کرناٹک اسمبلی میں وزیراعلیٰ سدرامیا نے کہا؛ جنتا دل 'ایس' نہیں جنتا دل 'سی' ہے یعنی جنتادل کمیونل پارٹی !

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 23rd February 2024, 8:23 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو 23 فروری (ایس او نیوز)  بنگلورو کے اساتذہ کے حلقہ سے پانچویں بار جیتنے والے پُٹنّا کی حلف برداری کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ سیکولر جنتا دل اب جے ڈی "ایس" نہیں بلکہ  جے ڈی 'سی' بن گئی ہے ۔       وزیر اعلیٰ نے جے ڈی ایس کے بھوجے گوڑا سے پوچھا : "کیا آپ جانتے ہیں کہ کویمپو نے کیا کہا ہے؟"

بھوجے گوڑا نے جواب دیا، 'تمام نسلوں کے لیے امن کا باغ' ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہاں وہ بھی ہے ، لیکن  کویمپو نے "سرودیا یا سروالی" بھی کہا ہے۔ پھر بھوجے گوڑا نے کویمپو کے بارے میں بات جاری رکھی ۔ اس پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جے ڈی ایس اب بی جے پی کے ساتھ چلی گئی ہے۔ تم وہاں کیا کر رہے ہو؟  اب سیکولر جنتا دل جے ڈی 'ایس' نہیں، جے ڈی 'سی'  ہوگئی ہے ۔

 اس دوران کانگریس کے ارکان نے فقرہ کستے ہوئے  کہا کہ "C" کا مطلب کمیونل، یعنی فرقہ وارانہ ہے ۔ 

    اس کے جواب میں بی جے پی کے روی کمار نے کہا کہ بھوجے گوڑا کو پتہ ہے کہ تم لوگوں سے کچھ نہیں ہوگا اس لئے وہ ہمارے ساتھ آئے ہیں ۔
 
    وزیر اعلیٰ  نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پٹنا کی جیت لوک سبھا انتخابات کے لیے ایک کمپاس کی طرح ہے۔ اس انتخاب میں ہم کم از کم 20 سیٹیں جیتیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی جھوٹ بول رہی ہے کہ ہم 28 سیٹیں جیتیں گے۔ 25 جیتنے والے ہم لوگوں کے لیے 25 کی جگہ پر 28  کہنے میں کیا حرج ہے؟ ہم جھوٹ نہیں بول رہے ہیں ۔ اس دوران کوٹا سری نواس پجاری نے وزیر اعلیٰ کو چھیڑتے ہوئے  کہا کہ آپ اس کے اہل ہیں، اس لئے آپ ہی پارلیمنٹ میں چلے جائیں ۔ اس پر پلٹ وار کرتے ہوئے  وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ  میں اسمبلی کے لئے بھی اہل ہوں، پارلیمنٹ کے لئے بھی اہل ہوں اور اگر کوئی انٹرنیشنل پارلیمنٹ ہے تو میں اس کے لئے بھی اہل ہوں ۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی نے کانگریس ایم ایل اے کو 50 کروڑ روپے کی پیشکش کی؛ سدارامیا کا الزام

کرناٹک کے وزیر اعلی سدارامیا نے ہفتہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگایا کہ وہ کانگریس کے اراکین اسمبلی کو وفاداری تبدیل کرنے کے لیے 50 کروڑ روپے کی پیشکش کرکے 'آپریشن لوٹس' کے ذریعے انکی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں ملوث ہے۔

لوک سبھا انتخاب 2024: کرناٹک میں کانگریس کو حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ ہے

کیا بی جے پی اس مرتبہ اپنی 2019 لوک سبھا انتخاب والی کارکردگی دہرا سکتی ہے؟ لگتا تو نہیں ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ اول، ریاست میں کانگریس کی حکومت ہے، اور دوئم بی جے پی اندرونی لڑائی سے نبرد آزما ہے۔ اس کے مقابلے میں کانگریس زیادہ متحد اور پرعزم نظر آ رہی ہے اور اسے بھروسہ ہے ...

تعلیمی میدان میں سرفہرست دکشن کنڑا اور اُڈپی ضلع کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

ریاست میں جب پی یوسی اور ایس ایس ایل سی کے نتائج کا اعلان کیاجاتا ہے تو ساحلی اضلاع جیسےدکشن کنڑا  اور اُ ڈ پی ضلع سر فہرست ہوتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ساحلی ضلع جسے دانشوروں کا ضلع کہا جاتا ہے نے ریاست میں بہترین تعلیمی کارکردگی حاصل کی ہے۔

این ڈی اے کو نہیں ملے گی جیت، انڈیا بلاک کو واضح اکثریت حاصل ہوگی: وزیر اعلیٰ سدارمیا

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے ہفتہ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ لوک سبھا انتخاب میں این ڈی اے کو اکثریت نہیں ملنے والی اور بی جے پی کا ’ابکی بار 400 پار‘ نعرہ صرف سیاسی اسٹریٹجی ہے۔ میسور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سدارمیا نے یہ اظہار خیال کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ...