ہوناور میں تجارتی بندرگاہ کی تعمیر - ایڈی یورپّا کے زمانے میں ریاستی حکومت نے منظور کیا تھا منصوبہ  

Source: S.O. News Service | Published on 3rd April 2024, 12:54 PM | ساحلی خبریں |

ہوناور، 3 / اپریل (ایس او نیوز) کاسرکوڈ کے ٹونکا میں نجی تجارتی بندرگاہ تعمیر کرنے کا معاملہ گزشتہ دس برسوں سے تنازع میں پھنسا ہوا ہے اور آج بھی ماہی گیروں کی سخت مخالفت کے باوجود ضلع انتظامیہ کے تعاون سے دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کرتے ہوئے پولیس کی سخت نگرانی میں متنازعہ منصوبے کے لئے سڑک کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا ہے ۔ 
    
ماہی گیروں اور مقامی افراد کے مطابق اس منصوبے سے یہاں بسنے والے لوگوں، ماہی گیروں کے علاوہ ماحولیات اور بحری زندگی کو سخت نقصان پہنچے گا ۔ اس لئے اس منصوبے پر عمل در آمد کے دوران ماہی گیروں نے مختلف مراحل میں احتجاجی مظاہرے کیے ۔ اس دوران تشدد کے واقعات اور پولیس کی کارروائی کے مرحلے بھی آئے ۔ اس مسئلے پر سیاسی الزام تراشیاں بھی ہوئیں ۔ کانگریس اور بی جے پی والے اس نقصان دہ اور متنازعہ منصوبے کو منظور کرنے کا الزام  ایک دوسرے کے سر تھوپتے رہے ۔ 
    
حقیقت یہ ہے کہ سال 2010 میں  ایڈی یورپا کی قیادت والی بی جے پی کی ریاستی حکومت نے اس منصوبے کو منظوری دی تھی اور جی وی پی آر انجینئرنگ لمیٹیڈ نامی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا ۔ پھر ایک ہفتے کے اندر ہی اس کمپنی نے ہوناور پورٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ نامی ایک الگ کمپنی قائم کی اور ہوناور بندرگاہ کی تعمیر کا کام انجام دینے کی ذمہ داری اس کمپنی کو دیتے ہوئے ایک نیا معاہدہ کیا گیا ۔
    
ریاستی حکومت نے ابتدا میں ایچ پی پی ایل کمپنی کو بندرگاہ کی تعمیر کے لئے 26 ایکڑ زمین منظور کی تھی جس کے بعد 93 ایکڑ زمین منظور کی گئی ۔ سال 2012 میں محکمہ ماحولیات اور محکمہ جات کی طرف سے بندرگاہ کی تعمیر کے لئے اجازت نامے بھی دئے گئے تھے ۔ مگر اب نیشنل گرین ٹریبونل کی طرف سے جاری کیے گئے مراسلے کے مطابق کمپنی کو دئے گئے یہ تمام اجازت نامے منسوخ ہو چکے ہیں ۔ اس صورتحال سے پریشان ہو کر ایچ پی پی ایل کمپنی نے ضلع انتظامیہ کو اعتماد میں لیتے ہوئے اس کے تعاون سے اس علاقے میں فور لین سڑک کی تعمیر کا کام آگے بڑھانے کے لئے سروے کی کارروائی مکمل کر لی ۔ اس کے بعد دو مہینے قبل تعمیر کیے گئے کچے راستے کو پکّی سڑک میں بدلنے کے لئے دفعہ 144 کے نفاذ کے ساتھ پولیس کی سخت نگرانی میں تعمیراتی کام شروع کیا گیا ہے ۔ مقامی ماہی گیر لیڈروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیر قانونی سرگرمی ہے جو ضلع انتظامیہ کے تعاون سے بندرگاہ کی تعمیراتی کمپنی نے شروع کی ہے  ۔
    
اگر مقامی سیاسی لیڈران کی بات کریں تو اس مسئلے پر ہر کوئی موقع پرستی کرتا ہوا محسوس ہو رہا ہے ۔ جب ایڈی یورپّا کی وزارت اعلیٰ کے زمانے میں بندرگاہ کے اس منصوبے کو منظوری دی گئی تھی اُس وقت بھٹکل اسمبلی حلقے میں جے ڈی نائک رکن اسمبلی تھے ۔ اُس زمانے میں کمپنی کو محکمہ ماحولیات سے اجازت دینے سے قبل ضلع ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں عوامی احوال جاننے کے لئے اجلاس طلب کیا گیا تھا ۔ تب ماہی گیروں تنظیموں اور لیڈروں نے اس منصوبے کی کھل کر مخالفت کی تھی ۔ اس موقع پر ایم ایل اے جے ڈی نائک نے آن ریکارڈ کہا تھا کہ اس علاقے کے لئے جو منصوبہ ناموزوں ہے اور عوام کو منظور نہیں ہے ، ایسے منصوبے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔  
    
 اس کے بعد منکال وئیدیا رکن اسمبلی بنے ۔ اس وقت بندرگارہ کی تعمیر کے سلسلے میں ہوئی کارروائی کے دوران ماہی گیروں کے شیڈس توڑے گئے تھے ۔ تب منکال وئیدیا نے مداخلت کی تھی اور ماہی گیروں کو ہوئے نقصان کی بھرپائی کی گئی تھی ۔ اس زمانے میں جب اسمبلی الیکشن کا موقع آیا تو اس وقت وزیر اعلیٰ سدا رامیا نے مختلف ترقیاتی کاموں کے ساتھ بندرگاہ کی تعمیر کا شیلا نیاس بھی کیا تھا ۔ اس کے بعد الیکشن میں منکال وئیدیا کو شکست ہوئی ۔ 
    
آگے چل کر اس منصوبے میں فورلین سڑک کی تعمیر اور ریلوے ٹریک بچھانے کا منصوبہ میں شامل کیا گیا ۔ اس پورے منصوبے کے خلاف ماہی گیروں نے سخت مخالفت اور احتجاج کا راستہ اپنایا جس میں منکال وئیدیا نے سرگرمی سے حصہ لیا ۔ کے پی سی سی صدر ڈی کے شیو کمار کو کاسرکوڈ ٹونکا میں مدعو کرکے ماہی گیروں کی حمایت میں ماحول بنانے کا کام کیا ۔ ستیش سئیل، نویدیت آلوا ،بھیمنّا نائک جیسے لیڈروں کی موجودگی میں منعقدہ عام اجلاس میں  ڈی کے شیوکمار نے ماہی گیروں کو تاکید کی کہ اس منصوبے کے لئے وہ اپنی زمین ہرگز نہ چھوڑیں ۔ 
    
اس وقت ریاست میں کانگریسی حکومت ہے، سدا رامیا اور ڈی کے شیو کمار وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہیں ۔ منکال وئیدیا ماہی گیری، بندرگاہ اور اندرونی بحری نقل و حمل کی وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے علاوہ ضلع انچارج وزیر بھی ہیں ۔ ایسے میں تعجب کی بات یہ ہے کہ اس سے قبل ماہی گیروں کے مفاد میں بولنے اور مورچہ سنبھالنے ڈی کے شیو کمار اور منکال وئیدیا اس وقت نہ صرف خاموش ہیں بلکہ  کمپنی کی طرف سے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیراتی کام آگے بڑھانے کے لئے سرکاری سطح پر ہی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں ووٹر بیداری مہم؛ سرکاری افسران نے طلبہ کے ساتھ نکالی ریلی؛ سو فیصد ووٹنگ کویقینی بنانے کی کوششیں

بھٹکل میں  صد فیصد ووٹنگ کا ٹارگٹ لے کر   اُترکنڑاضلعی انتظامیہ،  ضلع پنچایت، بھٹکل تعلقہ انتظامیہ اور تعلقہ پنچایت کے زیراہتمام  بھٹکل کے سرکاری آفسران  نے کالج طلبہ کو ساتھ لے کر  ووٹنگ بیداری مہم  کے تحت شاندار ریلی نکالی اور عوام پر زور دیا کہ وہ  کسی بھی صورت میں اپنی ...

بھٹکل میں مسلم رپورٹروں کی طرف سے غیر مسلم رپورٹروں کوپیش کی گئی عید الفطر کی مٹھائیاں

ورکنگ جرنلسٹ اسوسی ایشن   بھٹکل  کے مسلم رپورٹروں کی طرف سے بھٹکل کے غیر مسلم رپورٹروں کو عید الفطر کی مناسبت سے مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور اُنہیں عید کے تعلق سے  معلومات فراہم کی گئیں۔

بھٹکل: پی یو سی دوم میں انجمن پی یو کالج(بوائز) کو سائنس اسٹریم میں ملی صد فیصد کامیابی

سکینڈ پی یو سی  سائنس اسٹریم میں  انجمن بوائز پی یو کالج کو صد فیصد کامیابی ملی ہے، اور 61  طلبہ میں سے سبھی 61 طلبہ کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس بات کی اطلاع کالج پرنسپال  یوسف کولا  نے دی۔یاد رہے کہ 10 اپریل کو آن لائن کے ذریعے نتائج ظاہر کئے گئے تھے،  لیکن  اب    پی یو  بورڈ  کی طرف سے ...

کنداپور میں دستور کی حفاظت کے لئے دلت تنظیموں کی ریلی 

دیش کا دستور وضع کرنے والے ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کے 133 ویں جنم دن پر  کنداپور شاستری سرکل کے پاس منعقدہ دلت تنظیموں اور دیگر ہم خیال اداروں کی مشترکہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سینئر دانشور پروفیسر فنی راج نے کہا کہ اس وقت ملک میں دستوری مراعات اور حقوق کو ختم کرنے کی کوشش کی جا ...

منگلورو میں وزیر اعظم مودی کا زبردست روڈ شو 

پارلیمانی الیکشن میں منگلورو حلقے سے بی جے پی امیدوار کیپٹن برجیش چوٹا اور اڈپی - چکمگلورو حلقوں سے بی جے پی امیدوار کوٹا سرینواس پجاری کے حق میں تشہیری مہم کے لئے وزیر اعظم نریندرا مودی نے منگلورو شہر میں ایک زبردست روڈ شو کیا جس میں بی جے پی کارکنان، لیڈران اور عوام کے ایک جم ...