اُڈپی میں چار افراد کے قاتل نے بنایا تھا ماسٹر پلان - پولیس تفتیش کے دوران سامنے آئیں تفصیلات

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 18th November 2023, 2:48 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

اڈپی  18/ نومبر (ایس او نیوز) ایک ماں اور چار بچوں کو چند لمحوں میں بڑی بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارنے والے وحشی قاتل پروین چوگلے سے کی جا رہی پولیس تفتیش کے دوران  جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اس نے اس واردات کے لئے پوری تیاری کی تھی اور ایک ماسٹر پلان کے تحت اسے انجام دیا تھا ۔

     معلوم ہوا ہے کہ پوری ریاست کو دہلا دینے والی اس واردات کے ملزم پروین چوگلے نے مہاراشٹرا کے محکمہ پولیس میں چند مہینے خدمات انجام دی تھی ۔ پھر اس کے بعد اس کی تقرری ایئر انڈیا کے 'کریو ممبر' کی حیثیت سے وہ منگلورو میں ملازم ہوگیا ۔ 

    شواہد چھپانے کا منصوبہ :    پولیس ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ مجرمانہ ذہنیت والے پروین چوگلے نے اس وحشیانہ قتل کے منصوبے میں اس بات کو سب سے زیادہ اہمیت دی تھی کہ اس کی شناخت اور اس کے خلاف کوئی ثبوت پولیس کے ہاتھ نہ لگے ۔ اسی وجہ سے اس نے قتل کی واردات انجام دینے کے مقصد سے منگلورو سے نیجارو تک پہنچنے اور پھر وہاں سے واپس لوٹنے کا سفر بڑی ہی منصوبہ بندی سے کیا تھا جس میں مرحلہ وار کار، موٹر بائک، بس اور آٹو رکشہ کا استعمال کیا گیا تھا ۔ اسی طرح واردات کے لئے استعمال کیا ہوا  چاقو، کپڑے اور اپنے بیگ کو بھی بڑی احتیاط سے سنبھال کر رکھا تھا ۔

    ٹول گیٹ سے ذرا دور پارک کی تھی کار :     12 نومبر کو بے رحمانہ قتل کی واردات انجام دینے کے لئے پروین چوگلے منگلورو سے اڈپی کے نجارو کی طرف سفر کرنے کے لئے اپنی کار میں گھر سے نکلتا ہے ۔ اس کے منصوبے میں یہ بات شامل ہے کہ منگلورو سے اس کے اُڈپی آنے کا کوئی ثبوت نہ رہے ، جبکہ کار اگر ٹول گیٹ سے گزرتی ہے تو پھر سی سی ٹی فوٹیج اس کے خلاف ایک بڑا ثبوت بن سکتا ہے ۔ اس لئے نیشنل ہائی وے 66 پر اس کے راستے میں ملنے والے ایک ٹول گیٹ یعنی ہیجماڈی ٹول پلازہ سے ذرا دور اس نے اپنی کار روکی ۔ 

    وہاں سے اس نے ایک بائک پر لفٹ لی ۔  پھر تھوڑی دور پہنچ کر اس نے اُڈپی کے سنتے کٹّے تک بس کا سفر کیا ۔ سنتے کٹّے بس اسٹاپ سے اس نے آٹو رکشہ لیا اور نجارو میں تروپتی لے آوٹ کے اس گھر تک پہنچ گیا جہاں اسے اپنی درندگی کا مظاہرا کرنا تھا ۔ 

    واردات انجام دینے کے بعد کا سفر :    تروپتی لے آوٹ پر واقع نور محمد کے گھر میں ایک ماں ، دو جوان بیٹیوں اور ایک کم عمر لڑکے کو بڑی بے دردی اور انتہائی سرعت کے ساتھ قتل کرنے اورایک عمر رسیدہ خاتون کو شدید زخمی کرنے کے بعد وہ بڑے اطمینان سے باہر نکلتا ہے ۔ چیخ و پکار سن کر باہر جھانکنے والی پڑوس کی ایک لڑکی کو چاقو سے دھمکانے کے بعد وہ علاقے سے بڑے آرام کے ساتھ نکلتا ہے ۔ سڑک سے گزر رہی ایک بائک پر لفٹ لیتا ہے ۔ سنتے کٹے  پہنچ کر وہاں سے آٹو رکشہ کے ذریعے  کراولی بائی پاس تک پہنچتا ہے ۔ پھر ایک بائک پر لفٹ لے کر وہ کینی مولکی تک پہنچتا ہے ۔ وہاں سے تھوڑی دور تک پیدل چلتا ہے ۔ پھر ایک بس کے ذریعے سفر کرتے ہوئے ہیجماڈی ٹول گیٹ تک آنے کے بعد وہاں سے اپنی پارک کی گئی کار پر سوار ہو کر منگلورو میں اپنے گھر کی طرف نکل جاتا ہے ۔ 

    قتل کے بعد پوری طرح مطمئن :    قتل انجام دینے کے بعد پیدل سفر کے وقت پروین کا جو چھوٹا سا سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب ہوا ہے اس میں وہ بڑے ہی اطمینان اور خود اعتمادی کے ساتھ سڑک سے گزرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔ کہیں بھی ایسا نہیں لگتا کہ یہ وہی  شخص ہے جس نے ابھی چند منٹ قبل ایک ہی خاندان کے چار افراد کا اتنے بھیانک انداز میں قتل کیا ہے ۔

    گھر والوں کے سامنے بالکل نارمل رہا :     گھر پہنچنے کے بعد پروین چوگلے نے اپنے کپڑوں پر لگے خون کے داغ  صاف کرتا ہے ۔ تقریباً دس منٹ تک گھر میں آرام کرتا ہے ۔ اس کے بعد منگلورو کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں پہنچ کر قاتلانہ واردات انجام دیتے وقت اپنے ہاتھ کی انگلی پر لگے ہوئے زخم کی ڈریسنگ اورعلاج کرواتا ہے ۔ پھر پلٹ کر گھر آنے کے بعد اپنی بیوی اور دو بچوں کو ساتھ لے کر ناشتہ کھانے کے لئے باہر جاتا ہے ۔ پورا دن گھر سے باہر گزارنے کے بعد شام 6 بجے اپنی فیمیلی کے ساتھ گھر واپس لوٹتا ہے ۔ اس دوران وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ بالکل ایک نارمل انسان کی طرح برتاو کرتا ہے ۔ خوفناک قتل کی واردات کو تقریباً 8-9 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی اس کے چہرے یا چال ڈھال سے کسی قسم کا پچھتاوا ، ڈر اور خوف، اضطراب جیسی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی ۔ 

    حیرت انگیز بات یہ بھی ہے :    پولیس تفتیش کے دوران ملزم پروین چوگلے اور اس کی مجرمانہ ذہنیت اور درندگی کے تعلق سے ایک حیرت انگیز بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اس نے انتہائی پیشہ ور قاتل کے انداز میں اور بہت ہی کم وقفے میں بے حد صفائی کے ساتھ چار افراد کو قتل کرنے کے بعد جائے واردات سے نکلنے سے پہلے خون کے داغ دھبے لگے ہوئے اپنے کپڑے بھی نہیں بدلے تھے ۔ اور یہ بھی تعجب کی بات ہے کہ چار افراد کو بیک وقت اور  بڑی سرعت کے ساتھ قتل کرنے کی وجہ سے گھر کے ہال میں خون کا تالاب بن گیا تھا جس میں چار لاشیں پوری طرح بھیگی ہوئی تھیں ۔ مگر قاتل پروین کے کپڑوں پر بس چند ہی خون کے داغ  لگے تھے ۔ 

    خون کے داغ کیسے چھپائے :    ملزم پروین چوگلے نے گھر سے باہر نکل کر واپسی کے لئے بائک کی لفٹ لینے، رکشہ اور بس سے سفر کرنے کے  دوران ایک ہاتھ میں اپنا بیگ پکڑ کر سینے کی طرف لگا رکھا تھا جس سے اس کا مقصد اپنے شرٹ پر لگے خون کے داغ چھپانا تھا ۔ پھر ہیجماڈی سے اپنی کار پر سوار ہونے کے بعد راستے میں ایک جگہ کار روک کر اس نے اپنے کپڑے کار کے اندر ہی تبدیل کیے تھے اور منصوبے کے مطابق بیگ میں ساتھ لائے ہوئے صاف کپڑے پہنے تھے ۔ 

     بیلگاوی میں دیوالی منانے کا پروگرام :    دیوالی کی چھٹیاں ہونے کی وجہ سے پروین نے تہوار منانے کے لئے بیلگاوی جانے کا پروگرام بنایا تھا ۔  چار معصوم لوگوں کا قتل انجام دینے کے باوجود اس نے اس پروگرام کے مطابق دوسرے دن یعنی 13 نومبر کی صبح اپنی کار میں بیوی اور دو بچوں کے ساتھ  بیلگاوی کے کوڈوچی کا سفر اختیار کیا ۔ وہاں اپنے   ایک رشتہ دار محکمہ باغبانی کے ریٹائرڈ افسر کے گھر پر دیپاولی کا تہوار منایا ۔

    کیسے پولیس کے ہاتھ لگا پروین چوگلے :        دوسری طرف محکمہ پولیس ایک ہی خاندان کے چار افراد کو چند منٹوں میں بے رحمانہ انداز میں قتل کرنے والے ملزم کی تلاش میں سرگرداں تھی ۔ کئی مشتبہ افراد کو تحویل میں لے کر تفتیش کی جا رہی تھی ۔ اس دوران  کچھ ایسے سراغ پولیس کے ہاتھ لگے تھے جس سے معلوم ہو رہا تھا کہ اس واردات میں پروین چوگلے کا ہی ہاتھ ہے ۔ اس لئے پولیس اس کا سراغ لگانے میں مصروف تھی ۔ اسی دوران پروین چوگلے نے بیلگاوی میں تہوار مناتے ہوئے کچھ دیر کے لئے اپنا موبائل فون سوئچ آن کیا ۔ بس اسی کے ساتھ موبائل ٹاور لوکیشن کے ذریعے پولیس نے اس مقام کی نشاندہی کرلی جہاں ملزم موجود تھا اور فوراً پروین چوگلے کو دبوچ لیا گیا ۔ 

    قتل میں استعمال شدہ چاقو کہاں ہے ؟ :     کسی بھی قتل کی واردات میں استعمال ہونے والا آلہ قتل انتہائی اہم اور بنیادی ثبوت ہوتا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نجارو میں ہوئے چار افراد کے قتل میں چاقو کا استعمال ہوا ہے ۔ مگر وہ چاقو یعنی آلہ قتل ابھی تک ہاتھ نہیں لگا ہے اور پولیس اس کی تلاش میں سرگرداں ہے۔  پولیس ذرائع کے مطابق ملزم پروین نے  تفتیش کے دوران بتایا تھا کہ اس نے قتل انجام دینے کے بعد چاقو کو اپنے بیگ میں محفوظ کر لیا ۔ پھر ہیجماڈی پہنچ کر کار میں سفر کرنے کے دوران ایک پُل کے نیچے پھینک دیا ۔ پھر اس نے اپنا بیان بدلتے ہوئے کہا کہ وہ چاقو اس نے اپنے گھر کے آس پاس ہی کہیں پھینکا ہے ۔ اس طرح پولیس تفتیشی ٹیم آلہ قتل ڈھونڈنے میں مصروف ہے مگر تا حال وہ چاقو بازیافت نہیں ہوا ہے ۔

    کیا آئیناز نے پروین کا نمبر بلاک کیا تھا ؟ :    پولیس تفتیش سے یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ پروین چوگلے کا اصل نشانہ اس کے ساتھ ایئر انڈیا میں ہوسٹیس کی ملازمت کر رہی نور محمد کی چھوٹی بیٹی آئیناز تھی ۔ مقتولہ آئیناز کے بھائی اسد نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ آئیناز کو پروین چوگلے ہراساں کر رہا تھا ۔ اس لئے اس نے چوگلے کا نمبر بلاک کر دیا تھا ۔ چوگلے کی ہراسانی کے بارے میں آئیناز نے گھر والوں کو اس خوف سے نہیں بتایا تھا کہ ایسی صورت میں والد صاحب اسے نوکری چھوڑنے کے لئے کہیں گے ۔ 

    انصاف کے ساتھ ہمیں تحفظ بھی چاہیے :     مقتولہ حسینہ کے بھائی کی بیٹی فاطمہ اصباح نے میڈیا والوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قتل کی وجہ سے صرف خاندان کے افراد ہی نہیں بلکہ پورے علاقے کے لوگ بے انتہا خوف اور دہشت میں پڑ گئے ہیں ۔ آس پاس کے کئی لوگ اس واردات کے گواہ ہیں ۔ وہ بھی یہاں رہنے سے خوف کھا رہے ہیں ۔ ہمیں انصاف کے ساتھ ساتھ قانونی طور پر تحفظ بھی دیا جانا چاہیے ۔  کچھ ایسے اقدامات ہونے چاہِئیں کہ میری بہنوں کے ساتھ جو ہوا ہے وہ پورے دیش میں کسی کے ساتھ بھی نہیں ہونا چاہیے ۔ اسی صورت میں میری بہنوں کو انصاف ملے گا ۔ 

    فاطمہ اصباح نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اس واردات میں قتل ہونے والوں کے وقار اور عزت کا خیال رکھا جائے ۔  میڈیا اور سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس میں جو جھوٹی خبریں شائع اور نشر ہو رہی ہیں اس کے خلاف پولیس کو کارروائی کرنی چاہیے ۔  

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں بارش سے گھروں کو پہنچے نقصانات کا جائزہ لینے تنظیم وفد کا متاثرہ علاقوں کا دورہ

   ہفتہ عشرہ سے  بھٹکل میں جاری زور دار بارش کے نتیجے میں کئی علاقوں میں مکانوں کو نقصان پہنچا ہے، جس کا جائزہ لینے آج پیر کو قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے ایک وفد نے   صدیق اسٹریٹ، نستار اور مخدوم کالونی علاقہ کا دورہ کیا اور تنظیم کی جانب سے ہرممکن تعاون کا یقین ...

انکولہ لینڈ سلائیڈ: بھٹکل اسکول ٹیمپو ڈرائیورس یونین نے پہاڑی کا ملبہ ہٹانے والے عملے میں تقسیم کیا کھانا

   انکولہ لینڈ سلائیڈ کے بعد  کیرالہ کے ارجن سمیت تین لاپتہ لوگوں  کی کھوج کرنے والے سو سے زائد  عملہ کو  آج بھٹکل اسکول ٹیمپو ڈرائیورس  یونین کی طرف سے  دوپہر کا کھانا تقسیم کیا گیا اور  کیرالہ سے خصوصی طور پر    ملبہ ہٹانے کے لئے پہنچے لوگوں کی ہمت بندھائی۔

نیشنل ہائی وے کا غیر سائنٹفک کام - این ای سی ایف نے مرکزی وزیر گڈکری کو بھیجا شکایتی مراسلہ

نیشنل ہائی وے کے مختلف مقامات پر چٹانیں اور زمین کھسکنے کے جان لیوا حادثات کے لئے شاہراہوں کے غیر سائنٹفک توسیعی کام کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے نیشنل اینوائرنمنٹ کیئر فیڈریشن (ین ای سی ایف) نے مرکزی وزیر برائے بری نقل و حمل نتین گڈکری کئی اہم سرکاری افسران کو شکایتی مراسلہ بھیجا ...

بینگلورو: دھوتی میں ملبوس کسان کو داخلہ نہ دینے کا معاملہ : حکومت نے دیا سات دن کے لئے مال بند کرنے کا حکم 

دو دن قبل بینگلورو کے ایک مال میں ایک عمر رسیدہ کسان اور اس کے اہل خانہ  کو اس وجہ سے داخلہ دینے سے انکار کیا گیا تھا کہ وہ کسان دھوتی میں ملبوس تھا ۔ اس واقعے کی ویڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد اس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی تھیں اور مال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا ۔ 

کرناٹک پرائیویٹ فرموں میں کناڈیگاس کے لیے 100فیصد کوٹہ لازمی کرنے والا بل منظور

کرناٹک کی کابینہ نے ایک بل کو منظور کیا ہے جس میں کننڈیگاس کو گروپ سی اور ڈی کے عہدوں کے لیے نجی شعبے میں 100 فیصد ریزرویشن لازمی قرار دیا گیا ہے،  وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہا۔یہ فیصلہ پیر کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔