کاروار: رکن اسمبلی ستیش سئیل کے ہاتھوں کاروار کے قریب بینگا نیشنل ہائی وے پر فلائی اوؤر اور سرنگ کا اجراء

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 6th June 2023, 9:17 PM | ساحلی خبریں |

کاروار: 6؍جون(ایس اؤ نیوز ) کاروار کے الی گدّے سے بینگا کے درمیان واقع  فورلین قومی شاہراہ کی  سرنگ اور فلائی اوؤر کا پانچ سال بعد بالاخر  نومنتخب رکن اسمبلی ستیش سئیل اور اترکنڑا  ڈپٹی کمشنرپربھو لنگ کولیکٹی نے اجراء کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتےہوئے رکن اسمبلی ستیش سئیل نے کہاکہ شہر سے گزرنے والی  قومی شاہراہ اور سرنگ روڈ کو عوام کے لئے وقف کرنا بہت ضروری تھا ۔کام جلدی ختم کرنے کے لئے آئی آر بی کمپنی پر دباؤ بنایاگیا ، آخر کار سرنگ کے دونوں جانب مسافروں کو گزرنے کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔ اس سےپہلے سرنگ نمبر 2 والا  روڈ اور فلائی اوؤر عوام کے لئے کھول دیاگیا تھا لیکن ایک طرفہ راہ داری ہونے سے سواریوں کے گزرنےمیں مسئلہ پیدا ہورہاتھا تو میں نے  اسی وقت مئی کے آخر یا جون میں سرنگ اور فلائی اوؤر کی  دوسری جانب بھی سواریوں کو گزرنے کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کیاتھا، اپنے وعدے کے مطابق جون کے پہلے ہفتہ میں ہی سرنگ اور فلائی اوؤر کو  سڑک کے دونوں جانب ٹرافک کے لئے کھول دیاگیا ہے۔ اس کام کے پورا ہونے میں اترکنڑا کے ڈپٹی کمشنر  پربھو لنگ کولیکٹی کا بہت بڑا تعاون حاصل رہاہے۔ اب عوام کی باری ہے کہ وہ بھی اس سلسلےمیں  تعاون کریں اور حادثات سے محفوظ ڈرائیونگ کریں۔ شہر میں داخل ہوتے وقت اور باہر نکلنے کے دوران سرویس روڈ کا استعمال کریں۔ اس سلسلے میں مزید حفاظتی اقدام کرتے ہوئے بائی پاس روڈ کے متعلق بھی غور کیاجارہاہے، اس سلسلےمیں ڈی سی کے ساتھ اور ایک مرتبہ سوچ بچار کرنےکےلئے ضروری کام کیاجائے گا  ۔ستیش سئیل نے عوام سے تعاون کی اپیل کی۔

ڈپٹی کمشنر  پربھولنگ کولیکٹی نے کہاکہ متعلقہ سرنگ کا کام مکمل ہوجاناچاہئے تھا، لیکن بعض مسائل کی وجہ سے دیری ہوئی ہے۔ فی الحال سرنگ  کو عوام  کے لئے کھول دیا گیا ہے لیکن کاروارسے انکولہ تک پانچ چھ  جگہوں پر گھماؤ والےکام پورا کرتےہوئے محفوظ نقل وحمل کو سہولت فراہم کرنا باقی ہے۔ اس سلسلےمیں رکن اسمبلی کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں بھی بات چیت ہوئی ہے اور متعلقہ ٹھیکیدار کمپنی کو ہدایت دی گئی ہے  کہ وہ جتنی جلد ہوسکے کام پوراکریں۔ ڈی سی نے بتایا کہ اب چونکہ بارش کا موسم شروع ہونےکو ہے اس دوران کہیں بھی روڈ پرپہاڑ کھسکنے یاپھر پتھروں کے گرنے والے حالات پیدا نہ ہوں اس تعلق سے پیشگی اقدامات کئے گئےہیں۔ اس کے باوجود  مزید  کہیں ایسے خطرے کے مقامات ہیں تو عوام کو چاہئے کہ وہ فوری طورپر ضلع انتظامیہ یا متعلقہ افسران کو مطلع کریں تاکہ  فوراً تحفظاتی کام  کیا جاسکے ۔ اس موقع پر کانگریس کے ضلعی صدر سائی گاؤنکر، بلاک کانگریس صدر سمیر نائک، کانگریس لیڈران شمبھو شٹی ، بالاجی سالونکے ، شیام سئیل، شیوانند نائک، آئی آر بی افسران وغیرہ موجود تھے۔

مزدور نے کاٹا فیتہ :سرنگ کا اجراء رکن اسمبلی ستیش سئیل یاڈی سی پربھو لنگ کولیکٹی کے ہاتھوں کرنے کے بجائے، آئی آر بی کمپنی کے ایک مزدور  کو ربن  کاٹنے کا موقع دیا گیا ۔ 1.57کلومیٹر لمبا فلائی اوؤر کا افتتاح کرنے کے بعددونوں جانب کی فی کس  390اور 330 میٹر لمبی سرنگ روڈ کااجراء کرنا تھا عین وقت پر ڈی سی اور رکن اسمبلی نے سرنگ کے اندر ایک جانب کام میں مشغول ایک  مزدور کو اپنے پاس بلایا اور ربن کاٹنے کہا۔ اچانک پیش آنے والے معاملے سے مزدور تھوڑا بہت تذبذب کا شکار ہوا ، لیکن جب دوسری بار اس کو بلایاگیا تو رکن اسمبلی کے پاس پہنچ کر ان کے ساتھ فیتہ کاٹا اور انہیں نمسکار کرتےہوئے نکل گیا۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں ایک گھنٹے کی بارش میں خراب ہوگیا ٹرانسفارمر؛ کئی علاقوں میں بجلی سروس متاثر؛24مئی تک سروس درست ہونے کی توقع

بھٹکل میں  منگل کی شام کو ہوئی قریب ایک گھنٹے کی بارش میں  تعلقہ کے ہیبلے میں واقع  پانچ میگا واٹ ایمپئر کا ٹرانسفارمر خراب ہوگیا جس کی وجہ سے   شام سے ہی بھٹکل اندھیرے میں ڈوب گیا۔ رات قریب دوبجے جب بجلی بحال ہوئی تو پھر بجلی کی انکھ مچولی  کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کے دوران پتہ ...

مرڈیشور میں سیاحوں کا بڑھتا ہوا ہجوم - گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے ناکافی انتظامات سے عوام پریشان

گرمیوں کی چھٹی کی وجہ سے مرڈیشور کے سیاحتی مرکز آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے اور خاص کرکے سنیچر اور اتوار کے دن یہاں پاوں رکھنے کے لئے جگہ نہیں مل رہی ہے ۔ ہوٹل، لاڈجنگ، ہوم اسٹے ہر جگہ کمرے پوری طرح فل ہو گئے ہیں جس سے سیاحوں کو قیام کے لئے دشواریوں سے ...

بھٹکل جالی پٹن پنچایت کی ادھوری عمارت - ضائع ہو رہے ہیں کروڑوں روپئے

تقریباً 9 سال پہلے بھٹکل   جالی گرام پنچایت  کا درجہ بڑھاتے ہوئے اُسے  پٹن پنچایت میں تبدیل کیا گیا تھا مگر آج تک پٹن پنچایت کے دفتر کی عمارت تعمیری مرحلے میں ادھوری پڑی ہے اور اس پر خرچ ہوئے ایک کروڑ روپے ضائع ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔