چھ ماہ میں چار سو سے زیادہ تیزاب پھینکنے کے حملے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th July 2017, 10:51 AM | عالمی خبریں |

لندن ،16؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)انگلینڈ اور ویلز میں تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافے کے بعد ان واقعات میں ملوث افرادکی سزاؤں میں اضافہ کیاجاسکتا ہے۔جمعرات کو مشرقی لندن میں پانچ افراد پر تیزاب پھینکنے کے واقعات کے بعد وزراء پر تیزاب سے متعلق سخت قانون کے مطالبات میں شدت آئی ہے جس میں تیزاب کی فروخت کو سخت کرنے کے لیے آوازیں بڑھتی جا رہی ہیں۔پولیس کے مطابق تیزاب پھینکے جانے کے واقعات میں 2012سے دو گنا اضافہ ہوا ہے اور ایسے واقعات زیادہ تر لندن ہی میں ہوئے ہیں۔تیزاب حملوں کے بعد ان کی روک تھام کے جائزے کے متعلق وزیر داخلہ امبر روڈ نے سنڈے ٹائمز کو بتایا ہے کہ ان حملوں میں ملوث افرادقانون کی پوری شدت کومحسوس کر سکیں گے۔سیاست دانوں اور تیزاب کے حملوں میں متاثرہ افراد نے ان حملوں میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دینے کے مطالبات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ رکن پارلیمان بھی اس معاملے پر پیر کو ایوان میں بحث کریں گے۔تیزاب کے حملوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے جائزے میں موجودہ قانون کو دیکھا جائے گا اور اس بات پر غور کیا جائے گا کہ پولیس کے اقدامات، سزائیں، لوگوں کی نقصان دہ تیزابی منصوعات تک رسائی اور تیزاب حملوں کے متاثرین کو کس طرح مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔دفترداخلہ کے مطابق پہلے سے موجود قانون کے تحت نقصان دہ تیزابی مواد سے حملے میں عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ تیزاب برآمد ہونے کی صورت میں، اس کی مدد سے حملے کرنے کی نیت ثابت ہونے کی صورت میں چار برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔نیشنل پولیس چیفس کونسل این پی سی سی کا کہنا ہے کہ چھ ماہ کے دوران انگلینڈ اور ویلز میں تیزاب یا نقصان دے مواد کی مدد سے چار سو زیادہ حملے کیے گئے ہیں۔ان حملوں میں ملوث جن افراد کے بارے میں معلوم ہوا ہے جن میں سے پانچ میں سے ایک کی عمر 18 برس سے کم ہے۔جمعرات کو لندن میں تیزاب کے حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شبہے میں ایک سولہ برس کے نوجوان کو گرفتار کیا گیا ہے۔وزیر داخلہ ایمبر رود نے تیزاب حملوں کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ہے کہ' تیزاب حملے خوفناک جرائم ہیں جن کے متاثرین پر جسمانی اور نفسیاتی طور پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ 'یہ بہت ضروری ہے کہ اس طرح کے بیزار کن حملوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔وزیر داخلہ ایمبر رود نے کہا ہے کہ ان واقعات سے متعلق قانون پہلے ہی کافی سخت ہے جس میں کئی کیسوں میں تیزاب حملوں کے مجرم عمر قید تک کاٹ رہے ہیں لیکن ہمیں جوابی اقدام کومزیدبہترکرنے کی ضرورت ہے اور ہم اسے بہتر کریں گے۔پیر کو لیبر پارٹی کے رکن پارلیمان اسٹیفن ٹمزکی قیادت میں برطانوی ایوان میں تیزاب حملوں سے متعلق بحت ہونے جا رہی ہے۔اسٹیفن ٹمزکامطالبہ ہے کہ تیزاب ساتھ رکھنے کو ایسا ہی جرم قرار دیا جائے جیسا کہ چاقو رکھنا ہے۔موجودہ قانون کے تحت اگر پولیس کسی ایسے شخص کو روکتی ہے جس کے پاس تیزاب ہے تو پولیس کو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ تیزاب کا استعمال غلط مقاصد کے لیے کیا جانا تھا۔تیزاب حملے کی متاثرہ کیٹی پائپر کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے متاثرین کوعمرقیدکاسامناکرناپڑتاہے جبکہ ان حملوں میں ملوث افراد کو بھی سخت سزائیں دینی چاہئیں۔جمعرات کو جریدے سکارز، برنز اینڈ ہیلنگ میڈیکل میں شائع ہونے والے خط میں انھوں نے لکھاہے کہ مجھے مستقل آپریشنز اور چہرے کی تھیراپی کی ضرورت پڑتی ہے۔ تیزاب حملے کے متاثرین کے لیے بعد میں صورتحال ایسی ہی ہوتی ہے جیساکہ عمرقید۔

ایک نظر اس پر بھی