بھٹکل میں پھر شروع ہوا سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کا سلسلہ ؛ سُنیل نائک اور ہیگڈے کے خلاف فیس بُک پوسٹ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 11th February 2024, 7:46 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 11 / فروری (ایس او نیوز) گزشتہ اسمبلی الیکشن کے دوران سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس پر مخالفین کی طرف سے سیاسی  شخصیات پر کیچڑ اچھالنے کا جو سلسلہ چلا تھا،   اب پارلیمانی الیکشن کے موسم میں دوبارہ وہی سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

    اس مرتبہ بھٹکل ودھان سبھا حلقہ سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھنے والے اور بی جے پی سے پارلیمانی ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہشمند اننت مورتی ہیگڈے کا معاملہ سرخیوں میں آیا ہے ۔ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  کچھ دن پہلے اننت مورتی ہیگڈے نے کمٹہ میں ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل کے قیام کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے جو پیدل مارچ کیا تھا اس میں بھٹکل کے سابق ایم ایل اے سنیل نائک کے حامیوں کی طرف سے ان کا ساتھ دینے کے لئے رقم وصول کی تھی اور اس کے بعد وعدہ پورا نہیں کیا تھا ۔ اس ضمن میں کس کس کو مبینہ طور پر کتنی رقم دی گئی تھی اس کا اندراج جس ڈائری میں تھا اس کا عکس فیس بک پر لیک ہوگیا ہے ۔    

    ٹیم سنیل نائک نامی فیس بک پیج پر یہ الزامات اور سنیل نائک کے خلاف بھی چند فقرے پوسٹ ہوئے ہیں ۔ اس فیس بک پیج پر شامل تبصروں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ پیج سنیل نائک کے مخالفین چلاتے ہیں ۔ 

    اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اننت مورتی نے کہا کہ کچھ لوگوں نے فیس بک پر میرے خلاف غلط بیانی کی ہے اور پیسے دے کر لوگوں کو جمع کرنے اور فرار ہو جانے کی بات کہی گئی ہے ۔ میری کوئی ڈائری نہیں ہے ۔ میں نے رقم دے کر لوگوں کو جمع نہیں کیا تھا اور نہ ہی کسی نے مجھے پیسے دئے تھے ۔ یہ سب کچھ جھوٹ پر مبنی باتیں ہیں ۔  اننت مورتی نے مزید کہا ہے کہ یہ ان کے خلاف کردار کشی کی ایک مہم ہے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

کاروار کے سمندر میں لگا ہوا 'رڈار' بھی چوروں کے ہاتھ سے بچ نہ سکا !

زمین پر سے قیمتی مشینیں چرانے والوں نے اب سمندر میں اپنے ہاتھ کی صفائی دکھانا شروع کیا ہے جس کی تازہ ترین مثال ماحولیاتی تبدیلیوں کے سگنل فراہم کرنے کے لئے کاروار کے علاقے میں بحیرہ عرب میں لگائے گئے 'رڈار' کی چوری ہے ۔

کمٹہ کے سمندر میں چینی جہاز کا معاملہ - کوسٹ گارڈ نے کہا : ہندوستانی حدود کی خلاف ورزی نہیں ہوئی

دو دن قبل کمٹہ کے قریب ہندوستانی سمندری سرحد میں چینی جہاز کی موجودگی اور اس سے ساحلی سیکیوریٹی کو درپیش خطرے کے تعلق سے جو خبریں عام ہوئی تھیں اس پر کوسٹ گارڈ نے بتایا ہے کہ یہ ایک جھوٹی خبر تھی اور چینی جہاز ہندوستانی سرحد میں داخل نہیں ہوا تھا ۔

ہوناور کاسرکوڈ میں ماہی گیروں پر زیادتیوں کے خلاف حقوق انسانی کمیشن سے کی گئی شکایت

ہوناور کے کاسرکوڈ ٹونکا میں مجوزہ تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف احتجاج کرنے والے مقامی ماہی گیروں  پر پولیس کی طرف سے لاٹھی، خواتین سمیت کئی لوگوں کی گرفتاریاں ، جھوٹے مقدمات کی شکل میں جو زیادتیاں ہوئی تھیں، اس کے تعلق سے حقوق انسانی کمیشن سے شکایت کی گئی ہے ۔

بھٹکل میں 'ریت مافیا' کا دربار - تعلقہ انتظامیہ خاموش - عوام بے بس اور لاچار

بھٹکل میں تعلقہ انتظامیہ کی خاموشی کی وجہ سے تعلقہ کے گورٹے، بیلکے، جالی، مُنڈلی نستار، بئیلور جیسے علاقوں میں ساحل سے ریت جیسی سمندری دولت لوٹنے کا کام 'ریت مافیا' کی طرف سے بلا روک ٹوک جاری ہے اور مقامی عوام پریشانی اور بے بسی و لاچاری سے یہ سب دیکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔