بھٹکل میں حادثہ کرکے فرار ہونے والی لاری کا ابھی تک نہیں چلا پتہ؛ شیرالی چیک پوسٹ پرنہ سی سی ٹی وی ہے نہ ہی پولس اہلکار

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 29th November 2023, 10:22 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 29 / نومبر (ایس او نیوز) تعلقہ کے شیرالی میں نیشنل ہائی وے 66 پر موجود چیک پوسٹ سے ذرا سی دوری پر چار دن پہلے بائک اور لاری کے تصادم کی وجہ سے ایک نوجوان لڑکی کی جان چلی گئی تھی مگر اس پولیس چیک پوسٹ پرسی سی ٹی وی کیمرہ نہ ہونے کی وجہ سے بائک کو ٹکر مارنے والی لاری کی نشاندہی کرنا ممکن نہیں ہو رہا ہے۔

پولیس کے لئے تحقیقات میں ایک مشکل یہ بھی ہے کہ حادثہ دن کی روشنی میں پیش آنے کے باوجود موقع پرموجود افراد میں سے کوئی بھی اس لاری کی نشاندہی کرنے یا کوئی سراغ فراہم کرنے کے لئے آگے نہیں آرہا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا تھا اُس وقت چیک پوسٹ پر کوئی پولیس اہلکار موجود نہیں تھا۔ علاقے میں مجرمانہ سرگرمیوں پر روک تھام لگانے کے مقصد سے قائم کیے گئے چیک پوسٹ پر صبح  کے وقت پولیس اہلکار موجود نہ ہونے کا جو الزام لگ رہا ہے ، محکمہ پولیس کو اس کی پوری تحقیق کرنی چاہیے۔

عوام کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے شیرالی میں پولیس چیک پوسٹ پر عملہ بھی سرگرم رہتا تھا اور سی سی ٹی وی کیمرے میں باقاعدہ کام کرتے تھے ۔ جس کی وجہ سے کئی مرتبہ غیر قانونی سرگرمیوں اور جرائم پیشہ افراد پر گرفت کرنے میں پولیس کو کامیابی ملی تھی ۔ مگر اسمبلی الیکشن سے پہلے ہی سے یہاں پر سی سی ٹی وی نہ ہونے اور غیر قانونی سرگرمیوں پر روک لگانے کے سلسلے میں پولیس  مستعد نہ ہونے کی بات سننے میں آ رہی ہے ۔ 

پچھلے دنوں اسسٹنٹ کمشنر، پولیس افسران، محکمہ جنگلات کے افسران سمیت مختلف محکمہ جاتی افسران کی موجودگی میں قانون کے مطابق ریت کی سپلائی کی نگرانی کرنے والی 'سینڈ ٹاسک فورس' کی جو میٹنگ منعقد ہوئی تھی اس میں بھی پولیس چیک پوسٹ پر سی سی ٹی وی کیمرہ نہ ہونے کا مسئلہ زیرغور آیا تھا اور فوری طور پر یہاں کیمرے لگانے کی بات بھی طے کی گئی تھی۔  لیکن عملاً آج تک اس ضمن میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے ۔ 

عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ چیک پوسٹ پر کیمرے لگانا جتنا ضروری ہے اس سے زیادہ ان کیمروں کی مناسب دیکھ بھال کرنا اور کارکردگی کے لائق رکھنا ضروری ہے ، ورنہ عام طور پر سرکاری محکمہ جات میں کیمرے تو لگے رہتے ہیں مگر کچھ ہی عرصے میں وہ ناکارہ ہوتے یا کر دئے جاتے ہیں ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

کاروار کے سمندر میں لگا ہوا 'رڈار' بھی چوروں کے ہاتھ سے بچ نہ سکا !

زمین پر سے قیمتی مشینیں چرانے والوں نے اب سمندر میں اپنے ہاتھ کی صفائی دکھانا شروع کیا ہے جس کی تازہ ترین مثال ماحولیاتی تبدیلیوں کے سگنل فراہم کرنے کے لئے کاروار کے علاقے میں بحیرہ عرب میں لگائے گئے 'رڈار' کی چوری ہے ۔

کمٹہ کے سمندر میں چینی جہاز کا معاملہ - کوسٹ گارڈ نے کہا : ہندوستانی حدود کی خلاف ورزی نہیں ہوئی

دو دن قبل کمٹہ کے قریب ہندوستانی سمندری سرحد میں چینی جہاز کی موجودگی اور اس سے ساحلی سیکیوریٹی کو درپیش خطرے کے تعلق سے جو خبریں عام ہوئی تھیں اس پر کوسٹ گارڈ نے بتایا ہے کہ یہ ایک جھوٹی خبر تھی اور چینی جہاز ہندوستانی سرحد میں داخل نہیں ہوا تھا ۔

ہوناور کاسرکوڈ میں ماہی گیروں پر زیادتیوں کے خلاف حقوق انسانی کمیشن سے کی گئی شکایت

ہوناور کے کاسرکوڈ ٹونکا میں مجوزہ تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف احتجاج کرنے والے مقامی ماہی گیروں  پر پولیس کی طرف سے لاٹھی، خواتین سمیت کئی لوگوں کی گرفتاریاں ، جھوٹے مقدمات کی شکل میں جو زیادتیاں ہوئی تھیں، اس کے تعلق سے حقوق انسانی کمیشن سے شکایت کی گئی ہے ۔

بھٹکل میں 'ریت مافیا' کا دربار - تعلقہ انتظامیہ خاموش - عوام بے بس اور لاچار

بھٹکل میں تعلقہ انتظامیہ کی خاموشی کی وجہ سے تعلقہ کے گورٹے، بیلکے، جالی، مُنڈلی نستار، بئیلور جیسے علاقوں میں ساحل سے ریت جیسی سمندری دولت لوٹنے کا کام 'ریت مافیا' کی طرف سے بلا روک ٹوک جاری ہے اور مقامی عوام پریشانی اور بے بسی و لاچاری سے یہ سب دیکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔