بریکنگ نیوز

چینی صوبے سنکیانگ میں لاک ڈاؤن کے خلاف غیر معمولی مظاہرے

Source: S.O. News Service | By Saif Akrami Bhatkal | Published on 27th November 2022, 6:53 PM | عالمی خبریں |

سنکیا نگ ، 27؍نومبر (ایس او نیوز؍ ایجنسی ) چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں کووڈ   لاک ڈاؤن کے دوران ایک عمارت میں آتشزدگی کے واقعے میں ہلاکتوں کے بعد اس علاقے میں غیر معمولی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ  آتشزدگی کے  واقعے میں کم ازکم دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جمعہ کے روز مظاہرین وہاں موجود محافظوں پر چیختے چلاتے رہے۔ یہ مظاہرین طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھی سخت ناراض تھے۔ جمعہ کی رات چینی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے مطابق سڑک پر چلتے ہجوم نے 'لاک ڈاؤن ختم کرو!‘ کے نعرے لگائے۔ نيوز ايجنسی رائٹرز نے تصدیق کی کہ یہ فوٹیج سنکیانگ کے دارالحکومت ارمچی کی ہے۔

ویڈیوز میں ایک پلازہ میں جمع لوگوں کو چین کا قومی ترانہ اس کے بول 'اُٹھو، وہ لوگ جو غلام بننے سے انکار کرتے ہیں!‘ کے ساتھ گاتے ہوئے  دیکھا گیا جب کہ دوسروں کو چیخ چیخ کر لاک ڈاؤن سے رہائی کے نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا۔

چین نے سنکیانگ کے وسیع علاقے میں ملک کا سب سے طویل لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا ہے۔ ارمچی کے 40 لاکھ باشندوں میں سے بہت سے لوگوں کو 100 دنوں تک اپنے گھروں سے باہر نکلنےسے روک دیا گیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ  شہر میں پچھلے دو دنوں میں کورونا وائرس کے تقریباً 100 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

سنکیانگ ميں تقريباً 10 ملین ایغور مسلمان بھی آباد ہيں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مغربی حکومتیں طویل عرصے سے بیجنگ پر اس مسلم نسلی اقلیت کے خلاف بدسلوکی کا الزام لگاتی رہی ہیں۔ ان الزامات میں ایغور باشندوں سے حراستی کیمپوں میں جبری مشقت لینا بھی شامل ہے۔ چین ایسے دعووں کو سختی سے مسترد کرتا  رہا ہے۔

ارمچی کی ایک رہائشی عمارت میں آتشزدگی سے دس افراد کی ہلاکت ایک ہفتے میں اس نوعیت کا دوسرا واقعہ تھا۔ مقامی حکام کے مطابق آگ لگنے کے بعد عمارت کے مکین نیچے جانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ تاہم چینی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہنگامی عملے کی کوششوں کی ویڈیوز نے بہت سے انٹرنیٹ صارفین کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ عمارت جزوی طور پر بند ہونے کی وجہ سے رہائشی بروقت وہاں سے باہر نہیں نکل سکے۔

ارمچی کے عہدیداروں نے ہفتے کو علی الصبح اچانک ایک نیوز کانفرنس میں اس بات کی تردید کی تھی کہ کووڈ انیس سے بچاؤ کے اقدامات سے فرار اور بچاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے لیکن انہوں نے اس بارے میں مزید تحقیقات کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ اگر عمارت کے رہائشی آگ سےحفاظت کا طریقہ بہتر طور پر سمجھ لیتے تو وہ بچ سکتے تھے۔

شکاگو یونیورسٹی کے ماہر سیاسیات ڈالی یانگ نے کہا کہ اس طرح 'متاثرہ کو الزام دینے‘ کا رویہ لوگوں کو غصہ دلائے گا، 'اس سے صرف عوامی اعتماد میں کمی آئے گی ۔‘ چین کےسماجی رابطے کے پلیٹ فارم ویبو کے صارفین نے اس واقعے کو ایک المیہ قرار دیا جو چین کی جانب سے اپنی زیرو کووڈ پالیسی پر قائم رہنے کے اصرار سے پیدا ہوا اور جو کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

چین نے صدرشی جن پنگ کی دستخط شدہ زیرو کووڈ پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے اسے زندگی بچانے اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام کودباؤ سے بچانے کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ عہدیداروں نے عوام کے بڑھتے ہوئے رد عمل اور اس پالیسی کے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کو ہونے والے نقصان کے باوجود اسے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

جب کہ ملک نے حال ہی میں اپنے اقدامات میں تبدیلی کرتے ہوئے قرنطینہ کو مختصر کیا اور دیگر اہدافی اقدامات کیے، اس کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے کیسز نے بیجنگ سمیت بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر الجھن اور غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے، جہاں بہت سے رہائشی گھروں میں بند ہیں۔ چین میں یومیہ پینتیس ہزار مقامی کیسز ریکارڈ کیے جاتے ہیں، جو عالمی معیار کے لحاظ سے کم ہیں۔ تاہم متعدد شہروں میں انفیکشن پھیلنے کے وجہ سے بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ نقل و حرکت اور کاروبار پر پابندیاں عائد ہیں۔

چین کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر اور مالیاتی مرکز شنگھائی نے ہفتے کے روز ثقافتی مقامات جیسے عجائب گھروں اور لائبریریوں میں داخلے کے لیے معائنے کی ضروریات کو سخت کر دیا۔ جس کے لیے لوگوں کو 48 گھنٹوں کے اندر منفی کووڈ ٹیسٹ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

دنیا بھر میں بڑھتی مسلم دشمنی نسل پرستی،عدم برداشت دیکھ رہے ہیں: اقوام متحدہ

کوپن ہیگن کی ایک مسجد کے قریب اسلام مخالف شخص کی جانب سے ڈنمارک میں ترک سفارت خانے کے سامنے مسلمانوں کی مقدس کتاب جلانے کے چند گھنٹے بعد اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ انٹرنیٹ نے نفرت انگیز تقریر کو بھڑکایا جس سے مجرموں کو اپنا جھوٹ، سازشیں اور دھمکیاں پھیلانے میں مدد ملی۔

قرآن کو جلانے کے خلاف مظاہروں میں شدت

سویڈن اور ہالینڈ میں انتہائی دائیں بازو کے کارکنوں کی طرف سے حالیہ دنوں میں اسلام کی مقدس کتاب کو نذر آتش کرنے کی مذمت کیلئے جمعہ کو کئی مسلم اکثریتی ممالک میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے-

دنیا بھر میں ہورہی ہے چھٹنی،سروے سے کھلا راز، ہر 4 میں سے 1 ہندوستانی کو ملازمت سے برطرفی کا خدشہ

دنیا بھر کی بڑی ٹیک کمپنیوں میں  ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کیا جارہا ہے۔ اور ذرائع کی مانیں تو  ہر 4 میں سے 1 ہندوستانی ملازمت کے خاتمے  کو لے کر پریشان ہے۔ دوسری طرف 4 میں سے 3 ہندوستانی بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان ہیں۔

افغانستان میں ریکارڈ سردی ، اب تک 157 افراد ہلاک

افغانستان میں اس وقت شدید سردی پڑ رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سردی نے گزشتہ 15 سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے اور درجہ حرارت گر کر مائنس 34 ڈگری سلسیس تک پہنچ گیا ہے۔ سردی کی اس شدت نے گزشتہ ایک ہفتہ میں لوگوں کو بری طرح حراساں کیا ہے اور سردی کی وجہ سے اموات کی تعداد میں بھی زبردست ...

قرآن کی بے حرمتی کیخلاف عالمِ اسلام میں شدید احتجاج، ترکی ، عراق ، ایران ، لیبیا ، سعودی عرب، یو اے ای اور دیگر اسلامی ممالک میں عوام سڑکوں پر نکل آئے

اسلام کی  مخالفت میں  زہر اگلنے والے  ڈینش سیاست داں راسموس پالودان کے ذریعہ اسٹاک ہوم میں ترک سفارت خانے کے سامنے  قرآن مقدس کا نسخہ نذر آتش کرنے کے خلاف پاکستان، ایران اور ترکی سمیت کئی اسلامی ملکوں میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔