کرناٹک میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ کی جیت کے جشن میں تقسیم کی گئی شراب، کانگریس نے جے پی نڈا سے مانگا جواب

Source: S.O. News Service | Published on 9th July 2024, 11:34 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 9/جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) کامیابی کا جشن منانا کوئی معیوب بات نہیں ہے لیکن اگر یہ جشن شراب کی بوتلیں تقسیم کر منائی جائیں تو عمل معیوب ضرور ہو جاتا ہے۔ اگر یہ جشن انتخابی کامیابی کا ہو تو عوامی سطح پر اس کے خلاف آواز بھی بلند ہوگی۔ ایسا ہی ایک معاملہ کرناٹک میں سامنے آیا ہے، جس میں ملک کی سب سے بڑی نام نہاد سنسکاری پارٹی کے کامیاب ہونے والے رکن پارلیمنٹ نے اپنی کامیابی کا جشن شراب کی بوتلیں بانٹ کر منائی ہیں۔ اس کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد کانگریس سخت حملہ آور ہو گئی ہے۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ کا نام ڈاکٹر کیشو سدھاکر ہے جو چکّابلّاپور سے منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی جیت کے جشن میں شراب کی بوتلوں کی تقسیم کی ہے۔ یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد ایک تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس معاملے میں بنگلورو دیہی ایس پی نے کہا کہ محکمہ آبکاری نے شراب پارٹی کی اجازت دی تھی۔ اس پروگرام میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کے سدھاکر موجود نہیں تھے۔ ان کی جیت کے جشن میں مختلف قسم کے ویج اور نان ویج کھانے کے علاوہ بیئر اور وہسکی کی بوتلیں تقسیم کی گئیں۔

دریں اثنا بنگلورو دیہی پولیس کا کہنا ہے کہ بی جے پی لیڈروں کو 11,500 روپے کی فیس ادا کرنے کے بعد ایک دن کا شراب کا لائسنس دیا گیا تھا۔ بی جے پی لیڈروں کو توقع تھی کہ اس پروگرام میں 15 سے 20 ہزار لوگ شرکت کریں گے لیکن معاملہ اس وقت خراب ہو گیا جب توقع سے زیادہ لوگ وہاں پہنچ گئے اور بیئر اور شراب کے حصول کے لیے لڑائی ہو گئی۔ اس معاملے پر اب ریاست میں حکمراں پارٹی کانگریس نے سخت حملہ کیا ہے۔

کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا اس معاملے پر وضاحت دیں۔ ہمیں مقامی لیڈروں سے کوئی وضاحت نہیں چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ عمل بی جے پی کی ثقافت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس پر قانونی کارروائی بعد کی بات ہے، پہلے بی جے پی کو اس پر بیان دینا چاہئے۔

اس دوران بی جے پی ایم پی ڈاکٹر کیشو سدھاکر نے کہا کہ میں نے یہ خبر میڈیا میں دیکھی، مجھے نہیں معلوم کہ شراب منتظمین نے دی تھی یا وہاں آنے والے لوگ لائے تھے۔ اس واقعہ سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مجھے بھی تکلیف ہے۔ کوئی بھی پروگرام ہو شراب تقسیم کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔ میں نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ ایسا نہ ہو۔

ایک نظر اس پر بھی

بینگلورو: دھوتی میں ملبوس کسان کو داخلہ نہ دینے کا معاملہ : حکومت نے دیا سات دن کے لئے مال بند کرنے کا حکم 

دو دن قبل بینگلورو کے ایک مال میں ایک عمر رسیدہ کسان اور اس کے اہل خانہ  کو اس وجہ سے داخلہ دینے سے انکار کیا گیا تھا کہ وہ کسان دھوتی میں ملبوس تھا ۔ اس واقعے کی ویڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد اس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی تھیں اور مال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا ۔ 

کرناٹک پرائیویٹ فرموں میں کناڈیگاس کے لیے 100فیصد کوٹہ لازمی کرنے والا بل منظور

کرناٹک کی کابینہ نے ایک بل کو منظور کیا ہے جس میں کننڈیگاس کو گروپ سی اور ڈی کے عہدوں کے لیے نجی شعبے میں 100 فیصد ریزرویشن لازمی قرار دیا گیا ہے،  وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہا۔یہ فیصلہ پیر کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔

اگر میرے بیٹے نے کوئی جرم کیا ہے تو پھانسی دے دو ؛پرجول ریونا کے والد ایچ ڈی ریونا کا بیان

جے ڈی ایس ایم ایل اے اور سابق وزیر ایچ ڈی۔ ریونا نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے پرجول ریوانا، جو کئی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں، اگر اس نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے پھانسی دی جانی چاہیے۔