موٹر گاڑیوں کے لئے ہائی سیکوریٹی نمبر پلیٹ حاصل کرنے میں دشواری - آخری تاریخ میں توسیع کا امکان

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 10th February 2024, 7:49 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 10 / فروری (ایس او نیوز) سرکاری حکم کے مطابق یکم اپریل 2019 سے قبل رجسٹر کی گئی تمام قسم کی موٹر گاڑیوں کے لئے اب ہائی سیکوریٹی نمبر پلیٹ لازمی ہے، اور ایسی  گاڑیوں کی پرانے نمبر پلیٹ کی جگہ نئے نمبر پلیٹ لگانے کی آخری تاریخ 17 فروری ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب صرف چند ہی دنوں کی مہلت رہ گئی ہے جس کے بعد ایسے نمبر پلیٹ نہ لگی ہوئی گاڑیوں پر جرمانہ لاگو کر دیا جائے گا۔

نمبر پلیٹس بدلنے کی آخری تاریخ قریب آتے ہی موٹر گاڑی مالکان کی تشویش اور بھاگ دوڑ تیز ہو گئی ہے کیونکہ ہائی سیکوریٹی نمبر پلیٹس کے بغیر آئندہ ان گاڑیوں کی ملکیت یا رہائشی پتہ تبدیل کرنے، قسطوں کااگریمنٹ رجسٹریشن یا رد کرنے جیسی دوسری تمام خدمات حاصل کرنے کی اجازت نہیں رہے گی۔

ہائی سیکوریٹی رجسٹریشن پلیٹ موٹر گاڑیوں کے اصل ڈیلر کے پاس سے ہی حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے اس وجہ سے جن شہروں میں موٹر گاڑیوں کے مین ڈیلرموجود نہیں ہوں تو سب ڈیلر کے پاس  گاڑیاں خریدنے والوں کو پریشانیوں سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ بعض جگہ سب ڈیلرس کے ذریعے نمبر پلیٹ کے لئے آن لائن عرضی قبول کرنے سے انکار اور آن لائن آپشن بلاک کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔

حالانکہ موٹر گاڑی مالکان خود ہی ہائی سیکوریٹی نمبرپلیٹ کے لئے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں، لیکن ٹیکنیکل رکاوٹوں کی وجہ سے یہ کام بھی آسان نہیں ہوتا۔ جب پریشان حال موٹر گاڑی مالکان شو رومس اور آر ٹی او دفتروں کے چکر لگاتے ہیں تو آر ٹی او والے ہائی سیکوریٹی نمبر پلیٹس کے ساتھ اپنا تعلق نہ ہونے کی بات کہتے ہیں۔ ادھر آخری تاریخ قریب آنے کی وجہ سے آن لائن درخواستوں کے لئے ویب سائٹس پر ہجوم بڑھ گیا ہے اور سرور بزی ہونے کی مشکل سامنے آرہی ہے۔ 

کاروار کے آر ٹی او جان میسکویت کا کہنا ہے کہ موٹر گاڑی مالکان ہائی سیکیوریٹی نمبر پلیٹس کے لئے شو روم کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لئے مختص دو ویب سائٹس ہیں، اس پر آن لائن درخواست دی جا سکتی ہے۔ کاروار میں ایک گاڑی کا سب ڈیلر رہنے کے باوجود یہاں درخواست دینے کی گنجائش نہ رکھتے ہوئے کمپنی نے منگلورو اور اُڈپی میں اس کی سہولت دی ہے ۔ یہ موٹر کمپنی کی کوتاہی ہے۔ سب ڈیلرس کو عرضی قبول کرنے کی سہولت نہ دینا بھی اس مسئلہ کا اہم سبب بن گیا ہے۔

اس معاملے میں عام شہریوں کے ساتھ سرکاری افسران کو کس قسم کی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کا بات کا اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ انکولہ کے ایک جج نے آر ٹی او دفتر کے آفیسر کو طلب کرکے اپنی گاڑی کے لئے ہائی سیکیوریٹی نمبر پلیٹ حاصل کرنے میں ہو رہی دشواری بتائی ہے۔ رجسٹریشن پلیٹ حاصل کرنے کے سسٹم کی اس خرابی کی سزا ہر قسم کی موٹر گاڑی مالکان کو بھگتنی پڑ رہی ہے۔ 

موٹر گاڑی مالکان کی طرف سے مانگ کی جا رہی ہے کہ ہائی سیکیوریٹی نمبر پلیٹس کا نظام درست ہونے اور گاڑی مالکان کو آسانی سے نمبر پلیٹس دستیاب ہونے تک پرانے نمبر پلیٹس کی گاڑیوں پرجرمانہ نہ لگایا جائے اورنمبر پلیٹ لگوانے کی تاریخ میں توسیع کی جائے۔

سمجھا جاتا ہے کہ سرکاری موٹرگاڑیوں ، کے ایس آر ٹی سی بسوں وغیرہ کے لئے اب تک ہائی سیکیوریٹی نمبر پلیٹس نہیں لگے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ وزیر نقل و حمل رام لنگا ریڈی نے بھی سرکاری افسران کی میٹنگ طلب کرکے تاریخ میں توسیع کے سلسلے میں بات چیت کی ہے ۔ اس لئے آخری تاریخ میں مزید توسیع کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار کے سمندر میں لگا ہوا 'رڈار' بھی چوروں کے ہاتھ سے بچ نہ سکا !

زمین پر سے قیمتی مشینیں چرانے والوں نے اب سمندر میں اپنے ہاتھ کی صفائی دکھانا شروع کیا ہے جس کی تازہ ترین مثال ماحولیاتی تبدیلیوں کے سگنل فراہم کرنے کے لئے کاروار کے علاقے میں بحیرہ عرب میں لگائے گئے 'رڈار' کی چوری ہے ۔

کمٹہ کے سمندر میں چینی جہاز کا معاملہ - کوسٹ گارڈ نے کہا : ہندوستانی حدود کی خلاف ورزی نہیں ہوئی

دو دن قبل کمٹہ کے قریب ہندوستانی سمندری سرحد میں چینی جہاز کی موجودگی اور اس سے ساحلی سیکیوریٹی کو درپیش خطرے کے تعلق سے جو خبریں عام ہوئی تھیں اس پر کوسٹ گارڈ نے بتایا ہے کہ یہ ایک جھوٹی خبر تھی اور چینی جہاز ہندوستانی سرحد میں داخل نہیں ہوا تھا ۔

ہوناور کاسرکوڈ میں ماہی گیروں پر زیادتیوں کے خلاف حقوق انسانی کمیشن سے کی گئی شکایت

ہوناور کے کاسرکوڈ ٹونکا میں مجوزہ تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف احتجاج کرنے والے مقامی ماہی گیروں  پر پولیس کی طرف سے لاٹھی، خواتین سمیت کئی لوگوں کی گرفتاریاں ، جھوٹے مقدمات کی شکل میں جو زیادتیاں ہوئی تھیں، اس کے تعلق سے حقوق انسانی کمیشن سے شکایت کی گئی ہے ۔

بھٹکل میں 'ریت مافیا' کا دربار - تعلقہ انتظامیہ خاموش - عوام بے بس اور لاچار

بھٹکل میں تعلقہ انتظامیہ کی خاموشی کی وجہ سے تعلقہ کے گورٹے، بیلکے، جالی، مُنڈلی نستار، بئیلور جیسے علاقوں میں ساحل سے ریت جیسی سمندری دولت لوٹنے کا کام 'ریت مافیا' کی طرف سے بلا روک ٹوک جاری ہے اور مقامی عوام پریشانی اور بے بسی و لاچاری سے یہ سب دیکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔