کرناٹک کی نئی حکومت میں ضمیر احمد خان کو بھی وزارت

Source: S.O. News Service | Published on 20th May 2023, 11:29 PM | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بنگلورو،20/مئی (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک کے بنگلورو واقع کنٹیروا

 

 اسٹیڈیم میں سنیچر کو منعقدہ عالیشان حلف برداری تقریب میں وزیر اعلیٰ سدارمیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے ساتھ ساتھ 8 وزراء کی بھی حلف برداری ہوئی۔ جس میں ایک مسلم وزیر ضمیر احمد خان بھی شامل ہیں۔

56 سالہ ضمیر احمد خان نے بنگلورو کے چامراجپیٹ اسمبلی سیٹ سے زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ لگاتار تین بار یہاں سے رکن اسمبلی ہیں۔ حالیہ انتخاب میں انھوں نے بی جے پی امیدوار بھاسکر راؤ کو تقریباً 54 ہزاروں ووٹوں کے بڑے فرق سے ہرایا۔

ضمیر احمد خان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا شمار سدرامیا کے قریبی لیڈروں میں ہوتا ہے۔ سدرامیا کی طرح ضمیر احمد خان بھی پہلے جے ڈی ایس میں تھے اور کچھ ایسے سیاسی حالات بنے کہ وہ کانگریس میں شامل ہو گئے۔ ضمیر احمد خان کا سیاسی سفر جے ڈی ایس سے ہی شروع ہوا تھا۔ پہلی بار وہ 2005 کے ضمنی انتخاب میں چامراجپیٹ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 2006 میں ایچ ڈی کماراسوامی کی قیادت والی اتحادی حکومت میں وہ حج اور وقف بورڈ کے وزیر بنے۔

قابل ذکر ہے کہ 2016 میں جے ڈی ایس نے ضمیر احمد خان کو 7 دیگر اراکین اسمبلی کے ساتھ پارٹی سے نکال دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان سبھی اراکین اسمبلی نے راجیہ سبھا انتخاب میں پارٹی وہپ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کانگریس امیدوار کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔ بہرحال، ان اراکین اسمبلی میں سے ایک کو چھوڑ کر باقی سبھی نے 2018 کے اسمبلی انتخاب سے پہلے کانگریس کی رکنیت اختیار کرلی تھی۔ پھر جب 2018 میں کانگریس-جے ڈی ایس نے مل کر حکومت بنائی اور ایچ ڈی کماراسوامی وزیر اعلیٰ بنے تو ایک بار پھر ضمیر احمد خان کو ان کی کابینہ میں جگہ ملی تھی۔

اس طرح دیکھا جائے تو ضمیر احمد خان کا شمار کرناٹک کے بڑے مسلم لیڈران میں ہوتا ہے۔ 2005 سے وہ بنگلور کی چامراجپیٹ سیٹ سے 5 مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ ضمر احمد خان سدارمیا کے داخلی سرکل کا انتہائی اہم حصہ تصور کیے جاتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں جب سدرامیا نے دہلی کا دورہ کیا تھا تو ضمیر احمد خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

بینگلورو: دھوتی میں ملبوس کسان کو داخلہ نہ دینے کا معاملہ : حکومت نے دیا سات دن کے لئے مال بند کرنے کا حکم 

دو دن قبل بینگلورو کے ایک مال میں ایک عمر رسیدہ کسان اور اس کے اہل خانہ  کو اس وجہ سے داخلہ دینے سے انکار کیا گیا تھا کہ وہ کسان دھوتی میں ملبوس تھا ۔ اس واقعے کی ویڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد اس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی تھیں اور مال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا ۔ 

کرناٹک پرائیویٹ فرموں میں کناڈیگاس کے لیے 100فیصد کوٹہ لازمی کرنے والا بل منظور

کرناٹک کی کابینہ نے ایک بل کو منظور کیا ہے جس میں کننڈیگاس کو گروپ سی اور ڈی کے عہدوں کے لیے نجی شعبے میں 100 فیصد ریزرویشن لازمی قرار دیا گیا ہے،  وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہا۔یہ فیصلہ پیر کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔

بہار کو نہیں ملے گا خصوصی ریاست کا درجہ!، مودی حکومت کے فیصلے پر کانگریس اور آر جے ڈی حملہ آور

کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک پوسٹ شیئر کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مودی حکومت نے بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ نہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ویڈیو کی شکل میں کیے گئے اس پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہار کی عوام لگاتار خصوصی ریاست کا درجہ دیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، ...

کیرالہ میں نپاہ وائرس سے لڑکے کی موت، مرکزی حکومت کا کثیر رکنی رسپانس ٹیم تعینات کرنے کا فیصلہ

  کیرالہ میں نپاہ وائرس سے 14 سالہ لڑکے کی موت کے بعد مرکزی حکومت حرکت میں آ گئی ہے۔ مرکز نے اقدام لیتے ہوئے ریاست میں اس معاملے کی تحقیقات، وبا پر قابو پانے اور تکنیکی تعاون کے لیے ایک کثیر رکنی رسپانس ٹیم کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہریانہ کے نوح میں ایک بار پھر انٹرنیٹ خدمات پر پابندی عائد

  ہریانہ کے ضلع نوح (علاقہ میوات) میں ریاستی حکومت نے 24 گھنٹے کے لیے موبائل انٹرنیٹ خدمات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے لیا گیا یہ فیصلہ اتوار کی شام 6 بجے سے نافذ العمل ہوگا اور یہ پابندی پیر کی شام 6 بجے تک جاری رہے گی۔