڈ ، سرجا پور روڈ ، دود کنا ہلی روڈ ،وائٹ فیلڈ مین روڈ اور بیلندور روڈ کی طرف آنے سے گریز کر یں ۔

13 ملی میٹر بارش:  اتوار کی رات کو شہربھر میں موسلا دھار بارش ہوئی ۔ شام 7.30 بجے شروع ہونے والی بارش نے صرف ایک گھنٹے میں 13 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق رات 9.30 بجے 3 سنٹی میٹرتھی، دھیرے دھیرے اگلے 5 گھنٹوں کے دوران 9 سنٹی میٹر تک پہنچ گئی ۔محکمہ موسمیات کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ بنگلور نے اتوار کی رات کو جو کچھ تجربہ کیا اس کے مطابق شام 7.30 بجے سے 5.45 بجے کے درمیان ہوئی بارش نے تباہی مچادی۔ ان کے مطابق یہ اتنی بھی شدید بارش نہیں تھی لیکن ناقص انفراسٹرکچرکی وجہ سے پانی جم گیا اور اسے باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملا۔ آئی ایم ڈی کے مرتب کردہ اعدادو شمار کے مطابق شہر میں اتوار کو 28.1 ملی میٹر بارش ہوئی جو اوسط سے 368 فیصد زیادہ ہے۔

بنگلورو کے آئی ٹی ہب میں زیادہ تر آرٹیریل سڑکیں مکمل طور پر ڈوب گئیں ۔ مراٹھا ہلی اور سنٹرل سلک بورڈ کے درمیان ٹریفک کا اژدھام دیکھا گیا۔اسپیس ایکو کے قریب اوٹر رنگ روڈ کوایک لین  کردیا گیا۔  کیونکہ سڑک کا بقیہ حصہ زیر آب آ گیا۔ ورتھور ۔ بالا گیرے اور پنتھور کا ایک حصہ ندی میں تبدیل ہو گیا۔

بنگلورو اور جنوبی اندرونی کرناٹک میں جمعہ تک بھاری بارش ہونے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے، اس ہفتے ، آر آر کمپنیز ایسوسی ایشن نے وزیر اعلی بسوراج بو مائی کو میمورنڈم پیش کیا تھا، جس میں آئی ٹی ہب میں بنیادی ڈھانچے کے خراب معیار کو اجاگر کیا گیا تھا۔

 معمول کے مطابق سر جاپور روڈ پر رینبو ڈرائیو لے آؤٹ اور سنی بروکس لے آؤٹ کے مکینوں نے سیلاب سے متاثرہ لے آؤٹ سے طلبہ اور ملازمین کو نکالنے ٹریکٹرس استعمال کیا۔

 مورگن اسٹینلے اور گولڈ مین سیکس گرو انک، ویپرو اور فلپ کارٹ نے کہا کہ انہوں نے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کو کہا ہے۔ ایکو ورلڈ کے قریب بھاری پانی جمع ہونے کی وجہ سے لوگ کیمپس کے اندر جانے سے قاصر ہیں۔ ایچ اے ایل ایر پورٹ ٹریفک پولیس نے ٹوئٹ کیا کہ ٹریفک کو سر جاپور مین روڈ سے جوڑ نے ہم ڈوڈا کنالی کی طرف موڑ رہے ہیں۔ مسافر براہ کرم اگر ممکن ہوتو اس راستہ سے گریز کر یں۔ 

پینے کے پانی کی سپلائی دو دن بند؛ بنگلورو کے کچھ حصوں میں پینے کے پانی کی سپلائی دو دن تک بند رہے گی کیونکہ کاویری ندی سے پانی کو شہر تک اٹھانے والا پمپنگ اسٹیشن کرناٹک کے منڈیا میں زیر آب ہے۔بنگلور واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ پمپنگ اسٹیشن، جو لاکھوں لیٹر پانی کو بنگلور تک اٹھاتا ہے، اب پانی کے نیچے ڈوبا ہوا ہے۔بارش سے متاثرہ بنگلورو کے تقریباً 50 علاقوں میں اگلے دو دنوں تک پینے کا پانی نہیں ملے گا۔

کرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومائی پیر کو منڈیا میں ٹی کے ہالی واٹر سپلائی یونٹ کا دورہ کریں گے۔ اہلکار فی الحال پمپنگ اسٹیشن سے پانی نکال رہے ہیں۔مشین کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک تکنیکی ٹیم بھی موقع پر موجود ہے۔ یہ یونٹ بہت اہم ہے کیونکہ کاویری کا پانی بنگلورو کے لیے پینے کے پانی کا بڑا ذریعہ ہے۔چونکہ بنگلورو کے کچھ حصے اب بھی ڈوب گئے ہیں، ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (SDRF) کی دو ٹیمیں بھی متاثرہ جگہوں پر تعینات کی گئی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں موسلا دھار بارش سے کل 30 علاقوں کو نقصان پہنچا ہے۔

بنگلورو میں رات بھر ہونے والی موسلا دھار بارش نے ٹریفک کی روانی کو بھی متاثر کیا ہے، جب کہ بعض حصوں میں کشتیاں اور ٹریکٹروں کو کام میں لگا دیا گیا تھا۔شہر میں کئی جھیلوں میں پانی بھر جانے اور طوفانی نالوں میں پانی بھر جانے سے کئی نشیبی علاقے متاثر ہوئے، پانی گھروں میں داخل ہونے سے معمولات زندگی متاثر ہوئے۔سرجاپور روڈ پر رینبو ڈرائیو لے آؤٹ اور سنی بروکس لے آؤٹ جیسے علاقوں میں پانی جمع ہونا اس حد تک متاثر ہوا کہ صبح کے وقت طلباء اور دفتر جانے والوں کو لے جانے کے لیے ٹریکٹر اور کشتیاں استعمال کی گئیں۔آؤٹر رنگ روڈ کے کئی علاقوں میں بارش اور سیلاب سے کچھ آئی ٹی کمپنیاں متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بجٹ 2023: ’کوئی امید نہیں، بجٹ ایک بار پھر ادھورے وعدوں سے بھرا ہوگا‘، سدارمیا کا اظہارِ خیال

یکم فروری کو مرکز کی مودی حکومت رواں مدت کار کا آخری مکمل بجٹ پیش کرنے والی ہے۔ مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے ذریعہ بجٹ پیش کیے جانے سے قبل بجٹ 2023 کو لے کر کانگریس کے کچھ لیڈران نے اپنے خیالات ظاہر کیے ہیں۔

کرناٹک ہائی کورٹ کی وارننگ، کہا: چیف سکریٹری دو ہفتوں میں لاگو کرائیں حکم

کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کو انتباہ دیا کہ اگر ریاستی حکومت دو ہفتوں کے اندر سبھی گاؤں اور قصبوں میں قبرستان کے لئے زمین فراہم کرانے کے اس کے حکم پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ چیف سکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے پر مجبور ہوجائے گا ۔

منگلورو: محمد فاضل قتل میں ہندوتوا عناصر ملوث ہونے کا دعویٰ - اپوزیشن پارٹیوں نےکیا کیس کی دوبارہ جانچ کامطالبہ 

بی جے پی یووا مورچہ لیڈر پروین نیٹارو قتل کے بدلے میں عناصر کی طرف سے سورتکل میں محمد فاضل کو قتل کرنے کا کھلے عام دعویٰ کرنے والے وی ایچ پی اور بجرنگ دل لیڈر شرن پمپ ویل کے خلاف کانگریس ، جے ڈی ایس اور ایس ڈی پی آئی جیسی اپوزیشن پارٹیوں نے اس قتل کیس کی ازسر نو جانچ کا مطالبہ کیا ...

ٹمکورو میں اشتعال انگیز بیان دینے والے شرن پمپ ویل سمیت دیگر ہندوتوا لیڈروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ لے کر اے پی سی آر نے ایس پی کو دیا میمورنڈم

حال ہی میں ریاست کرناٹک کے  ٹمکور میں  منعقدہ شوریہ یاترا کے دوران وی ایچ پی لیڈر شرن پمپ ویل نے جو متنازع اور اشتعال انگیز بیان دیا  تھا ، اس پر کٹھن کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتارکرنے کا مطالبہ لے کر  ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سوِل رائٹس (اے پی سی آر) کے  ایک وفد نے ٹمکورو ...