سرسی : شیورام ہیبار کی کانگریس میں شمولیت پر کانگریسی لیڈران کی مخالفت 

Source: S.O. News Service | Published on 27th March 2024, 12:12 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

سرسی ، 27 / مارچ (ایس او نیوز) کانگریس پارٹی سے الگ ہو کر بی جے پی میں شامل ہوئے شیورام ہیبار کی دوبارہ کانگریس میں شمولیت پر مقامی طور پر کانگریسی حلقے میں ہی مخالفت شروع ہوگئی ہے ۔
    
پارلیمانی الیکشن کے موقع پر شیورام ہیبار بی جے پی سے نکل کر کانگریس میں دوبارہ شامل ہونے کی بات تقریباً طے ہو چکی ہے ، لیکن کچھ پارٹی کارکنان اور لیڈران شیورام ہیبار کو پارٹی میں دوبارہ شامل ہونے سے روکنے کی مہم چلا رہے ہیں ۔ 
    
ایک طرف شیورام ہیبار کی مخالفت میں  کانگریس پارٹی کے دفتر کے باہر پوسٹرس چپکائے گئے تو دوسری طرف کانگریس پارٹی کے امیدوار انجلی نمبالکر تشہیری مہم پر یہاں پہنچیں تو کارکنان نے شیورام کے خلاف اپنی ناراضی کا اظہار کیا ۔ اس کے بعد وزیر منکال وئیدیا، ایم ایل اے دیش پانڈے، ستیش سائل اور بھیمنا نائک کی موجودگی میں منعقدہ اجلاس کے دوران بھی شیورام ہیبار کی حمایت اور مخالفت میں کانگریسی کارکنان ایک دوسرے کے خلاف الجھ پڑے ۔ مخالفین کا اصرار تھا کہ فی الحال پارٹی کو شیورام ہیبار کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لئے انہیں کسی بھی قیمت پر دوبارہ کانگریس میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے ۔ 
    
اس سارے ہنگامے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے شیورام ہیبار نے کہا کہ میں 41 سال سے سیاسی زندگی میں ہوں ۔ ایسے چھوٹی موٹی باتوں کی میں کبھی پروا نہیں کرتا ۔ بی جے پی نے امیدوار کا اعلان کر دیا ہے ۔ جو امیدوار بنے ہیں وہ کام کریں گے ۔ کس پارٹی کے حق میں مجھے تشہیر کرنا ہے اس بارے میں ابھی میں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ 
    
اپنی طرف سے اسمبلی میں کراس ووٹنگ کے تعلق سے شیورام ہیبار نے کہا کہ اگر کرناٹکا سے بی جے پی ایم ایل اے کا ایک ووٹ کرنا غلط ہے تو پھر بی جے پی والوں کو پوچھنا چاہیے کہ ہماچل پردیش میں  6 کانگریسی اراکین اسمبلی نے جو کراس ووٹنگ کی تھی وہ کیسے درست ہو سکتی ہے ؟    
 

ایک نظر اس پر بھی

ماہی گیر تنظیموں کا متفقہ فیصلہ - کاسرکوڈ میں تجارتی بندرگاہ کے خلاف ہوگی قانونی جد و جہد

) شہر کے سینٹ جوزیف ہال میں ماہی گیر تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور کراولی ماہی گیر مزدوروں کی تنظیم کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں کاسرکوڈ میں مجوزہ نجی تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف تنظیمی اور قانونی طریقے سے جد وجہد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔

بھٹکل میں ووٹر بیداری مہم؛ سرکاری افسران نے طلبہ کے ساتھ نکالی ریلی؛ سو فیصد ووٹنگ کویقینی بنانے کی کوششیں

بھٹکل میں  صد فیصد ووٹنگ کا ٹارگٹ لے کر   اُترکنڑاضلعی انتظامیہ،  ضلع پنچایت، بھٹکل تعلقہ انتظامیہ اور تعلقہ پنچایت کے زیراہتمام  بھٹکل کے سرکاری آفسران  نے کالج طلبہ کو ساتھ لے کر  ووٹنگ بیداری مہم  کے تحت شاندار ریلی نکالی اور عوام پر زور دیا کہ وہ  کسی بھی صورت میں اپنی ...

بھٹکل میں مسلم رپورٹروں کی طرف سے غیر مسلم رپورٹروں کوپیش کی گئی عید الفطر کی مٹھائیاں

ورکنگ جرنلسٹ اسوسی ایشن   بھٹکل  کے مسلم رپورٹروں کی طرف سے بھٹکل کے غیر مسلم رپورٹروں کو عید الفطر کی مناسبت سے مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور اُنہیں عید کے تعلق سے  معلومات فراہم کی گئیں۔

بی جے پی نے کانگریس ایم ایل اے کو 50 کروڑ روپے کی پیشکش کی؛ سدارامیا کا الزام

کرناٹک کے وزیر اعلی سدارامیا نے ہفتہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگایا کہ وہ کانگریس کے اراکین اسمبلی کو وفاداری تبدیل کرنے کے لیے 50 کروڑ روپے کی پیشکش کرکے 'آپریشن لوٹس' کے ذریعے انکی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں ملوث ہے۔

لوک سبھا انتخاب 2024: کرناٹک میں کانگریس کو حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ ہے

کیا بی جے پی اس مرتبہ اپنی 2019 لوک سبھا انتخاب والی کارکردگی دہرا سکتی ہے؟ لگتا تو نہیں ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ اول، ریاست میں کانگریس کی حکومت ہے، اور دوئم بی جے پی اندرونی لڑائی سے نبرد آزما ہے۔ اس کے مقابلے میں کانگریس زیادہ متحد اور پرعزم نظر آ رہی ہے اور اسے بھروسہ ہے ...

تعلیمی میدان میں سرفہرست دکشن کنڑا اور اُڈپی ضلع کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

ریاست میں جب پی یوسی اور ایس ایس ایل سی کے نتائج کا اعلان کیاجاتا ہے تو ساحلی اضلاع جیسےدکشن کنڑا  اور اُ ڈ پی ضلع سر فہرست ہوتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ساحلی ضلع جسے دانشوروں کا ضلع کہا جاتا ہے نے ریاست میں بہترین تعلیمی کارکردگی حاصل کی ہے۔

این ڈی اے کو نہیں ملے گی جیت، انڈیا بلاک کو واضح اکثریت حاصل ہوگی: وزیر اعلیٰ سدارمیا

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے ہفتہ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ لوک سبھا انتخاب میں این ڈی اے کو اکثریت نہیں ملنے والی اور بی جے پی کا ’ابکی بار 400 پار‘ نعرہ صرف سیاسی اسٹریٹجی ہے۔ میسور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سدارمیا نے یہ اظہار خیال کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ...