کمٹہ سے بھٹکل تک  سماجی کارکن اننت مورتی ہیگڈے کا پیدل مارچ - ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل کے لئے ضلع انچاج وزیر کو سونپا میمورنڈم  

Source: S.O. News Service | Published on 7th February 2024, 8:21 PM | ساحلی خبریں |

کمٹہ،7 / مارچ (ایس او نیوز) ضلع اتر کنڑا میں طبی سہولتوں کی کمی اور کمٹہ میں ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل کے قیام کا مطالبہ لے کر سماجی کارکن اننت مورتی ہیگڈے نے اپنے حامیوں کے ساتھ  کمٹہ سے بھٹکل تک کا پیدل مارچ کیا۔ ان کی ریلی جب بھٹکل شمس الدین سرکل پہنچی تو  تعلقہ آٹو ڈرائیورس  اسوسی ایشن کی جانب سے ان کا استقبال کیا گیا اور  اپنی جانب سے بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ بعد میں ریلی  انجمن روڈ پر واقع  ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا کے دفتر پہنچی جہاں وزیر کے سکریٹری کے ہاتھ  وزیر کے نام کر میمورنڈم پیش کیاگیا۔
    
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ ضلع کے 12 تعلقہ جات میں طبی سہولتوں کی کمی سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے ۔ روزانہ کم از کم 300 مریضوں کو علاج و معالجے کے لئے دور دراز مقامات کا سفر کرنا پڑتا ہے ۔ اس لئے ضلع کے عوام کو اعلیٰ طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے اس سے پہلے منظور شدہ ملٹی اسیشالٹی ہاسپٹل کے قیام کو یقینی بنایا جائے ۔ 


    
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی ایک مرتبہ اتر کنڑا سے بیلگاوی تک پیدل مارچ کرتے ہوئے ضلع کے لئے ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل کا مطالبہ حکومت کے سامنے رکھا گیا تھا ، لیکن تا حال اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ اس کے علاوہ گزشتہ اسمبلی الیکشن کے موقع پر منکال وئیدیا نے وعدہ کیا تھا کہ اگر حکومت کی طرف سے ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل قائم نہیں کیا جاتا تو بھی فکر کی بات نہیں ہے کیونکہ ایسی صورت میں وہ خود اپنے ذاتی خرچ پر میڈیکل کالج اور اسپتال تعمیر کروائیں گے ۔ اب انہیں یہ وعدہ نبھانا چاہیے ۔ 
    
اب پھر ایک بار مطالبہ کیا گیا ہے کہ :
    
۱۔ پچھلی حکومت نے کمٹہ میں ہاسپٹل کے لئے زمین کی نشان دہی کر دی تھی مگر اس کے بعد بننے والی حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ لہٰذا حکومت کی طرف سے ہاسپٹل تعمیر کرنے کے سلسلے میں اقدامات کیے جائیں ۔ 
    
۲ ۔ صحت اور علاج و معالجے کے معاملے پر عوام کی جان سے کھلواڑ نہ کرتے ہوئے اب کی بار 16 فروری کو اسمبلی سیشن میں جو بجٹ پیش کیا جا رہا ہے اس میں کمٹہ میں ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل کے قیام کے لئے ضروری فنڈ مختص کرنے کا اعلان کیا جائے ۔
    
۳ ۔  اتر کنڑا ضلع کی ترقی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہیرے گوتّی میں موجود 1800 ایکڑ سرکاری زمین میں سے کم از کم 1000 ایکڑ زمین پر سافٹ ویئر پارک تعمیر کیا جائے اور مختلف کمپنیوں وہاں آنے کا موقع فراہم کیا جائے ۔ اس ضمن میں ضروری اقدامات کیے جائیں ۔ 
    
میمورنڈم میں حکومت کو متبنہ کیا گیا ہے کہ اگر حکومت نے ان مطالبات پر فوری اقدام نہیں کیا تو پھر آنے دنوں میں بڑے پیمانے پر مرن برت ہڑتال، ستیہ گرہ وغیرہ کے ساتھ عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا ۔ 

بتاتے چلیں کہ اننت مورتی ہیگڈے آنے والے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی پارٹی  سے ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش میں لگے ہیں، دراصل نوجوان  لیڈر اننت مورتی ہیگڈے کی قیادت میں 5 فروری کو سوابھیمانی پیدل یاترا کی یہ ریلی  کمٹہ سے نکلی تھی، آج 7 فروری کو  وزیرمنکال وئیدیا کے نام میمورنڈم پیش کرنے کے بعد بھٹکل میں اختتام کو پہنچی۔

 

ایک نظر اس پر بھی

کاروار کے سمندر میں لگا ہوا 'رڈار' بھی چوروں کے ہاتھ سے بچ نہ سکا !

زمین پر سے قیمتی مشینیں چرانے والوں نے اب سمندر میں اپنے ہاتھ کی صفائی دکھانا شروع کیا ہے جس کی تازہ ترین مثال ماحولیاتی تبدیلیوں کے سگنل فراہم کرنے کے لئے کاروار کے علاقے میں بحیرہ عرب میں لگائے گئے 'رڈار' کی چوری ہے ۔

کمٹہ کے سمندر میں چینی جہاز کا معاملہ - کوسٹ گارڈ نے کہا : ہندوستانی حدود کی خلاف ورزی نہیں ہوئی

دو دن قبل کمٹہ کے قریب ہندوستانی سمندری سرحد میں چینی جہاز کی موجودگی اور اس سے ساحلی سیکیوریٹی کو درپیش خطرے کے تعلق سے جو خبریں عام ہوئی تھیں اس پر کوسٹ گارڈ نے بتایا ہے کہ یہ ایک جھوٹی خبر تھی اور چینی جہاز ہندوستانی سرحد میں داخل نہیں ہوا تھا ۔

ہوناور کاسرکوڈ میں ماہی گیروں پر زیادتیوں کے خلاف حقوق انسانی کمیشن سے کی گئی شکایت

ہوناور کے کاسرکوڈ ٹونکا میں مجوزہ تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف احتجاج کرنے والے مقامی ماہی گیروں  پر پولیس کی طرف سے لاٹھی، خواتین سمیت کئی لوگوں کی گرفتاریاں ، جھوٹے مقدمات کی شکل میں جو زیادتیاں ہوئی تھیں، اس کے تعلق سے حقوق انسانی کمیشن سے شکایت کی گئی ہے ۔

بھٹکل میں 'ریت مافیا' کا دربار - تعلقہ انتظامیہ خاموش - عوام بے بس اور لاچار

بھٹکل میں تعلقہ انتظامیہ کی خاموشی کی وجہ سے تعلقہ کے گورٹے، بیلکے، جالی، مُنڈلی نستار، بئیلور جیسے علاقوں میں ساحل سے ریت جیسی سمندری دولت لوٹنے کا کام 'ریت مافیا' کی طرف سے بلا روک ٹوک جاری ہے اور مقامی عوام پریشانی اور بے بسی و لاچاری سے یہ سب دیکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔