انتخابات قریب آتے آتے جے ڈی ایس اور بی جے پی کو لگا زبردست جھٹکہ، چکبالاپور کے سابق رکن اسمبلی کےپی بچے گوڑا نے کیا کانگریس میں شامل ہونے کا اعلان

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 1st April 2024, 12:42 AM | ریاستی خبریں |

چکبالاپور، 31 مارچ (تمیم پاشاہ/ایس او نیوز)کرناٹک میں پارلیمانی انتخابات جیسے جیسے قریب آتے جا رہے ہیں سیاستدان دل بدلنے کے کام میں لگ گئے  ہیں مگر ان میں بعض لیڈران ایسے بھی ہیں جو اپنے وفاداروں اور کارکنوں کے مفادات کے مد نظر دل بدلی کرنے پر مجبور ہیں۔

پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی سے ہاتھ  ملانے والی جی ڈی ایس پارٹی کو دن بدن اپنے فیصلے کا  خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے کیونکہ پارٹی کے قدیم لیڈرس اور سابقہ اراکین اسمبلی، سابق وزیر اعلی اورسابق وزیر اعظم کے فیصلے سے ناراض ہو کر اپنی قدیم پارٹی  کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ 

وزیر اعلی سدرامیا جو  خود چونکہ پہلے جنتا پریوارکا حصہ تھے، وہاں سے کنارہ کشی کرتے ہوئے کانگرس میں شمولیت اختیار کی تھی جس کے بعد انہیں دو مرتبہ وزیر اعلی بننے کا شرف بھی حاصل ہوا اب وہ اپنے پرانے ساتھیوں کوبھی  اپنے ساتھ کانگریس میں شامل کرانے کی کوششوں میں لگ گئے ہیں اورجے ڈی ایس کا بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے بعد سدرامیان کو  موقع مل گیا ہے کہ   اپنے پرانے سیکولر ساتھیوں کو  اپنی پارٹی میں شامل کرائیں۔

؎اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر چکبالاپور کے سابق رکن اسمبلی  کے پی بچے گوڑا نے جے ڈی ایس پارٹی کو خیرباد کردیا ہے اوراپنے ہزاروں حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شامل ہونے کااعلان کیا ہے۔ اتوار کو انہوں نے وزیراعلی سدا رمیّا سے ملاقات کرتے ہوئے عنقریب کانگرس پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کا انکشاف کیا جس کا وزیر اعلی نے خیر مقدم کرتے ہوئےاپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کرناٹک میں 20 سے زائد پارلیمانی حلقوں میں کامیابی درج کرے گی۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعلی ایچ ڈی کمار سوامی نے جب سے بی جے پی کا ہاتھ تھاما ہے، جے ڈی ایس کے لیڈران اُس کی پرزور مخالفت کرتے دیکھے گئے ہیں۔ اسی کے نتیجے میں چکبالاپور کے سابق رکن اسمبلی  کے پی بچے گوڑا نے بھی جنتا پریوار سے ناطہ توڑ کر اب کانگریس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے ان کے اس فیصلے سے نہ صرف جے ڈی ایس بلکہ بی جے پی کے امیدوار ڈاکٹر کے سدھاکر کو بھی کرارا جھٹکا لگا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی نے کانگریس ایم ایل اے کو 50 کروڑ روپے کی پیشکش کی؛ سدارامیا کا الزام

کرناٹک کے وزیر اعلی سدارامیا نے ہفتہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگایا کہ وہ کانگریس کے اراکین اسمبلی کو وفاداری تبدیل کرنے کے لیے 50 کروڑ روپے کی پیشکش کرکے 'آپریشن لوٹس' کے ذریعے انکی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں ملوث ہے۔

لوک سبھا انتخاب 2024: کرناٹک میں کانگریس کو حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ ہے

کیا بی جے پی اس مرتبہ اپنی 2019 لوک سبھا انتخاب والی کارکردگی دہرا سکتی ہے؟ لگتا تو نہیں ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ اول، ریاست میں کانگریس کی حکومت ہے، اور دوئم بی جے پی اندرونی لڑائی سے نبرد آزما ہے۔ اس کے مقابلے میں کانگریس زیادہ متحد اور پرعزم نظر آ رہی ہے اور اسے بھروسہ ہے ...

تعلیمی میدان میں سرفہرست دکشن کنڑا اور اُڈپی ضلع کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

ریاست میں جب پی یوسی اور ایس ایس ایل سی کے نتائج کا اعلان کیاجاتا ہے تو ساحلی اضلاع جیسےدکشن کنڑا  اور اُ ڈ پی ضلع سر فہرست ہوتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ساحلی ضلع جسے دانشوروں کا ضلع کہا جاتا ہے نے ریاست میں بہترین تعلیمی کارکردگی حاصل کی ہے۔

این ڈی اے کو نہیں ملے گی جیت، انڈیا بلاک کو واضح اکثریت حاصل ہوگی: وزیر اعلیٰ سدارمیا

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے ہفتہ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ لوک سبھا انتخاب میں این ڈی اے کو اکثریت نہیں ملنے والی اور بی جے پی کا ’ابکی بار 400 پار‘ نعرہ صرف سیاسی اسٹریٹجی ہے۔ میسور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سدارمیا نے یہ اظہار خیال کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ...