اڈپی: مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والے متالک اب ہوگئے بی جے پی کے خلاف؛ ریاستی حکومت کو گلی گلی میں بے عزت کرنے کی دی دھمکی

اڈپی،21 / ستمبر (ایس او نیوز) مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے میں بدنام اور اشتعال انگیز بیانات دینے میں ماہر، شری رام سینا کے چیف پرمود متالک نے اب ریاست کی بی جے پی حکومت کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا میں آئی ایک رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ کلبرگی میں گنیش اتسوا کے دوران اپنے داخلے پر پابندی لگانے سے ناراض پرمود متالک نے ریاستی بی جے پی حکومت کے خلاف اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں گلی گلی اور گھر گھر جا کر اس حکومت کو بے عزت کرکے رکھ دوں گا۔
پرمود متالک نے کہا کہ میرے کلبرگی میں داخلے پر پابندی لگانے کا حکم ضلع ڈپٹی کمشنر کا نہیں بلکہ حکومت کا ہے اور حکومت کا مطلب بی جے پی ہے ۔ بار بار مجھ پر پابندی لگانا بی جے پی کو زیب نہیں دیتا ۔ انہوں نے بی جے پی قیادت کو مخاطب کرکے کہا : تمہیں سمجھنا چاہیے کہ تم لوگ یہ پابندی مجھ پر نہیں بلکہ ہندوتوا پر پابندی لگا رہے ہو، جہاں ہندو طاقتوں کا مجمع لگے وہاں ان کے لیڈر کو روکنے کا کام کر رہے ہو ۔ یہ غیر آئینی رویہ ہے اور کسی کی آزادی چھیننے والی بات ہے ۔ متالک نے کہا کہ تمہیں نہیں بھولنا چاہیے کہ کانگریس کے زمانے میں جب مجھ پر پابندی لگی تھی تو تب تم لوگوں نے ہی اس کی مخالفت کی تھی۔
متالک نے بتایاکہ انہیں پروین نیٹارو کے گھر پر تعزیت کے لئے جانا تھا مگر روکا گیا ۔ گنگولی میں اجتماعی پوجا میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی ۔متالک نے بتایا کہ مجھے کہا جاتا ہے کہ میں بولتا ہوں تو فساد ہوتا ہے۔ فساد ہوتا ہے تو مجھ پر کیس داخل کرکے مجھے جیل بھیج دو ۔ اگر تم سے ہوسکے تو فساد کرنے والوں کو جیلوں میں ٹھونسو ۔ تم لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندووں سے کبھی بھی فساد نہیں ہوتا ۔ بار بار مجھ پر پابندیاں عائد کرکے ناٹک کر رہے ہو۔ پرمود متالک نے پوچھا : کیا اپ مسلمانوں کو ، دشمنوں کو اور فسادیوں کو میرے اوپر حاوی ہونے دیں گے؟ انہوں نے کہا کہ ہندووں کا قتل ہوتا ہے تو تمہیں ہندو تنظمیوں کی پشت پناہی کرنی چاہیے اور انہیں تقویت دینا چاہیے۔ مزید کہا کہ ملناڈو کا علاقہ دہشت گردوں کا اڈہ بن رہا ہے ۔ شیموگہ کا مطلب ہندووں کے تحفظ کا قلعہ ہے ، لیکن اب یہ قلعہ کمزور اور خستہ ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کو اس پر چوکنا ہونا چاہیے اور اس ضمن میں سخت قدم اٹھانا چاہیے۔ ورنہ بڑی خطرناک صورتحال پیدا ہوجائے گی۔