ملک کے نازک حالات میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کی کوئی جرأت نہیں کرسکتا! معاملے کو لے کر دونوں ایوانوں میں ہنگامے؛ کیا یہ گودی میڈیا کی کارستانی ہے ؟

Source: S.O. News Service | Published on 29th February 2024, 11:10 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،29/ فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) راجیہ سبھا انتخاب کا نتیجہ ظاہر ہونے کے بعد و دھان سودھا کے لاؤنج میں راجیہ سبھا کے لئے منتخب ہونے والے کانگریس امیدوار ڈاکٹر سید نصیر حسین کے حامیوں نے جشن منایا، لیکن اس جشن کو لے کر بی جے پی والوں کا یہ الزام ہے کہ اس جشن کے دوران نصیر حسین کے ایک حامی نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ اس معاملے کو لے کر آج ریاستی لجس لیٹرس کے دونوں ایوانوں میں بی جے پی اراکین نے ہلا مچایا۔ ریاستی قانون ساز کونسل میں بی جے پی رکن روی کمار نے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے مسلمانوں پر ذاتی حملہ کیا جس کی مذمت میں کانگریس اراکین نصیر احمد اور عبدالجبار خان کھڑے ہوئے اور روی کمار کی فرقہ پرستی اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کی مذمت کی۔ حکمران پارٹی کے اراکین اور اپوزیشن بی جے پی اور جے ڈی ایس اراکین کے درمیان کافی تو تو میں میں ہوئی۔ ایوان میں شور شرابہ شروع ہو گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ جبار خان اور روی کمار کے درمیان ہاتھا پائی ہونے کو تھی، درمیان میں مارشلوں کو مداخلت کرتے ہوئے دونوں کو الگ کرنا پڑا۔

اسمبلی میں بھی اس معاملے پر کانگریس کے ضمیر احمد خان، رضوان ارشد اور اپوزیشن لیڈر آر اشوک کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ کہا جارہا ہے کہ حکمران پارٹی پر حملہ کرنے فی الحال اپوزیشن کے پاس کوئی معاملہ نہیں ۔اچانک یہ معاملہ ہاتھ لگ گیا تو اس کی آڑ میں کانگریس کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بی جے پی نے ایوان کے باہر بھی اس معاملے کی آڑ میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ ٹمکورو میں کانگریس دفتر پر بی جے پی ورکرس نے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس اور بی جے پی ورکرس کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ بلاری میں نصیر حسین کے دفتر میں گھس کر آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔ ایسے ہی کانگریس حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے اُترکنڑا کے سرسی ، اُڈپی اور دکشن کنڑا کے  مینگلور سمیت ریاست کے دیگر شہروں میں بھی ہوئے۔ جن میں منڈیا، چامراج نگر ، ہبلی اور وجئے پور بھی شامل ہیں۔

حالانکہ اس معاملے پر خود وزیر اعلیٰ سدارامیا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ ویڈیو ریکارڈنگ جانچ کے لئے ایف ایس ایل کو روانہ کی گئی ہے ۔ اگر ایف ایس ایل کی رپورٹ میں پاکستان زندہ باد لگانے کے نعرے ثابت ہوئے تو حکومت ملزم  کے خلاف سخت کارروائی کرے گی ، کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔

ریاستی اسمبلی میں بھی وزیر داخلہ امور ڈاکٹر جی پر میشور نے بھی کچھ ایسا ہی بیان دیا ہے ۔ اس کے باوجود اپوزیشن بی جے پی اس معاملے کو بڑا ایشیو بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ 

بتایا جارہا ہے کہ  نصیر حسین کے حامیوں نے نصیر حسین زندہ باد ناصر صاب زندہ باد کے نعرے لگا رہے  تھے اور نعرے صاف سنائی دے رہے ہیں  ۔ کہا جارہا ہے کہ مسلمانوں بالخصوص راجیہ سبھا کے لئے کرناٹک سے منتخب ہونے والے نصیر حسین کو بد نام کرنے یہ سب گودی میڈیا کی پیداوار ہے ۔بتایا جارہا ہے کہ  گودی میڈیا اصل ویڈیو کو  جوڑ توڑ کرنے  کے پورے امکانات ہیں۔ اصل ویڈیو میں پاکستان زندہ باد کے نعرے ہیں ہی نہیں ۔ ملک کے حالات نازک ہیں۔ ان حالات میں کوئی بھی شخص  ایسی جرأت نہیں کر سکتا۔ اس کا اثر کیا ہو گا  سبھی کو اس کا اچھی طرح علم ہے ۔ایسے  میں یہی مانا جارہا ہے کہ یہ سب گودی میڈیا ہی کی کارستانی ہے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی نے کانگریس ایم ایل اے کو 50 کروڑ روپے کی پیشکش کی؛ سدارامیا کا الزام

کرناٹک کے وزیر اعلی سدارامیا نے ہفتہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگایا کہ وہ کانگریس کے اراکین اسمبلی کو وفاداری تبدیل کرنے کے لیے 50 کروڑ روپے کی پیشکش کرکے 'آپریشن لوٹس' کے ذریعے انکی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں ملوث ہے۔

لوک سبھا انتخاب 2024: کرناٹک میں کانگریس کو حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ ہے

کیا بی جے پی اس مرتبہ اپنی 2019 لوک سبھا انتخاب والی کارکردگی دہرا سکتی ہے؟ لگتا تو نہیں ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ اول، ریاست میں کانگریس کی حکومت ہے، اور دوئم بی جے پی اندرونی لڑائی سے نبرد آزما ہے۔ اس کے مقابلے میں کانگریس زیادہ متحد اور پرعزم نظر آ رہی ہے اور اسے بھروسہ ہے ...

تعلیمی میدان میں سرفہرست دکشن کنڑا اور اُڈپی ضلع کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

ریاست میں جب پی یوسی اور ایس ایس ایل سی کے نتائج کا اعلان کیاجاتا ہے تو ساحلی اضلاع جیسےدکشن کنڑا  اور اُ ڈ پی ضلع سر فہرست ہوتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ساحلی ضلع جسے دانشوروں کا ضلع کہا جاتا ہے نے ریاست میں بہترین تعلیمی کارکردگی حاصل کی ہے۔

این ڈی اے کو نہیں ملے گی جیت، انڈیا بلاک کو واضح اکثریت حاصل ہوگی: وزیر اعلیٰ سدارمیا

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے ہفتہ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ لوک سبھا انتخاب میں این ڈی اے کو اکثریت نہیں ملنے والی اور بی جے پی کا ’ابکی بار 400 پار‘ نعرہ صرف سیاسی اسٹریٹجی ہے۔ میسور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سدارمیا نے یہ اظہار خیال کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ...