دیر الزور میں ٹارگٹ کلنگ پر قبائلی تشویش، ترکی، شامی فوج اور داعش پر الزام

Source: S.O. News Service | Published on 13th August 2020, 8:42 PM | عالمی خبریں |

 بیروت/دبئی، 13/اگست(آئی این ایس انڈیا)شامی ڈیموکریٹک فورسز کے کنٹرول میں آنے والے علاقوں میں خاص طور پر ان علاقوں جنہیں عرب قبائل کی جانب سے نشانہ بنایا ہے میں قتل کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات کے نتیجے میں 'داعش' کے خلاف امریکا کی قیادت میں قائم عالمی اتحاد اور قبائل کے درمیان تعلقات پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

واشنگٹن کی زیرقیادت بین الاقوامی اتحاد کے ایک عہدیدار نے حالیہ ہلاکتوں کے بارے میں اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا جس میں شام کے صوبہ دیر الزور کے دیہی علاقوں میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے عرب قبائلی سردار اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

ادھر "شامی ڈیموکریٹک کونسل" یعنی "ایس ڈی سی" جو شامی ڈیموکریٹک فورسز کی سیاسی چھتری کی نمائندگی کرتی ہے نے شامی حکومت ، ترکی اور "داعش" کو ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ہونے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی اتحاد کے سرکاری ترجمان کرنل میلز کاگنس نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ شدت پسند تنظیم 'داعش' دہشت گرد حملے شروع کرنے کے لیے صحیح موقعے کا انتظار کر رہی ہے۔ اسے مقامی اتحادی گروہوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے اور وہ ان اختلافات سے فایدہ اٹھا سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی مزید کہا کہ عالمی عسکری اتحاد دیر الزور کے دیہی علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں اور قتل و غارت گری کے معاملات پر کڑی نظٍر رکھے ہوئے ہے۔ ہم شامی ڈیموکریٹک فورسز سے مستقل رابطے میں ہیں ۔ ہمیں داعش کے سلیپر سیلز کا تعاقب کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔ اس مقصد کے لیے سب کو مل کر کام کرنا چاہئیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیر الزور اور شمال مشرقی شام کے تمام مقامی لوگوں نے 'داعش' کے خلاف لڑنے کے لیے مل کر کام کیا ہے۔ ہمیں علاقے میں ہونے والی ہر سرگرمی پر نظر رکھنا ہوگی۔

دیر الزور میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر غور کے لیے واشنگٹن کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے نمائندوں نے رواں ہفتے قبائلی قیادت اور سکیورٹی فورسز کے رہ نماؤں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں عالمی اتحاد نے قبائلی رہ نمائوں سے کہا کہ اتحاد خطے میں استحکام کی ضرورت اور شہریوں کی قربانیوں کے احترام کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس خطے کے باشندے داعش کے ساتھ تمام تر تکالیف کے بعد بہتر مستقبل کے مستحق ہیں۔ اسی وجہ سے ہم امن کے حصول اور سلامتی فراہم کرنے کے لیے مل بیٹھ کر کام کر رہے ہیں۔ مقامی آبادی اور مسلح افواج کے مابین اعتماد کے بغیر نہیں آگے کا سفر جاری نہیں رکھا جا سکتا، لہٰذا مقامی قبائل اور عالمی اتحاد کے درمیان تعلق اور ہم آہنگی ضروری ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

لیبیا : فائز السراج اکتوبر کے اختتام تک اقتدار سے دست بردار ہونے کے لیے تیار

لیبیا میں وفاق حکومت کی صدارتی کونسل کے سربراہ فائز السراج نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ اکتوبر کے اختتام تک اقتدار سے دست بردار ہونے اور اپنی ذمے داریاں ایگزیکٹو اتھارٹی کے حوالے کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ...