نیٹ میں دھاندلی کا معاملہ پہنچا سپریم کورٹ، دوبارہ امتحان کرانے کا مطالبہ

Source: S.O. News Service | Published on 10th June 2024, 5:52 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 10/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) نیٹ (NEET) امتحان میں بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے سپریم کورٹ سے نیٹ یوجی 2024 کا نتیجہ واپس لینے اور دوبارہ امتحان کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ میں دو طلبہ کی جانب سے عرضداشت داخل کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیٹ امتحان میں من مانے طریقے سے رعایت دی گئی ہے اور اس کی وجہ سے ایک ہی سنٹر کے 67 طلبہ کو 720 نمبرات ملے ہیں۔ اس معاملے کی ایس آئی ٹی سے جانچ کی درخواست کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ میں داخل عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے گریس نمبر دیے ہیں اور یہ سب جانبدارانہ ہے جبکہ کچھ طلبہ کو بیک ڈور انٹری دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ عرضداشت گزاروں نے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ایک مخصوص مرکز پر امتحان دینے والے 67 طلبہ نے مکمل 720 نمبر حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ امتحان 5 مئی کو ہوا تھا اور کئی شکایات سامنے آئی ہیں جن میں پیپر لیک ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں پہلے ہی دو درخواستیں زیر التوا ہیں اور پیپر لیک ہونے کی بنیاد پر امتحان منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے پہلی درخواست پر سماعت کے دوران نوٹس بھی جاری کیا تھا حالانکہ اس وقت سپریم کورٹ نے نتیجہ پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔

یہ عرضداشت تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے رہنے والے عبداللہ محمد فیض اور شونک روشن محی الدین نے داخل کی ہے۔ عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ یہ طلبہ کے مفاد کے لیے دائر کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ معاملے کی جانچ ہونے تک نیٹ یو جی 2024 کی کونسلنگ پر روک لگائی جائے۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ امتحان میں دھاندلی اور بے ضابطگی کے معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی سے کرائی جائے اور اس کے لیے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی جائے۔

عرضداشت گزار کی جانب سے سپریم کورٹ میں کہا گیا سے کہ 5 مئی کو ہونے والے نیٹ یوجی امتحان کے پرچے لیک ہو گئے تھے، اس لیے دوبارہ امتحان کرانے کی ہدایات دی جائیں۔ واضح رہے کہ 3 جون کو نیٹ (قومی اہلیتی و انٹرنس ٹسٹ) کے امتحان میں مبینہ پیپر لیک معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ یہ امتحان دوبارہ کرایا جائے۔ اس سے متعلق ایک اور عرضداشت 17 مئی کو سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے امتحان نتائج پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس معاملے میں چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت والی بنچ نے درخواست گزار کی درخواست پر مدعا علیہ کو نوٹس جاری کیا تھا اور سماعت کے لیے جولائی کی تاریخ مقرر کی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

کویت آتشزدگی معاملہ؛ مہلوکین کی لاشوں کو لانے طیارہ پہنچے گا کویت

کویت کی عمارت میں لگی آگ سے گذشتہ روز جن 40 سے زائد ہندوستانی ورکروں کی موت ہوئی تھیں، ان کی نعشوں کو ہندوستان لانےکی تیاریاں کی جارہی ہیں، چونکہ مرنے والوں کی بڑی تعداد ریاست کیرالہ سے ہے، کیرالہ کے کوچین انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

اجیت ڈووال تیسری بار قومی سلامتی مشیر مقرر، پی کے مشرا بھی وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری برقرار

اجیت ڈووال ایک بار پھر ملک کے قومی سلامتی مشیر یعنی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر (این ایس اے) مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ تیسری بار ہے جب انھیں یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔ جمعرات کو اس سلسلے میں خبریں سامنے آئیں اور ساتھ ہی یہ خبر بھی موصول ہو رہی ہے کہ پی کے مشرا وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری ...

بی جے پی حکومت سابقہ کانگریس حکومت کے ذریعہ کھولے گئے کالجوں کو بند کرنے جا رہی! اشوک گہلوت

 راجستھان کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوت نے ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر سابقہ ​​کانگریس حکومت کے ذریعہ کھولے گئے کالجوں کو بند کرنے کا الزام لگایا ہے۔

ممبئی میں آئس کریم کے اندر سے کٹی ہوئی انسانی انگلی برآمد، جانچ کے لیے ایف ایس ایل کو بھیجی گئی

کھانوں کے اندر سے چھپکلی، کاکروچ اور کیڑے مکوڑوں کے ملنے کی خبریں تو وقتاً فوقتاً آتی رہتی ہیں مگر اب انسانی اعضا کے ملنے کی بھی خبر آگئی ہے۔ یہ خبر ممبئی سے ہے جہاں ایک خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ آئس کریم کے اندر سے کٹی ہوئی انسانی انگلی نکلی ہے۔ اس خاتون کا کہنا ہے کہ اس نے آن ...

پیما کھانڈو نے تیسری بار اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا

اروناچل بی جے پی کی قانون ساز پارٹی کے لیڈر منتخب ہونے کے ایک روز بعد جمعرات کو پیما کھانڈو نے مسلسل تیسری بار اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لے لیا۔ گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) کے ٹی پرنائک نے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو، نائب وزیر اعلیٰ چونا مین اور دیگر 10 کابینی ...