کرناٹک کے امیر شریعت نے مسلمانوں کو ریزرویشن سے محروم کرنے کے فیصلہ کو بتایا سراسر غلط اور غیر دستوری

Source: S.O. News Service | Published on 26th March 2023, 9:40 PM | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بنگلورو،26/مارچ(ایس او نیوز)کرناٹک کی ریاستی حکومت کی جانب سے 2B category کے ذریعے مسلمانوں کو ملنے والا 4 فیصد ریزرویشن چھین کر مبینہ طور پر مسلم دشمنی کا اظہار کیا ہے اور حکومت کے اس اقدام سے اس کا اصلی چہرہ کھل کر سامنے آگیا ہے۔ ریاست کرناٹک کے امیر شریعت مولانا صغیر احمد صاحب رشادی نے اس ضمن میں ایک اخباری بیان جاری کرکے اس اقدام کی سخت مذمت کی اور کہا کہ 2B کے تحت ملنے والے 4 فیصد ریزرویشن کے ذریعے مسلمانوں کوبالخصوص اس کے کمزور طبقات کو کافی راحت اور سہولت تھی، اس کے ذریعہ ان کی ترقی کی کافی راہیں کھلی ہوئی تھیں۔ حکومت نے واضح طور پر مسلم دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے کابینی فیصلہ کے ذریعے اس کو چھین لیا ہے۔جب کہ حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ ریاست اور ملک کی ترقی محض ایک یا دو طبقوں کی ترقی سے ممکن نہیں،بلکہ تمام طبقات کی ترقی سے ملک اور ریاست مضبوط ہوتی ہے۔ مسلمانوں سے ترقی کا حق چھین کر حکومت نے وکالیگااور لنگایت طبقے کو دے دیا ہے، مذکورہ وکلیگا اور لنگایت طبقہ کی ہمہ جہت ترقی کیلئے ان کے ریزرویشن میں اضافے سے ہم بہت خوش ہیں اور اس فیصلے کا استقبال بھی کرتے ہیں لیکن مسلمانوں سے یہ حق چھین کر مذکورہ طبقات کو دینا مسلمانوں کے ساتھ سراسر حق تلفی نا انصافی اور ظلم ہے۔ جب کہ حکومت مسلمانوں کا حق چھینے بغیر بھی دیگر طبقات کو ترقی کا خاطر مواقع فراہم کر سکتی ہے، محض ووٹ بینک کی سیاست کی خاطر حکومت کا یہ اقدام قابل مذمت ہے اور سماج کے طبقات میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش ہے،حکومت کو چاہئے کہ فوری اس فیصلے کو واپس لے۔ دوسری طرف ہمارا وکلیگا اور لنگایت طبقہ سے بھی سوال ہے کہ تمہارے قومی بھائی مسلمانوں سے چھین کر دیا گیا اختیار کیا آپ کو قبول اور منظور ہے؟ جبکہ مسلمان آپ کے برادران وطن ہیں اور ہم سب مل کر اس ملک میں عرصہ سے پیار اور محبت اور بھائی چارگی کے ساتھ جی رہے ہیں،اب آپ کے مفاد کی خاطرآپ کے اپنے بھائیوں کا حق چھین کر آپ کو دیا جا رہا ہے، کیا آپ اس کو قبول کریں گے یا اخلاقی، دستوری اور یکجہتی کے حق کو سمجھتے ہوئے اس کو رد کریں گے۔اس کا آپ کو فیصلہ کرنا ہے،ہم حکومت سے بھی صاف الفاظ میں کہتے ہیں کہ صرف مسلمانوں ہی کا نہیں بلکہ کسی کا بھی حق چھیننے سے باز رہے۔ اس وقت ہم ہمارے دستوری حق ریز رویشن کو حاصل کرنے کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ اس کیلئے اعلیٰ سطحی وکلاء کی ٹیم بھی تشکیل دی جا رہی ہے اور ساتھ ہی ہم تمام مسلمانان ریاست سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اشتعال اور جو ش میں ہرگز نہ آتے ہوئے ماہ مبارک رمضان کے احترام کے ساتھ پرسکون رہیں۔ قانونی چارہ جوئی کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔آپ دعاؤں کا اہتمام کریں، حکمت اور مصلحت کا دامن ہرگز نہ چھوڑیں۔اس وقت مسلمانوں پر جو ظلم و ستم اور حق تلفی جاری ہے اس کیلئے بارگاہ قدس میں دعاگو رہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹک میں بڑھ گئیں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں؛ وزیراعلی نے کہا اب بھی گجرات اور ایم پی سے ہمارے دام ہیں کم

کرناٹک بھر میں ہفتہ، 15جون سے پیٹرول کی قیمتوں میں تین روپیہ اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3.50 روپیوں کا اضافہ کرنے کے کانگریس حکومت کے فیصلے کا پُرزور دفاع کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اتوار کو کہا کہ قیمتوں میں اضافہ ضروری عوامی خدمات اور ترقیاتی کاموں کو فنڈ فراہم کرنے کے لئے ...

جوئیڈا کے رام نگر میں خود سوزی کی وجہ سے نوجوان کی موت - پولیس پر ہراسانی کا الزام - کُونبی سماج کا احتجاج 

تعلقہ کے رام نگر پولیس تھانے کے افسران کی طرف سے ہراسانی کا الزام لگاتے ہوئے کُونبی سماج کے جس نوجوان نے پولیس اسٹیشن کے احاطے میں اپنے جسم پر پٹرول چھڑک کر خود سوزی کی تھی ، اس نے بیلگام کے اسپتال میں دم توڑ دیا ۔ جس کے بعد قصوروار پی ایس آئی اور عملے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ ...

نیٹ کا امتحان دوبارہ لیا جانا چاہئے، گریس مارکس دینا غلط: وزیر اعلیٰ سدارمیا

  کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے ہفتہ کو نیٹ کا امتحان دوبارہ منعقد کرنے کی وکالت کرنے ہوئے کہا کہ گریس مارکس دینا غلط ہے۔ میسور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے کہا کہ نیٹ امتحان میں ان طلباء کے ساتھ غلط ہوا جنہوں نے سخت محنت کی تھی۔ انہوں نے کہا، ’’طلباء ...

بولیار مسجد کے سامنے اشتعال انگیزی کی طرح خاطیوں پر حملہ بھی غلط، سوشیل میڈیا پر جعلی پیغامات وائرل کرنے والوں پر بھی کارروائی : یوٹی قادر

ریاستی قانون ساز  اسمبلی کے اسپیکر یوٹی قادر نے کہا کہ منگلور و اسمبلی حلقہ کا   بولیار گرام ہم آہنگی کی ایک مثال ہے، جہاں مقامی لوگ اور  پولیس حالیہ واقعہ سے متعلق معاملے کو حل کرنے جا رہے  ہیں۔ یوٹی  قادر نے کہا کہ اگر باہر کے لوگ اپنا منہ بند رکھیں  تو یہ ملک سے حقیقی دیش ...

کلیان کرناٹک ترقیات کیلئے سالانہ 5000 کروڑ روپئے گرانٹ، اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں 41 گرلز کالجز شروع کئے جائیں گے: سدارامیا 

ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کلیان کرناٹک کے لیے 5000 کروڑ روپے جاری کیے جائیں گے ۔ اسمبلی انتخابات کے موقع پر انتخابی منشور میں اور بجٹ میں کیے گئے وعدہ کے مطابق کلیان کرناٹک خطے کی ترقی کے لیے سالانہ 5000 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ سدارامیا نے کے کے ...

مہاراشٹرا کے طلبہ توجہ دیں؛ بارہویں سائنس کے بعدڈائریکٹ سیکنڈ ایئر انجیئنرنگ ڈپلومہ کورسس میں داخلے

بارہویں سائنس میں کامیاب طلباء و طالبات کو یہ اطلاع دیجاتی ہے کہ ریاست مہاراشٹرا کی تمام پولی ٹیکنک کالجوں میں ڈائریکٹ سیکنڈ ایئر انجینئرنگ ڈپلومہ کورسیس (پولی ٹیکنیک) میں داخلہ کے لئے رجسٹریشن کا آغاز ہو چکا ہے

طلبا تنظیم این ایس یو آئی نے نیٹ کا امتحان دوبارہ کرانے کا کیا مطالبہ، این ٹی اے پر فوری پابندی لگانے کی اپیل

این ایس یو آئی (نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا) کے قومی صدر ورون چودھری کی قیادت میں آج یونین دفتر سے جنتر منتر تک پرامن مشعل مارچ منعقد کیا گیا۔ اس مارچ کا مقصد حال ہی میں ہوئے این ٹی اے اور نیٹ امتحان گھوٹالہ کے خلاف بیداری پیدا کرنا اور احتجاج درج کرنا تھا، جس نے پورے ملک ...

نیٹ پرچہ سوالات افشاء کیس، امتحان سے ایک دن پہلے پیپر ملنے کا انکشاف

بہار پولیس کے معاشی جرائم یونٹ (ای او یو) نے جو نیشنل ایلجبلیٹی کم انٹرنس ٹسٹ (نیٹ۔ یوجی) 2024ء میں پرچہئ سوالات کے افشاء کی تحقیقات کررہی ہے، ہفتہ کے روز 11 امیدواروں کو نوٹسیں روانہ کی ہیں، جن پر اس جرم میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

نیٹ پیپر لیک معاملہ: بہار میں اب تک 14 اور گجرات میں 5 ملزمین گرفتار

نیٹ (این ای ای ٹی) پیپر لیک اور نقل معاملہ دن بہ دن طول پکڑتا جا رہا ہے۔ روزانہ نئی نئی باتیں سامنے آ رہی ہیں اور اپوزیشن پارٹیاں حکمراں طبقہ پر حملہ آور دکھائی دے رہی ہے۔ اس معاملے میں اب تک بہار اور گجرات سے مجموعی طور پر 19 ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

کویت آتشزدگی معاملہ؛ مہلوکین کی لاشوں کو لانے طیارہ پہنچے گا کویت

کویت کی عمارت میں لگی آگ سے گذشتہ روز جن 40 سے زائد ہندوستانی ورکروں کی موت ہوئی تھیں، ان کی نعشوں کو ہندوستان لانےکی تیاریاں کی جارہی ہیں، چونکہ مرنے والوں کی بڑی تعداد ریاست کیرالہ سے ہے، کیرالہ کے کوچین انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔