کیا کمٹہ کے اسپتال میں بھی اسقاط حمل اور بچہ فروشی کا دھندا ہوتا ہے؟

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 1st December 2023, 12:46 AM | ساحلی خبریں |

کاروار 30 / نومبر (ایس او نیوز) ریاست میں مادہ جنین (حمل) ساقط کرنے پرمکمل پابندی رہنے کے باوجود حال ہی میں بینگلورو سے رحم میں مادہ جنین کی نشاندہی کرنے اوراس کے بعد حمل گرانے والے ریکیٹ کا جوپردہ فاش ہوا ہے اس سے پوری ریاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔

اس دوران اتر کنڑا کے شہر کمٹہ سے بھی خبر ملی ہے کہ یہاں کے ایک اسپتال میں بھی اسقاط حمل یا ابارشن کا دھندا بڑے پیمانے پر چلتا ہے جس میں ناجائز تعلقات کی وجہ سے حاملہ ہونے والی غیر شادی شدہ لڑکیوں یا خواتین کا حمل گرانے یا پھر زچگی کروانے کے بعد بچے کو فروخت کرنے یا پھر مادہ جنین کی نشاندہی کرنے کے بعد غیر قانونی طورپراسے ساقط کرنے کا کام انجام دیا جاتا ہے ۔

کاروار سے شائع ہونے والے ایک کنڑا روزنامہ میں شائع رپورٹ کے مطابق کمٹہ کے اس اسپتال پر الزامات کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب دو تین دن پہلے کمٹہ کی ہی ایک نوجوان غیر شادی شدہ لڑکی حاملہ ہوگئی۔ مگر اس کے والدین بیلگاوی میں رہتے تھے۔ وہاں پر حمل ساقط کرنے کا موقع نہ رہنے کی وجہ سے وہ لوگ اپنی بیٹی کا حمل گرانے کے لئے کمٹہ کے متعلقہ اسپتال پہنچے۔ اس لڑکی کے پیٹ میں آٹھ مہینے کی بچی تھی۔ ڈاکٹروں نے بڑی فیس وصول کرنے کے مقصد سے حمل گرانے کا قدم اٹھایا اور وقت سے پہلے اس کی زچگی کروائی مگر خوش قسمتی سے بچی پوری طرح تندرست اور زندہ برآمد ہوئی۔ مجبوراً ڈاکٹروں نے اس نوزائیدہ بچی کو علاج کے لئے کاروار کے اسپتال میں منتقل کیا ۔ یہ خبر عام ہونے کے بعد چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے ذمہ داران نے مداخلت کی اور بچی کو اپنے تحفظ میں لیتے ہوئے اس کے علاج کا انتظام کیا۔

کہا جاتا ہے کہ اسی طرح کمٹہ کے ہندیگون کی رہنے والی ایک اور نوجوان غیر شادی شدہ لڑکی حاملہ ہوگئی تو اس نے بھی مبینہ طورپراسی  اسپتال کا رخ کیا ۔ اس کے پیٹ میں لڑکا تھا جسے پوری مدت کے بعد زچگی کے ذریعے جنم دیا گیا تھا اور اس بچے کو ممبئی کے ایک ضرورت مند کے ہاتھ فروخت کرنے کی تیاری کی گئی تھی ۔ لیکن عین وقت پر چائلڈ پروٹیکشن یونٹ نے مداخلت کی اور بچے کو فروخت ہونے سے بچا لیا۔

عوام میں یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ حمل ساقط کرنے یا بچہ فروشی کا یہ کاروبار صرف کمٹہ کے ایک ہی اسپتال تک محدود نہیں ہے ۔ بہت سے دوسرے ڈاکٹرس اور اسپتال بھی موٹی کمائی کے لالچ میں اس کالے دھندے میں شامل ہوگئے ہیں، مگر قانون کے شکنجے سے ابھی دور ہیں۔

اس کاروبار میں مبینہ طور پر جو طریقہ اپنایا جاتا ہے اس کے مطابق غیر شادی شدہ لڑکیاں جب حاملہ ہوتی ہیں اورایسی لڑکیاں، خواتین یا اس کاروبار کے دلال ان ڈاکٹروں سے رابطہ کرتے ہیں تو یہ ڈاکٹرس اسکیاننگ کے ذریعے حمل یا جنین کی جنس معلوم کرتے ہیں۔ پھر ضرورت مند بے اولاد جوڑوں سے رابطہ رکھنے والے دلالوں کو حمل کے تعلق سے معلومات فراہم کرتے ہیں ۔ اگر بچہ خریدنے کے لئے گاہک تیار ہوجاتا ہے تو پھر حمل گرانے کے لئے آنے لوگوں کو ڈرایا اور سمجھایا جاتا ہے کہ ابارشن کی صورت میں متعلقہ لڑکی یا خاتون کی جان کو خطرہ ہے اس لئے حمل کی مدت پوری کرکے زچگی کروانا ہوگا اس کے بعد بچہ کسی اور کو دے دیا جائے گا۔ پھر حمل کی مدت پوری ہونے کے بعد بچہ پیدا ہونے پر اس بچے کو فروخت کرکے موٹی کمائی کی جاتی ہے۔

یہ بھی پتہ چلا ہے کہ بعض اسپتالوں میں عام شادی شدہ خواتین کے جنین کی بھی جانچ کی جاتی ہے اور پیٹ میں مادہ جنین ہونے کی صورت میں غیر قانونی طور پر ابارشن کیا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ضلع محکمہ صحت کے افسران کو ان معاملات کی گہری جانچ کرنی چاہیے اور قصوروار ڈاکٹرس اور اسپتالوں کے خلاف کٹھن کارروائی کرنی چاہیے  تاکہ جنم لینے سے قبل ہی رحم کے اندر لڑکیوں کو مار دینے کا سلسلہ اب اور آگے نہ بڑھے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار کے سمندر میں لگا ہوا 'رڈار' بھی چوروں کے ہاتھ سے بچ نہ سکا !

زمین پر سے قیمتی مشینیں چرانے والوں نے اب سمندر میں اپنے ہاتھ کی صفائی دکھانا شروع کیا ہے جس کی تازہ ترین مثال ماحولیاتی تبدیلیوں کے سگنل فراہم کرنے کے لئے کاروار کے علاقے میں بحیرہ عرب میں لگائے گئے 'رڈار' کی چوری ہے ۔

کمٹہ کے سمندر میں چینی جہاز کا معاملہ - کوسٹ گارڈ نے کہا : ہندوستانی حدود کی خلاف ورزی نہیں ہوئی

دو دن قبل کمٹہ کے قریب ہندوستانی سمندری سرحد میں چینی جہاز کی موجودگی اور اس سے ساحلی سیکیوریٹی کو درپیش خطرے کے تعلق سے جو خبریں عام ہوئی تھیں اس پر کوسٹ گارڈ نے بتایا ہے کہ یہ ایک جھوٹی خبر تھی اور چینی جہاز ہندوستانی سرحد میں داخل نہیں ہوا تھا ۔

ہوناور کاسرکوڈ میں ماہی گیروں پر زیادتیوں کے خلاف حقوق انسانی کمیشن سے کی گئی شکایت

ہوناور کے کاسرکوڈ ٹونکا میں مجوزہ تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف احتجاج کرنے والے مقامی ماہی گیروں  پر پولیس کی طرف سے لاٹھی، خواتین سمیت کئی لوگوں کی گرفتاریاں ، جھوٹے مقدمات کی شکل میں جو زیادتیاں ہوئی تھیں، اس کے تعلق سے حقوق انسانی کمیشن سے شکایت کی گئی ہے ۔

بھٹکل میں 'ریت مافیا' کا دربار - تعلقہ انتظامیہ خاموش - عوام بے بس اور لاچار

بھٹکل میں تعلقہ انتظامیہ کی خاموشی کی وجہ سے تعلقہ کے گورٹے، بیلکے، جالی، مُنڈلی نستار، بئیلور جیسے علاقوں میں ساحل سے ریت جیسی سمندری دولت لوٹنے کا کام 'ریت مافیا' کی طرف سے بلا روک ٹوک جاری ہے اور مقامی عوام پریشانی اور بے بسی و لاچاری سے یہ سب دیکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔